وزیرِ اطلاعات کے منہ میں گھی شکر

رحمتوں اور برکتوں کے مہینے کی آمد آمد ہے۔ تین چار دنوں کے بعد پاکستان کے ساتھ ساتھ سارا عالمِ اسلام فیوض و برکات کے...


Tanveer Qaisar Shahid July 07, 2013
[email protected]

KARACHI: رحمتوں اور برکتوں کے مہینے کی آمد آمد ہے۔ تین چار دنوں کے بعد پاکستان کے ساتھ ساتھ سارا عالمِ اسلام فیوض و برکات کے ایک ایک لمحے سے مستفید ہو گا۔ تقریباً چودہ گھنٹے پر محیط روزہ ایک بڑی آزمائش تو ہو گا لیکن خداوندِ کریم جسے توفیق بخشے گا، وہ مسکراتا ہوا پُر آزمائش لمحات میں سرخرو ہو جائے گا۔ سمجھ میں نہ آنے والی ایک خوشی ہے جس نے ماہِ صیام کی آمد آمد پر دل و جاں کو مسحور اور محصور کر رکھا ہے۔

ارشادِ گرامی ہے کہ روزے کے مہینے میں شیطان جکڑ لیے جاتے ہیں لیکن یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ابھی سے بازاروں میں ہر قابلِ خوردنی شے کا نرخ دگنا چوگنا بڑھا دیا ہے، روزہ رکھنے والوں کے لیے دانستہ مشکلات پیدا کرنے والے یہ بلیک میلر عناصر دندناتے ہوئے حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر رہے ہیں لیکن کوئی ہاتھ کسی بھی ظالم اور جفا جُو تاجر کی گردن ناپنے کے لیے آگے بڑھتا دکھائی نہیں دے رہا۔ بہانے یہ تراشتے جا رہے ہیں: کیا کریں جی، نواز شریف سے پوچھیں جنہوں نے ٹیکس بڑھا کر ہماری تو کمر توڑ دی ہے۔ نہ جانے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ صرف دکانداروں اور تاجروں کی کمر کیسے ٹوٹ جاتی ہے؟ بے چارے اور مظلوم تنخواہ دار طبقے کی بدحالی اور مظلومیت کی بات کوئی نہیں کرتا جس سے ٹیکس تنخواہ کی ادائیگی سے قبل کاٹ لیا جاتا ہے اور جو کسر رہ جاتی ہے، تاجر حضرات اُس کی جیب کاٹ لے جاتے ہیں۔ اب لُٹی ہوئی اِسی جیب سے سحری اور افطاری کا اہتمام ہو گا۔

جیسے بدن سے نکلی روح کو واپس نہیں لایا جا سکتا، کچھ ایسے ہی مہنگی ہونے والی اشیاء کے نرخوں کو بھی ریورس گیئر نہیں لگایا جا سکتا۔ اِس ضمن میں حکومت زرداری صاحب کی ہو یا نواز شریف کی، مظلوم عوام کے نزدیک ایک جیسی اہمیت کا درجہ رکھتی ہے۔ بس چہرے بدل جاتے ہیں اور عوام کے مسائل اور مصائب نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں قتل و غارت گری کا میدان پہلے کی طرح اب بھی گرم ہے، اغوا کاری کی وارداتوں میں کمی نہیں آئی، کراچی کی قتل گاہوں کی ''رونقیں'' بدستور قائم ہیں، فاٹا کے مظلوم علاقے امریکی ڈرون حملے سے اُسی طرح گونج رہے ہیں جیسے یوسف گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے دَور میں گونجا کرتے تھے،توانائی کا بحران ابھی تک جاری ہے، ریل گاڑیاں بدستور عوام کی بے حُرمتی کر رہی ہیں، خودکش بمباروں کی وحشتوں میں کوئی کمی نہیں آئی، کار خانے اُجڑ رہے ہیں اور ......

ایسی فضا میں رمضان المبارک کا مہینہ نزول کر رہا ہے۔ حبس میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی کمیابی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں انسانوں کی پیدا کردہ یہ نعمت پاکستان میں کس نے چُرا لی ہے؟ وزیرِ اعظم اور اُن کے برادرِ خورد، دونوں ہی محسنِ پاکستان چین جا کر سلسلۂ جنبانی کر رہے ہیں۔ مژدۂ جانفزا سنایا جا رہا ہے کہ کچھ ہی عرصے میں بجلی کی نعمت وافر مقدار میں واپس آ جائے گی۔ عوام تو اب اتنے بے زار ہیں کہ وہ کہتے ہیں جہنم میں جائے بھارت کی پاکستان سے دشمنی، ہمیں بھارت ہی سے بجلی لے دیجیے۔ نہ جانے بھارت، جسے رام کرنے کے لیے ہمارے وزیرِ اعظم کے ایک خصوصی ایلچی نے گزشتہ روز ہی من موھن سنگھ سے میٹھی میٹھی باتیں کیں اور اُنہیں نواز شریف کا خصوصی پیغام پہنچایا، ہمارے کشکول میں بجلی ڈال کر ہماری محرومیاں کب دور کرتا ہے۔ اِن لمحات میں ہمارے وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید نے یہ خوش خبری سنائی ہے کہ رمضان شریف کے دوران سحری، افطاری اور تراویح کے مواقع پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ ایسے خوش کُن اعلان پر عوام کی طرف سے سینیٹر پرویز صاحب کے منہ میں گھی اور شکر۔

