ٹارگٹ کلنگ کا شکار شخص کے قتل کا مقدمہ درج نہ ہوسکا

نامعلوم ملزمان نے ہفتے کی شب فقیر کالونی میں فائرنگ کرکے 27سالہ علی اصغر کو ہلاک کیا تھا


Staff Reporter March 20, 2014
ہفتے کو اورنگی ٹائون فقیر کالونی میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے اصغر تنولی کی یاد گار تصویر۔ فوٹو: فائل

اورنگی ٹاؤن میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے علی اصغر کے قتل کا مقدمہ 5 روز گزر جانے کے باوجود درج نہ کیا جا سکا۔

مقتول انسانی خدمت کے تحت علاقے میں سماجی برائیوں اور جرائم کی روک تھام کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں پیش پیش رہا کرتا تھا ، مقتول4 بچوں کا باپ تھا، تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شب اورنگی ٹائون سیکٹر 10 مومن آباد تھانے کی حدود فقیر کالونی اسلام نگر پریشان چوک کے قریب گھات لگائے نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ جاں بحق ہونے والے27 سالہ علی اصغر تنولی ولد سعید محمد کے قتل کے واقعے کو5 روز گزر جانے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا،مومن آباد پولیس نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے4 خول ملے تھے جنھیں تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوادیا گیا ہے تاہم تفتیش فوری طور کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، انھوں نے بتایا کہ مقتول کے اہلخانہ کی جانب سے واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کرایا گیا ہے اور مقدمہ درج ہونے پر باضابطہ تفتیش کا اغاز کردیا جائے گا، مقتول کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ مقتول کے قتل کا مقدمہ بڑے بزرگوں کے مشورے کے بعد جلد درج کرا دیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ مقتول 4 بھائی اور2 بہنیں میں سب سے چھوٹا تھا اور4 بچوں جن میں2 بیٹے اور2 بیٹیاں شامل ہیں کے والد تھے، مقتول کو اﷲ تعالیٰ نے جڑواں بچوں کو نعمت سے نوازا تھا جن میں ایک بیٹا عارف اور بیٹی عائشہ شامل ہے، انھوں نے بتایا کہ مقتول کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، مقتول انسانی خدمت کے تحت علاقے میں سماجی برائیوں اور جرائم کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں ہمیشہ پیش پیش رہا کرتا تھا اور اس کا گواہ پورا علاقہ ہے، انھوں نے بتایا کہ مقتول اکثر پریشان چوک پر بیٹھا کرتا تھا اور واقعہ والے روز بھی وہ اکیلا اسی مقام پر موجود تھا کہ گھات لگائے نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی، انھوں نے بتایا کہ مقتول کے جسم کے مختلف حصوں پر4 گولیاں ماری گئیں، علی اصغر کی خواہش تھی کہ علاقے سے جرائم مکمل طور پر ختم ہو جائیں،مقتول علی اصغر کے اہل خانہ کا کہنا ہے اعلیٰ حکام انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کا جلد از جلد سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچا جائے۔

مقبول خبریں