اسرائیل مقبوضہ علاقے میں بستیوں کی تعمیر روک دے فرانسیسی صدر

تعمیر اگرجاری رہی توامن مذاکرات کونقصان پہنچ سکتا ہے،فرانسوااولاند


News Agencies/AFP November 19, 2013
فرانس ایران پرمعاشی پابندیاں نرم کرنے کی مخالفت جاری رکھے گا،فرانسیسی صدرکی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات اور یقین دہانی فوٹو: فائل

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر روک دے ۔

کیونکہ اگر تعمیر جاری رہی تو امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار راملہ میں اپنے فلسطینی ہم منصب صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ فرانسیسی صدر نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ اسرائیل 1967ء میں قبضے میں لی گئی زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے۔ فرانسیسی صدر فلسطین کے پہلے دورے پر راملہ پہنچے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بستیوں کی تعمیر سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور کشیدگی کا حل مشکل ہوجائے گا۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران فرانسوا اولاند نے یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے مسئلہ اٹھایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ فرانس چاہتا ہے کہ فلسطینی حکومت بھی امن کے لیے اپنا کردارادا کرے۔



دوسری طرف فرانس نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران پرمعاشی پابندیاں نرم کرنے کی مخالفت جاری رکھے گا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوسے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں فرانس کے صدرکا کہنا تھا کہ ایران اگر چار شرائط پوری کردے تو اس کے ساتھ عبوری معاہدہ ہوسکتا ہے۔ ان شرائط میں ایٹمی پروگرام کو عالمی نگرانی میں دینا، یورینیم کی افزودگی معطل کرنا، افزودہ یورینیم ضائع کرنا اور آراک میں ایٹمی پلانٹ کی تعمیر روکنا شامل ہیں۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان وہی معاہدہ قابل قبول ہوگا ۔

جس کے نتیجے میں ایران کوکسی بھی قسم کے نیوکلیئر بم بنانے سے روکا جاسکے۔ علاوہ ازیں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق اسرائیل کے ساتھ پورے9 ماہ تک مذاکرات جاری رہیں گے جس دوران یہ پرواہ نہیں کی جائے گی کہ زمین پرکیا واقعات ہو رہے ہیں۔ اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں فلسطینی صدر نے اس موقع پر مرحوم فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کو زہر دیکر ہلاک کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی سطح پرایک تحقیقات کرانے پر بھی زور دیا ہے۔

مقبول خبریں