وفاق نے گندم کے محفوظ ذخائر سے 10 سے بڑھا کر 15 لاکھ ٹن کر دیے

کے پی،گلگت بلتستان، آزادکشمیر، بلوچستان اور پاک افواج کی ضروریات کیلیے ٹی سی پی 20 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرے گی۔


Numainda Express May 19, 2021
نجی شعبے، پاسکو کو 10، 10 لاکھ ٹن امپورٹ کی اجازت دے دی گئی، محکمہ فوڈ آج 35 لاکھ ٹن کا ہدف مکمل کر لے گا (فوٹو : فائل)

ملک میں گندم کے وفاقی اسٹریٹجک ذخائر محفوظ رکھنے کی حد 10 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 15 لاکھ ٹن کردی گئی۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی ہدایت پر ملک میں گندم کے وفاقی اسٹریٹجک ذخائر محفوظ رکھنے کی حد 10 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 15 لاکھ ٹن کردی گئی جبکہ نجی شعبے کو 10 لاکھ ٹن اور پاسکو کو بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور افواج پاکستان کی ضروریات کی تکمیل کیلیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان 20 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرے گی۔

علاوہ ازیں پنجاب میں مختلف سرکاری محکموں اور ضلعی افسروں کی جانب سے فلورملز کی سرکاری پرمٹ کے تحت خرید کردہ گندم کی بڑھتی ہوئی پکڑ دھکڑ کے باعث اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ،گزشتہ روز لاہور میں گندم کی قیمت 1910 سے بڑھ کر 1940 روپے جبکہ آٹا تھیلا کی ایکس مل قیمت 995 سے بڑھکر 1020 روپے ہو گئی۔

معروف برانڈز کے آٹا کی ایکس مل قیمت 1045روپے تک ہے ، بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر فلورملز ایسوسی ایشن نے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا جس کے بعد پریس کانفرنس میں اہم اعلان متوقع ہے،طویل عرصہ سے وفاقی محکمہ پاسکو کی سطح پر زیادہ سے زیادہ گندم سٹریٹجٹک ذخائر(ضروریات سے زائد) محفوظ رکھنے کی حد 10 لاکھ ٹن تھی۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں گندم آٹا کی پیچیدہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کوبڑھانے کی ہدایت کی اورآئندہ چند برسوں میں اس حد کومزید بڑھانے کا کہا۔چند ماہ قبل وزیر اعظم نے 30 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اب اسے بڑھا کر 40 لاکھ ٹن کیا گیا ہے جس میں ٹی سی پی کو 20 لاکھ ٹن جبکہ پاسکو 10 لاکھ ٹن اور نجی شعبہ 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے بعض حلقوں نے نجی شعبے کو گندم کی امپورٹ فار ایکسپورٹ کی اجازت دینے پر تحفظات ظاہر کئے تھے۔

معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ جمشید اقبال چیمہ سے گفتگومیں وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے شعبہ زراعت میں معاشی استحکام بڑا چیلنج ہے۔ کاشتکاروں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی سے پیداوارمیں اضافے جبکہ آڑھتی کا کردارختم کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں