بھٹو عمر عبداللہ اور یومِ یکجہتی کشمیر
ہندو معقول اور بردبار نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنی گاؤما تا کا تو احترام کرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا احترام کرتے ہی نہیں ہیں
آج پانچ فروری 2014 کو پورے ملک اور آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور مجبور و بے بس کشمیریوں کو احساس دلانے کے لیے کہ ہم آج بھی آپ کے مقاصد و مفادات کے سنگی ساتھی ہیں، یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر، جسے بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ''پاکستان کی شہ رگ'' قرار دیا تھا، پر بھارتی قابض فوجوں نے جس طرح کے مظالم ڈھائے ہیں، اہل کشمیر کا جس انداز میں استحصال اور استیصال کیا ہے، اس کا فطری نتیجہ اب تک یہ نکل جانا چاہیے تھاکہ آزادی ان کا مقدر بنتی لیکن تاریکی اور غلامی کی یہ سیاہ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت دو بڑی خونریز جنگیں لڑ چکے ہیں، کارگل اور سیاچن گلیشئیر کے سانحات بھی جنم لے چکے ہیں لیکن اس کے باوصف مقبوضہ کشمیر کو پنجہ ہنود سے چھڑایا نہیں جاسکا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ گزشتہ چھ عشروں کے دوران مقبوضہ میں قابض بھارتی فوجیں تقریباً ڈیڑھ لاکھ بے گناہ کشمیریوں کا خون بہا چکی ہیں، نوے ہزار کے قریب خواتین بیوہ ہوچکی ہیں، کشمیریوں کے ثمر آور باغات اجاڑ دیے گئے ہیں، قدیم کشمیری صنعتوں کو دانستہ تباہ کرکے معدوم کردیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کے عزم میں جھول آیا ہے نہ ان کے حوصلے توڑے جاسکے ہیں۔ اس استقلال اور جرات مردانہ پر بجاطور پر دنیا بھر سے کشمیریوں کو داد ملنی چاہیے۔
مسئلہ کشمیر دراصل بھارتی حکمرانوں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی عہد شکنیوں اور کہہ مکرینوں کا دوسرا نام ہے۔ یہ درحقیقت بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور عالمی یقین دہانیوں کی پامالی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امریکا اور دیگر اقوام سے توقعات وابستہ کی ہیں کہ وہ گنجلک مسئلہ کشمیر کو سلجھانے کے لیے آگے بڑھیں گے لیکن یہ توقعات پوری ہوسکی ہیں نہ کشمیریوں کی امیدیں برآئی ہیں۔ اس طویل اور جانگسل عرصے کے دوران بعض قوتوں نے اہل کشمیر کو پاکستان سے برگشتہ کرنے کی کوششیں اور سازشیں بھی کیں لیکن وہ کسی بھی طرح اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی سبز ہلالی پرچم کو محبت بھری نظر وں سے دیکھا جاتا ہے اور اہل کشمیر کے لیے پاکستانی نمک آج بھی ایک مقدس اور متبرک تحفے سے کم نہیں۔ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں استصوابِ رائے کا انعقاد دراصل دو قومی نظریے کا جزوناگزیر ہے لیکن ہندوبنیا یہ مسئلہ حل نہ کرکے دو قومی نظریے کی تکذیب کے درپے ہے۔
واضح رہنا چاہیے کہ دو قومی نظریہ پاکستان میں کسی ایک شخص، ادارے یا گروہ کے اجارے کا نام نہیں بلکہ یہ پاکستان اور اہل پاکستان کی نظریاتی زندگی کا نیو کلیس اور مرکزہ ہے۔ اس سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں اور اس سے روگردانی بھی نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ اپنے ہی وجود سے انکار کرنے کے مترادف ہوگا۔ مسئلہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں سے سنجیدہ مکالمے کا وقت آیا تو پاکستان کا سابق عبقری صفت وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی دو قومی نظریے کا سب سے بڑا وکیل بن گیا۔ 71 کی جنگ کے بعد جب بھٹو صاحب شملہ معاہدہ کے لیے، جو دراصل بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو تسلیم کرنے کے مترادف بھی ہے، بھارت جانے والے تھے تو انھوں نے 1972 میں اٹلی کی نامور صحافی اوریانا فلاسی کو تاریخی انٹرویو دیا۔ دو قومی نظریے کی وضاحت اور تشریح کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کہا تھا:
