دھماکا کیسوں میں بیگناہ مسلمانوں کو پھنسایا گیا اقلیتی کمیشن

مہاراشٹراقلیتی گروپوں کے محافظ ریاستی کمیشن نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔


این این آئی January 11, 2014
مہاراشٹراقلیتی گروپوں کے محافظ ریاستی کمیشن نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا.

مہاراشٹراکے ریاستی اقلیتی کمیشن نے ممبئی ہائیکورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے الزام لگایاہے کہ بم دھماکوں کے کیسوں میں بے قصورمسلم نوجوانوں کے خلاف فرضی ثبوتوں کے ذریعے انھیں غلط طورپر پھنسایا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اقلیتی کمیشن نے سلسلے وارٹرین دھماکوںاور 2006کے مالی گاؤںدھماکوں کی تحقیقات کے لیے ایک صحافی اشیش کھیتان کی جانب سے دائرکردہ مفادعامہ کی درخواست میںمداخلت کرتے ہوئے ایک درخواست داخل کی۔ کھیتان نے 5 ستمبرکو مفادعامہ کی درخواست داخل کرتے ہوئے 2006کے سلسلہ وار ٹرین دھماکوں میں مبینہ رول کے لیے ممنوعہ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیاکے مبینہ 13ملزمان کے خلاف عدالت میں جاری مقدمہ روکنے کی خواہش کی تھی۔

 photo 10_zps8f952c77.jpg

ان دھماکوں میں 209 افراد ہلاک اورکئی زخمی ہوئے تھے۔ کمیشن نے اپنے صدرنشیں مناف حکیم کی جانب سے دائرکردہ درخواست میں نشاندہی کی کہ 2002کے بم دھماکوں کے کیس میں 9افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، سیشن عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں بری کردیا۔ کمیشن نے اپنی درخواست میں کہاکہ تمام اقلیتی گروپوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کمیشن قائم کیاگیا ہے۔ بم دھماکوںکے کیس میںمسلمانوںکو پھنسانے سے نہ صرف ان کی بلکہ ان کے خاندانوں کی بھی زندگیاںتباہ ہورہی ہیں۔

مقبول خبریں