بے پناہ حبس اور بجلی کی کمیابی کے اِن لمحات میں اس اعلان سے کروڑوں پاکستانیوں کے قلب و ذہن کو یک گونہ اطمینان ملا ہے۔ خدا کرے اِس اعلان پر سنجیدگی سے عمل ہوتا رہے اور یہ اعلانِ روح افزا کہیں اعلانِ روح فرسا نہ بن جائے۔ خصوصاً مساجد میں خوشی اور مسرت کے شادیانے سے بج اُٹھے ہیں کہ اب سکون اور اطمینان سے تراویح ادا کی جا سکیں گی۔ سحری کے وقت اندھیرے میں یا موم بتی کی کمزور روشنی میں برتنوں اور انسانوں کا تصادم نہیں ہو گا۔ اور بجلی کی موجودگی میں روزہ دار قلبی اطمینان کے ساتھ افطار کے روحانی لُطف سے فیض یاب ہو سکیں گے۔ سینیٹر پرویز رشید صاحب، خدا اُن کے دنیا و دین کے درجات بلند فرمائے، اندازہ نہیں کر سکتے کہ ابھی رمضان المبارک تو نصف ہفتے کے فاصلے پر کھڑا ہے لیکن ہم غریب غربا اور مہنگائی کے مارے عوام اُن کے اعلان سے کس قدر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

یاد رکھا جائے وعدوں کی ایک تقدیس ہوتی ہے۔ وعدہ شکن یا وعدہ فراموش کی اللہ کے ہاں اور عوام کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رہتی، اگرچہ ہمارے ہاں اب بھی ایسے مقتدر انسان موجود ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ توڑنے کو اپنی چالاکی سمجھا اور ساتھ ہی دھڑلے سے یہ بھی کہا: ''وعدہ؟ کونسا وعدہ؟ رات گئی، بات گئی۔'' پھر عوام نے گیارہ مئی کو اُنہیں راندۂ درگاہ قرار دے ڈالا۔ چنانچہ ہم اپنے وزیرِ اطلاعات صاحب سے خصوصاً عرض گزار ہیں: قبلہ، رمضان المبارک میں ہر روز تین اہم مواقع پر بجلی کی مسلسل ترسیل کا وعدہ کیا ہے تو اِسے نبھانا بھی پڑے گا۔ خدا نخواستہ اِس سے انحراف کیا گیا یا اُن کے اعلان کے آگے کسی نے کجروی کا مظاہرہ کیا تو اگلے پانچ برس اِس کا کفارہ ادا نہ کیا جا سکے گا۔ نواز شریف حکومت نے جس طرح سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا تعاقب کر کے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، ہمیں امید کرنی چاہیے کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات بھی اپنا وعدہ ایفا کریں گے اور بجلی فراہم کرنے کے حوالے سے اُن کا وعدہ سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف اور دونوں سابق وزرائے اطلاعات کے لاتعداد وعدوں کا نقشِ ثانی ثابت نہیں ہو گا۔

جناب سینیٹر پرویز رشید اِس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان میں بجلی کے خوفناک اور اعصاب شکن بحران نے عوام کو واقعی معنوں میں آگ کا ایندھن بنا رکھا ہے۔ شہروں میں تو کبھی کبھار بجلی دیکھنے اور سونگھنے کو مل جاتی ہے لیکن دیہات میں بجلی نے مکمل مقاطعہ کر رکھا ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ دو تین گھنٹے بجلی آتی ہے لیکن بجلی کے بِلز پہلے سے بھی کہیں زیادہ۔ دیہاتیوں کو دونوں اطراف سے لُوٹا اور تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہ بے چارے اپنی فریاد کہاں لے جائیں؟ کس کے سامنے پیش کریں؟ دیہاتوں میں بعض صاحبانِ ثروت نے یو پی ایس خرید لیے تا کہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ممکنہ حد تک نجات حاصل کی جا سکے لیکن بجلی کے نہ آنے سے یہ آلات ری چارج ہی نہیں ہو پاتے۔ ایک یو پی ایس پر کم از کم پچیس تیس ہزار روپیہ خرچ آتا ہے۔

شدید لوڈشیڈنگ نے اِس ترکیب اور خرچے کو بھی برباد کر ڈالا ہے۔ اب سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے خواجہ آصف صاحب کو بجلی بنانے اور فراہم کرنے کا وزیر لگایا گیا ہے لیکن اُن کے پاس وہ بھاری بھر کم انفراسٹرکچر ہی نہیں جسے بروئے کار لا کر پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو بلاتعطل بجلی کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔ لیکن جُز رسی کر کے، کہیں کونوں کُھدروں سے بجلی کی بچت کر کے رمضان المبارک میں سحری، افطار اور تراویح کے دوران لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنا عین ممکن ہے۔ اِس ریلیف کا یہ نتیجہ بھی برآمد ہو سکتا ہے کہ پھر سارا دن روزہ داروں کو مزید لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنا پڑے گا۔ دیکھیئے نتائج کیا کیا اور کس کس شکل میں نکلتے ہیں لیکن عوام نے تو پرویز رشید صاحب سے بلند توقعات وابستہ کر لی ہیں۔ سارے ملک میں مساوی لوڈشیڈنگ کے اعلان میں تو رنگ نہیں بھرے جا سکے، خدا کرے وزیرِ اطلاعات کا اعلان پوری طاقت سے عمل کی شکل اختیار کر جائے۔

مقبول خبریں