''مسز گاندھی کو صرف ایک ہی خواب دکھائی دیتا ہے کہ وہ پورے برصغیر پر قبضہ کرلیں اور ہمیں غلام اور ماتحت بنالیں۔ وہ کنفیڈریشن کو پسند کرتی ہیں تاکہ پاکستان صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ''ہم بھائی بھائی ہیں۔'' ہم بھائی بھائی نہیں ہیں اور ہم کبھی بھی ان کے بھائی نہیں رہے۔ ہمارے مذاہب، ہماری روحوں میں گہرائی تک اترے ہوئے ہیں اور یہ ہماری زندگی کے طور طریقوں سے واضح ہے۔ ہمارے کلچر مختلف ہیں۔ ہمارے رویے مختلف ہیں۔ اپنی پیدائش کے دن سے اپنے مرنے کے دن تک ایک ہندو اور ایک مسلمان جن قوانین اور رسم و رواج کا پابند رہتا ہے، ان میں سرے سے کوئی اشتراک نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ان کے کھانے اور پینے کے طور طریقے بھی مختلف ہیں۔ یہ دونوں دو مضبوط اور متضاد عقیدے ہیں۔ دونوں میں یہ حقیقت اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ یہ دونوں مذاہب کبھی بھی ایک دوسرے سے مصالحت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ دونوں کے زندگی گزارنے کے طور طریقے مختلف ہیں۔ صرف آمرانہ بادشاہتوں، غیر ملکی مداخلت کاروں، منگولوں اور برطانوی دور میں یہ لوگ عارضی طور پر ایک دوسرے سے مربوط رکھے گئے تھے۔ ہمارے درمیان کبھی بھی ہم آہنگی کا تعلق نہیں رہا۔
ہندو معقول اور بردبار نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنی گاؤما تا کا تو احترام کرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا احترام کرتے ہی نہیں ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ بدسلوکی کی ہے اور ہمیں ذلیل اور خوار کرنے کا موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ 1944 میں میرے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا، میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ ان دنوں میری تعطیلات ہوچکی تھیں۔ اس لیے اپنے والدین کے ساتھ کشمیر میں تفریح پر تھا۔ جس طرح لڑکے کیا کرتے تھے، میں بھی پہاڑیوں پر چڑھتا اترتا رہا۔ بالآخر مجھے شدید پیاس محسوس ہوئی۔ اس لیے میں ایک شخص کے پاس گیا، جو پانی فروخت کررہا تھا اور اس سے میں نے کہا کہ میں پانی پینا چاہتا ہوں۔ اس شخص نے گلاس پانی سے بھرا اور میری طرف بڑھا دیا، لیکن مجھے دینے سے پہلے ہی روک لیا اور کہنے لگا کہ کیا تم ہندو ہو یا مسلمان؟ میں اس کی بات سن کر ہچکچایا، لیکن پانی کی مجھے شدت سے ضرورت تھی، اور بالآخر میں نے اس سے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا اتنا کہنا ہی تھا کہ اس شخص نے گلاس کا پانی زمین پر انڈیل دیا۔ آپ یہ بات مسز اندرا گاندھی کو جاکر بتائیں۔
اسلام اور مسلمانوں سے اتنا شدید تعصب رکھنے والے ہندوبنیئے سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر خالی کردے گا۔ اس لیے وہ حیلے بہانے تلاش کرتا رہتا ہے۔ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا یہ کہنا کہ اگر جنرل پرویز مشرف کارگل مہم میں ہاتھ نہ ڈالتا تو ہم اور نوازشریف مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، ایک حیرت انگیز بیان ہے ۔ جنرل پرویز مشرف دور کے وزیرخارجہ جناب خورشید قصوری بھی اسی طرح کی کہانی سناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی شنید ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے جنرل مشرف کامیابی کے جس کنارے پر پہنچ چکے تھے، اس بارے میں وہ عنقریب اپنی کتاب میں انکشاف کرنے والے ہیں۔
جب تک میاں خورشید محمود قصوری اپنے تھیلے سے کوئی بلی نہیں نکال لیتے، تب تک ہمیں اس سنگین مسئلے کے بارے میں مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اس تازہ انٹرویو کا جائزہ لینا ہوگا جو حال ہی میں پاکستان کی ایک صحافیہ نے سری نگر جاکر کیا ہے۔ اس انٹرویو میں عمر عبداللہ یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حل کے لیے ایل او سی کا وجود ختم کرنا ہوگا اور پاکستانی کشمیر سے پاکستان کو دستکش بھی ہونا پڑے گا۔ یہ تو نہایت بے ہودہ مذاق ہے۔ بھارت تو ہمیشہ ہی سے اس لکیر کو مٹانا چاہتا ہے۔ عمر عبداللہ بھی بھارتی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی زبان بول رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عمر عبداللہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی مکرتا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے ''میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت حکمرانوں کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا عینی شاہد نہیں، اس لیے کوئی بات حتمی طور پر کہہ نہیں سکتا۔'' عمر عبداللہ کی اس دوغلی گفتگو سے کوئی نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں لازم ہے کہ پاکستان میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ یوم یک جہتی کشمیر منایا جائے۔ اگرچہ اس دن کی وجہ سے بھارتی حکمرانوں اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے پیٹ میں مروڑ بھی بہت اٹھتے ہیں۔