معیشت کی حالتِ زار

ملکی معیشت کوجن مشکلات کا سامناہے ان سے نکلنے کے لیے موجودہ وزیراعظم اوران کی ٹیم کوغیرمعمولی انداز میں کام کرنا ہوگا


Editorial April 17, 2022
ملکی معیشت کوجن مشکلات کا سامناہے ان سے نکلنے کے لیے موجودہ وزیراعظم اوران کی ٹیم کوغیرمعمولی انداز میں کام کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

RAWALPINDI: وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے سے متعلق اوگرا کی سمری مسترد کر دی ہے۔ میڈیا نے حکومتی ذرایع کے حوالے سے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا اضافی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی۔

اوگرا نے پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی کم سے کم اور زیادہ زیادہ شرح کی بنیاد پر ورکنگ تیار کرکے سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی تھی۔ اس سمری کے مطابق ٹیکسز کی موجودہ شرح کے حساب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 51 روپے 32 پیسے، پٹرول کی قیمت میں21 روپے 30 پیسے فی لیٹراضافے کی سفار ش کی گئی تھی۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 36 روپے 5 پیسے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 38 روپے 89 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی 30 روپے اور جی ایس ٹی 17 فیصد کر کے بھی ورکنگ تیارکی گئی تھی جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے فی لیٹر اضافے، پٹرول کی قیمت میں 83 روپے 50 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 77 روپے 56 پیسے اضافہ کرنے ، لائٹ ڈیزل 77 روپے 31 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز ارسال کی گئی تھی۔

اوگرا کی سمری میں دیے گئے اعداد و شمار پر عمل درآمد کر دیا جائے تو پھر پاکستان میں مہنگائی ناقابل بیان حد تک بڑھ جائے گی۔ حکومت نے وقتی طور پر تو تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں لیکن مستقبل میں اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔

ملکی معیشت کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان سے نکلنے کے لیے موجودہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو غیرمعمولی انداز میں کام کرنا ہو گا، روایتی پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا۔ ادھر وزیراعظم نے چینی کے نرخ میں کمی لانے کے لیے اِس کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

برآمدی پابندی کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کیا گیا ۔وفاقی حکومت گندم کی اسمگلنگ پر بھی قابو پانے کے لیے سخت ترین انتظامات کرے کیونکہ سابق حکومت کے دور میں گندم اور چینی افغانستان بھیجی جاتی رہی ہے۔ اگر اس روش پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان میں وافر مقدار میں ہونے کے باوجود گندم اور چینی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

ادھر نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 4 روپے 85 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے، اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس کا اطلاق رواں ماہ ہوگا۔ بجلی کی قیمتوں کا اطلاق کراچی کے علاوہ تمام صارفین پر ہوگا۔ ملک کی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے روایت سے ہٹ کر معاشی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل کے نرخوں کو اگر سالانہ بجٹ تک منجمد کر دیا جائے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کر لیے جائیں تو کم ازکم معیشت میں استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیراعظم خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز مشترکہ پریس کانفرنس میں موجودہ معاشی صورت اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کے بارے میں بتایا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے سے بڑھی ہیں اور جون تک حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد میں 240 ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمت خرید اورفروخت میں جو فرق ہے، اس سے ہرماہ 200 ارب کا نقصان ہو رہا ہے اور یہ رقم ہمارے سالانہ دفاعی بجٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ بنتی ہے۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ ہم گزشتہ حکومت پر بے جا الزام نہیں لگانا چاہتے،صرف حقائق سامنے رکھنا چاہتے ہیں جو بہت ہی تشویشناک ہیں۔ آئی ایم ایف سے بھی ازسرنو بات چیت کرنا پڑے گی۔

یہ معاشی اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ سری لنکا کا معاشی میلٹ ڈاؤن ہمارے پالیسی سازوں کے سامنے ہے کہ وہاں کیا صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان میں رومانیت پسندی، حقائق سے چشم پوشی اور ذاتی اور گروہی مفادات کی وجہ سے کوئی حکومت معاشی پالیسی کا رخ درست سمت میں نہیں رکھ سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے کیا کرتی ہے۔

 

مقبول خبریں