لدھیانہ کے مسلمانوں پر کیا گزری
پاکستان کی جدوجہد کے پہلے شہید خواجہ محمد صدیق کا تعلق بھی لدھیانہ سے تھا...
یوں تو پاکستان بننے کے بعد ہی کتابیں چھپنے لگ گئی تھیں۔ کسی نے مہاجرین کی آمد کو موضوع بنایا' کسی نے پچاس ہزار اغوا شدہ خواتین پر قلم اٹھایا' کسی نے پاکستان میں نو دولتیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو موضوع بنایا مگر اسلم صاحب نے اپنے شہر لدھیانہ پر لکھتے ہوئے اس کے بارے میں پوری سچائی سے واقعات بیان کیے ہیں۔ ان کا موضوع صرف جوان لڑکیوں کی بربادی اور اپنی جائیدادوں کی تباہی ہی نہیں۔ انھوں نے لدھیانہ کے سب خانوادوں کا ذکر کیا ہے جو وہاں وقتاً فوقتاً کشمیر' افغانستان' ایران سے آ کر بس گئے تھے اور اپنے آپ کو یہاں کے مقامی ظاہر کرتے تھے۔ گو ان کی زبان مقامی لوگوں والی نہیں تھی' ان کے لہجے بھی اور تھے مگر انھوں نے لدھیانے کو اپنا وطن مان کر اس کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کیے اور لدھیانہ کو ہندوستان کا ''مانچسٹر'' بنا دیا کہ یہاں کے کاریگروں کی صنعت تھی کھڈی پر کپڑا' کھدر بہت اچھا بناتے تھے۔ کچھ لوگوں نے اس پر نئے نئے تجربے کیے اور لدھیانہ کا کپڑا سارے ہندوستان میں نفیس مانا جانے لگا۔ اس کی مانگ بڑھ گئی۔
اس کے علاوہ پڑھے لکھے گھرانوں میں لڑکے تعلیم میں خاصے آگے بڑھ گئے۔ انھوں نے لاہور جا کر کالجوں میں پڑھا اور کچھ باہر سے بھی ڈگریاں لے آئے اور سیاست میں حصہ لینے لگے۔ سردار شوکت حیات کا گھرانہ' معروف روحانی شخصیت صوفی برکت علی لدھیانوی' مشہور شاعر حافظ لدھیانوی' مشہور سیاسی لیڈر سر عبدالقادر' خواجہ محمد شفیع ' آغا شیر احمد خاموش' ایم حمزہ ممبر قومی اسمبلی مسلم لیگی لیڈر' چوہدری عبدالرحمن لائل پور کاٹن ملز والے' چوہدری رحمت علی لدھیانوی' چوہدری عبدالرحمن ہیراں والے' مولانا نور احمد حقانی ممتاز عالم دین' سعادت حسن منٹو' سید اسلام شاہ' حمید اختر صحافی' احراری لیڈر سید تاج الدین انصاری' صوفی محمد عبداللہ شیخ بشیر احمد پنجاب پرنٹنگ پریس والے وغیرہ۔ اس مردم خیز ضلع میں اچھے استاد اور وکیل بھی تھے۔ یہاں سب سے پہلے مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کا آغاز بھی ہوا اور پاکستان کی جدوجہد کے پہلے شہید خواجہ محمد صدیق کا تعلق بھی لدھیانہ سے تھا۔
اسلم صاحب نے اپنے تئیں سوچا کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کو آگے آنا چاہیے کہ وہ ہر ضلع' ہر علاقے کا پتہ کریں اور وہاں سے ٹھیک ٹھیک اعداد وشمار اکٹھے کریں کہ پاکستان کے وقت ان علاقوں میں کتنے مسلمان تھے۔ ان کا پیشہ' کاروبار' حالات کیا تھے اور انھوں نے پاکستان بنانے کی جدوجہد میں کیا کردار ادا کیا۔ اس لیے اسلم صاحب نے یہ کام خود ہی اپنے ضلع لدھیانہ سے شروع کیا اور لدھیانے کے بارے میں جو سنا اپنے بزرگوں سے، پھر ان لوگوں کو تلاش کیا اور ان سے جا جا کر ملے اور ان کے حالات معلوم کیے۔ یہ کوئی عام کاوش نہیں تھی۔ انھوں نے اپنے ضلع کے گاؤں کا پتہ کیا اور لواڑاں' سہنا' کنگھرالی' بھگو' سرایا نامی گزشتہ دیہات کے لوگوں کا پتہ لیا جن میں اکثر مہاجر انھیں سمندری اور لائل پور کے اضلاع میں مل گئے اور کچھ کراچی میں۔ انھوں نے اپنے اپنے خاندانوں کے بارے میں تفصیلاً انھیں بتایا جو انھوں نے اپنی کتاب میں شامل کیا۔ کاش ایسے ہی دو چار اور لوگ بھی اٹھتے اور اپنے اپنے شہروں' علاقوں کے بارے میں حقیقتیں سمیٹ لیتے مگر کئی لوگوں نے اپنی جائیداد کے جعلی کلیم داخل کر کے پاکستان میں جائیداد حاصل کی تو وہ کس طرح ہندوستان میں اپنے علاقے کا ذکر کر سکتے ہیں۔
سردار شوکت حیات نے اس بددیانتی کے بارے میں بڑا اچھا تجزیہ کیا ہے کہ پہلی نسل نے پاکستان بنایا۔ دوسری نسل نے جعلی امیر بننے کی کوشش کی اور کلیمز کے نام پر لوٹ مار کی' رشوت کھائی اور لوگوں کی حق تلفی کی۔ لوگوں کی جاگیریں اپنے نام الاٹ کروا لیں۔ تیسری نسل اس پیسے کو اجاڑے گی جو ان کے والدین نے ہیراپھیری سے کمایا تھا۔ چوتھی نسل کیونکہ کھاتے پیتے گھرانوں سے ہو گی اور ''رجی'' ہوئی ہو گی وہ تعلیم حاصل کر کے درست طریقے سے کام کرے گی' رشوت نہیں لے گی، بہتر کام کرے گی۔ مجھے اس چوتھی نسل سے بڑی امیدیں ہیں۔
اس کتاب میں سردار شوکت حیات کے آنکھوں دیکھے واقعات بھی ہیں اور سردار خضر حیات کی غلط پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح انھوں نے لارڈ مونٹ بیٹن کو وائسرائے بنوایا جس نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا جس نے پاکستان کی حد واہگہ پر رکھی، بجائے سرہند شریف یا فیروزپور کے۔ یوں مسلمانوں کی اکثریت انھی علاقوں جالندھر' لدھیانہ' امرتسر میں قتل کی گئی۔ سردار شوکت حیات والٹن مہاجر کیمپ میں بھی بحالی کا کام کرتے رہے۔ بتاتے ہیں ایک دن شرق پور کے دیہاتی دو چار ڈھکی ہوئی چارپائیاں اٹھائے آئے۔ میں نے کہا ان مریضوں کو اسپتال لے جاؤ یہاں کیوں لائے ہو تو دیہاتیوں نے ہمارے رضاکاروں اور میرے سامنے باری باری چارپائیوں سے رضائیاں اتار لیں۔ اندر بستر پر سونے کے زیورات' قیمتی کپڑے جگمگا رہے تھے۔ انھوں نے کہا ہم شرق پور سے آئے ہیں ہمارے گاؤں کے سکھ چلے گئے ہیں ان کے گھروں سے یہ سب برآمد ہوا ہے۔ ہم پاکستان کا مال پاکستان کو دینے آئے ہیں۔
پھر وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ڈبے میں ایک بوڑھی عورت بھی بیٹھی تھی۔ جب سے ہم کیمپ سے چلے تھے وہ صرف یہ پوچھتی پاکستان کنی دور اے؟
ہم جب پاکستان پہنچے اور والٹن میں اترے تو وہ بڑھیا بھی اتری اور سڑک کنارے بیٹھ کر اس نے پاکستان کی مٹی پر ہاتھ مارا اور کہا ایہہ پاکستان اے۔ اسی پاکستان آ گئے آں۔
