نور فاطمہ اور ہمارے دشمن
ہم ایک دلچسپ قوم ہیں ان دنوں ہم اپنے اس دشمن کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں جس کا بڑا مقصد ہمیں نیست و نابود کرنا ہے.
میں اپنے ایکسپریس کے ساتھیوں کی اس دنیا سے المناک رخصتی کی پھوڑھی پر بیٹھا ہوں اور ان بے گناہوں کو اور ان کے لواحقین کے دکھ کو یاد کر رہا ہوں، ایسے میں کتنے ہی المناک اور تلخ موضوع ذہن میں آ رہے ہیں۔ جناب ڈاکٹر میاں محمد نواز شریف گورنمنٹ کالج یونیورسٹی 'ڈاکٹریٹ' کی ڈگری لینے گئے تو لاہور شہر کو ان کے تحفظ کے لیے بند کر دیا گیا، وہ یوں کہ لاہور کے مرکز میں واقعہ اس سابقہ کالج کو جانے والے راستے سارے لاہور سے گزرتے اس دوران ایک بچی پیدا ہوئی کسی محل نما گھر میں نہیں ایک رکشے میں۔ اس کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔ اب یہ نور فاطمہ اور اس کی ماں نہ جانے کیا بن کر ڈاکٹر صاحب کو ڈراتی رہیں گی۔ اس دوران خبر ملی کہ تیس سے زیادہ فوجی اہلکار کسی دھماکے کا شکار بن گئے۔ اسی طرح کی چند اور خبریں بھی ہیں اب ان کا ذکر کر کے میں آپ کی صبح کو غارت کرنا نہیں چاہتا، آپ چاہیں تو اخبار پڑھ لیں۔ صرف وزیر داخلہ کی ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قوم کہے تو حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ قوم نے ووٹوں کے ذریعے بھاری بھر کم مینڈیٹ دے دیا ہے، اب وہ کیا حکمرانوں کی شب و روز کی تمام مصروفیات پر ووٹ دیا کرے اور دن رات کسی پولنگ بوتھ پر کھڑی رہے فی الوقت بہت کچھ ذہن میں کل پرسوں کے لیے محفوظ رکھنے کے بعد قومی مالیات پر بات کرتے ہیں جو ہر بات کی بنیاد ہے۔
ہمارے وزیر خزانہ جو ماہر حساب کتاب ہیں شاید ہی ہمیں یہ بتا سکیں کہ ہر پاکستانی فرداً فرداً کتنے ہزار یا لاکھ کا مقروض ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہم ایک مقروض ترین قوم ہیں جس کے پاس قرض کی ادائیگی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے یعنی اسے کہیں سے اتنی آمدنی متوقع نہیں کہ وہ کسی قرض خواہ سے کہہ سکے کہ صبر کریں ہم قرض ادا کر دیں گے اور یہ کوئی سیاسی یا افسانوی بیان نہیں ہے ایک کھلی مسلمہ حقیقت ہے اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں یعنی حکمرانوں پر قرض ادا کرنے کی ذمے داری ہے ان کے رہن سہن ان کی شب و روز کی کارگزاریوں اور رویوں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ قرضوں کے اس قدر بھاری بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ ان کے پیداواری منصوبے بیرونی قرضوں تک محدود ہیں اور قرض دینے والے یعنی آئی ایم ایف والے برملا کہتے ہیں کہ ادائیگی قرض کے لیے پاکستان یہ کرے اور وہ نہ کرے۔ ہم نے اپنے آئی ایم ایف جیسے بے درد قرض خواہوں کی ہر بات مان لی ہے اور مانتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ قرض در قرض کے چکر میں پھنس چکے ہیں اور اس سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ جن لوگوں نے ہمیں اس چکر سے نکالنا ہے بقول ایک دانشور اور درد مند سیاستدان کے وہ یہاں اس ملک میں مالک بن کر نہیں کرایہ دار بن کر رہتے ہیں اور یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ جب کبھی یہ گھر خالی کرنا پڑے گا تو اس کے غسل خانوں کی ٹوٹیاں تک اتار کر لے جانی ہے کیونکہ ہمیںاس گھر کا کوئی درد نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا نہیں ہے۔ اس موضوع پر بڑی لمبی چوڑی باتیں ہو سکتی ہیں لیکن باتوں کا کیا فائدہ۔
