بائیومکینک لیب کے جلد آئی سی سی سے الحاق کا امکان

آفیشلزنے مقامی یونیورسٹی میں سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے حوصلہ افزا رپورٹ دیدی


Sports Reporter/Abbas Raza March 23, 2019
آفیشلزنے مقامی یونیورسٹی میں سہولیات کا معائنہ کرتے ہوئے حوصلہ افزا رپورٹ دیدی۔ فوٹو:فائل

پاکستان کی پہلی بائیو مکینک لیب کے جلد آئی سی سی سے الحاق کا امکان روشن ہوگیا۔

سعید اجمل اور محمد حفیظ سمیت کئی پاکستانی بولرز کے ایکشن مشکوک قرار دیے جانے پر ملک میں بائیو مکینک لیب کی سخت ضرورت محسوس ہورہی تھی جب کہ ایک عرصے قبل آسٹریلیا سے منگوایا گیا سامان پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود نیشنل اکیڈمی میں تنصیب کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔

ادھر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں عمارت بھی ادھوری رہ گئی، بالآخر مقامی یونیورسٹی میں اس منصوبے پر کام شروع کرتے ہوئے 2016 میں لیب کا افتتاح کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں قائم لیبارٹری میں عالمی معیار کی تمام سہولیات میسر اور اسے جلد الحاق دلانے کیلیے آئی سی سی سے رابطہ کیا گیا تھا، کونسل کے آفیشلز نے مقامی یونیورسٹی میں لیب کا معائنہ کرتے ہوئے حوصلہ افزا رپورٹ دی ہے،چند روز میں منظوری کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا جائے گا تاہم بہت جلد مکمل طور پر فعال لیبارٹری میں بولرز کے ایکشن سمیت طبی مسائل حل کرنے کیلیے مختلف نوعیت کے ٹیسٹ کیے جا سکیں گے۔

آئی سی سی سے الحاق کے بعد یہاں انٹرنیشنل بولرز کے آفیشل ٹیسٹ بھی کرانا ممکن ہوگا،اس سے قبل دنیا میں آئی سی سی کی منظور شدہ 5 لیبارٹریز بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

مقبول خبریں