جب ہم نے آگے بڑھ کر کہا چل بہن اندر کیمپ وچ چل مگر اس کی روح پاکستان کی فضا میں پرواز کر چکی تھی۔
اسلم صاحب کی خوبی یہ بھی ہے کہ انھوں نے لدھیانہ کے سیاست دانوں' طالب علموں' تجارت پیشہ لوگوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ انھوں نے جس جس سے بات کی انھوں نے اپنے گاؤں اپنے علاقے کے بارے میں بتایا کہ اس میں کتنے گھر مسلمانوں کے تھے' کتنے گھر ہندوؤں کے اور نچلی ذاتوں کے، گاؤں میں کتنے چوبارے تھے' کتنے پکے گھر تھے' کتنے گدھے' کتنے ریڑھے اور گھوڑے ہوتے تھے بلکہ مویشیوں کی تعداد بھی لکھی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اکثر جگہ سکھوں کی تعداد کم لکھی ہے اور مندروں مسجدوں کا ذکر تو ہے گوردواروں کا نام نہیں۔ ایک جگہ وہ بتاتے ہیں کہ ہم پٹیالہ ریاست کے پاس تھے جہاں سے پٹیالہ ریاست کے فوجی اور پولیس والے اسلحہ لے کر آتے اور ہمارے علاقوں پر حملہ کرتے بلکہ لڑکیاں اٹھاتے، اسی لیے جب کسی گاؤں کی طرف حملہ آوروں کی آمد ہوتی تو عورتیں اپنی بچیوں کو پکڑ کر ساتھ لے لیتیں اور نزدیک کسی کنویں میں چھلانگیں لگا لیتیں۔ جہاں سے پٹیالہ فورس کو عورتیں اور مال ہاتھ نہ آتا تو وہ گھروں کو آگ لگا دیتے۔ کئی ہندو گھرانے ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری بچیوں اور عورتوں کو پناہ دی اور رات کی تاریکی میں انھیں نزدیک کیمپ میں چھوڑ آئے' ساتھ کھانا' کپڑے اور نقدی بھی دی مگر سکھوں کا کردار یہ تھا کہ ہمارے سجن بن کر آتے اور ہمیں کہتے چلو فلاں جگہ کیمپ میں چلے جاتے ہیں۔ ہم بال بچہ ساتھ لیتے ان کے ساتھ نکلتے' چالیس پچاس لوگ ہوتے۔ وہ ہمیں کیمپ سے ذرا دور نہر کے پل کے پاس جا کر کہتے وہ سامنے کیمپ ہے آپ آگے نکل جائیں۔ ہمیں کوئی دیکھ نہ لے۔ جونہی وہ سکھ ہندو واپس جاتے کیمپ تک پہنچتے پہنچتے پٹیالہ فورس ان پر حملہ آور ہوتی۔ عورتیں سیدھی نہر میں بچوں سمیت کود جاتیں، مرد نہتے گولیوں کا نشانہ بن جاتے، سارے علاقے میں مسلمانوں کی لاشیں بچھ جاتیں، سکھ غنڈے ان کا سامان نقدی اٹھا کر بھاگ جاتے۔
کتاب میں کئی نایاب تصاویر بھی ہیں مثلاً علامہ اقبال کی دوسری اہلیہ ممتاز بیگم۔ مصنف اسلم صاحب نے چار برس تحقیق میں صرف کیے اور اپنے آبائی شہر کی یہ تصویر مکمل کی۔ اس میں ان لوگوں کا ذکر بھی ہے جن کا کسی طرح اس ضلع سے تعلق تھا مگر سردار شوکت حیات جو یہاں سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے اور دیگر بہت سی شخصیات جو اس شہر سے متعلق تھیں لدھیانہ کی شروع سے اب تک کی تاریخ بھی ہے لیکن کتاب میں خصوصی ذکر آزادی کے وقت اس شہر کے مسلمانوں کا حال ہے کہ ان پر کیا گزری۔ یہ کتاب الخیر پبلی کیشنز پل کوریاں سمندری روڈ، فیصل آباد نے شایع کی ہے۔