ہم ایک دلچسپ قوم ہیں ان دنوں ہم اپنے اس دشمن کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں جس کا بڑا مقصد ہمیں نیست و نابود کرنا ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کبھی وہ ہم سے ہزار سال کا بدلہ لیتا ہے تو کبھی وہ گؤ ماتا کی تقسیم کو اپنے جسم کو ٹکڑے کرنے کے برابر سمجھتا ہے۔ ہم ان دنوں رات دن بھارت کے ساتھ تجارت کے منصوبے بنا رہے ہیں اور اپنی سرحدوں کو کھول نہیں گرا رہے ہیں۔ وہ سرحدیں جو ہماری نسلوں نے خون دے کر کھڑی کی تھیں اور جن کو ہم نے اپنی ثقافت اور اپنے دین کا تقاضا قرار دیا تھا۔ سرحدوں کے ساتھ ہی کوئی ملک الگ ملک ہوتا ہے۔ بڑا سیدھا سادا سوال ہے کہ اگر ہمیں بھارت کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہنا ہے اور پندار کے صنم کدوں کو اپنے ہاتھوں یوں مسمار کرنا ہے تو پھر 1947ء میں یہ الگ ملک کیوں بنایا تھا یہ سب کچھ تو پہلے بھی تھا اور چل رہا تھا اس کے لیے اتنی بھاری قربانیاں کیوں دینی تھی اس سب کی کیا ضرورت تھی ،کیا اس قوم پر پاگل پن کا دورہ پڑا تھا کہ اس نے بیٹھے بٹھائے اپنے گھر بار بدل لیے۔ پاگل پن کا یہ دورہ تب نہیں تو اب ضرور پڑا ہوا ہے کہ ہم پر نام پرنام کیے جا رہے ہیں لیکن اس کا کوئی پرجوش جواب نہیں مل رہا، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کی حالت کیا کر دی ہے اور وہ یہ سب کچھ مجبور ہو کر رہے ہیں یا پھر ایسے لوگ اس کی باگ ڈور ہاتھ میں لے چکے ہیں جو ماضی سے بے خبر ہیں اور نظریاتی ماضی سے تو بالکل ہی نابلد۔
سرحد کے پار ہمارے دوست بہت ہی چھوٹے لوگ ہیں مگر خطرناک۔ وہ پاکستان کا نام سن کر ہی بپھر جاتے ہیں۔ ان کے مطابق سرزمین ہند کے مالک وہ تھے اور نسل در نسل وہ اس ملک کے نام سے پہچانے جاتے تھے لیکن ہم مسلمان کہاں سے آ گئے، ہم تو باہر کے اور بیرونی لوگ ہیں اس لیے ان میں مدغم ہو جائیں اور اپنی تہذیب و ثقافت بدل لیں مسجد میں جاتے رہیں لیکن اس سے زیادہ کے خواب دیکھنے چھوڑ دیں، مجھے نہیں معلوم کہ ہم مسلمان اس کا جواب کیا دیتے ہیں فی الحال تو ہم اچھل اچھل کر اپنی سرحدوں کے اس پار جا کر ان میں گویا مدغم ہو جانا چاہتے ہیں لیکن کچھ کمزور لوگوں کے ارادے اور نیت کتنی بھی کمزور کیوں نہ ہوں یہ کام آسان دکھائی نہیں دیتا، ہم نے آزادی کے ان برسوں میں عدم سے وجود میں آنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے، اس میں گنوایا بھی بہت سہی لیکن پایا اور بنایا بھی بہت ہے آج ہم دنیا کی ایک ایٹمی طاقت ہیں اور اس کا دکھ کوئی ان سے جا کر پوچھے جو پاکستان کو روند دینا چاہتے تھے چنانچہ بھارت ہو یا کوئی اور دشمن وہ ہمارے ہاں صرف خفیہ تخریب کاری پر مجبور ہے کیونکہ وہ کسی کھلی جنگ کی ہمت نہیں پاتا اندرون ملک کی تخریب کاری اور بیرون ملک تجارت اس کے لیے ہتھیار ہیں۔
آج کی دنیا میں تجارت ایک معمول ہے۔ ہر ملک دوسرے کے ساتھ تجارت میں مصروف رہتا ہے ہم بھی بیرونی دنیا سے تجارت کرتے ہیں، کئی ملکوں کے ساتھ ہمارے تجارتی رشتے ہیں، ان میں ایک بھارت بھی ہے لیکن صرف تجارت۔ ہمارے تجارتی ماہر اپنا ہنر آزمائیں لیکن اسے کوئی ایسا خطرناک رنگ نہ دیا جائے کہ ہمارے ہاں واہگہ کی جائیدادوں کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ دشمن بہت زیادہ چالاک اور ہنر مند ہے اس کے تمام پڑوسی ملک اس سے نالاں ہیں اور یہ سب میرے ذالی علم میں ہے یہ کمزور ملک برملا کہا کرتے ہیں کہ ہمیں بھارت سے پاکستان بچائے گا۔ سری لنکا میں تامل باغیوں کو لگام کس نے دی پاکستان نے مدد امداد میں کبھی کنجوسی نہیں کی اور اس خطے میں اور ہے بھی کون جو بھارت سے بات کر سکے اب تو بھارت پر امریکا کا ہاتھ بھی ہے اور دنیا کی یہ سپر پاور بھارت کو اس خطے کا تھانیدار بنانا چاہتی ہے کیونکہ وہ خود افغانستان میں تھانیداری قائم نہیں کر سکی اور اس کے بعد اس نے بھارت کو یہ موقع دینا چاہا ہے امریکا ہمارا ویسے بھی تھانیدار ہے لیکن یہ ایک طویل بجٹ ہے اس وقت ہمیں دانشمند اور مستقبل کا سوچنے والے لیڈروں کی ضرورت ہے جو آلو پیاز سے آگے کا بھی سوچ سکیں۔