پاکستان کیسے ہار گیا

جب اسٹیڈیم سے باہرنکلا تو گرین شرٹ پہنے ایک نوجوان کو گھاس پر بیٹھا پایا جس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑا ہوا تھا


Saleem Khaliq October 25, 2022
جب اسٹیڈیم سے باہر نکلا تو گرین شرٹ پہنے ایک نوجوان کو گھاس پر بیٹھا پایا جس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑا ہوا تھا (فوٹو: آئی سی سی)

میچ ختم ہوئے شاید ایک گھنٹہ گذر چکا تھا، میڈیا کانفرنس کے بعد میں واپسی کیلیے جب اسٹیڈیم سے باہر نکلا تو گرین شرٹ پہنے ایک نوجوان کو گھاس پر بیٹھا پایا جس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑا ہوا تھا،میں قریب سے گذرا تو رک نہ سکا اور اسے تسلی دینے کیلیے کہہ دیا ''کوئی بات نہیں دوست کرکٹ میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے ٹیم جلد کم بیک کرے گی''.

اس نے مجھے گھورا اور غصے سے کہا کہ ''مجھے ہارنے کا غم تو ہے لیکن دماغ تسلیم نہیں کر رہا کہ ایسا کیسے ہوگیا،10 اوورز میں صرف 45 رنز پر 4 وکٹیں گرنے کے بعد بھارت کیسے جیت گیا،ہم کیسے ہار گئے؟ کوئی کرکٹ کا آئین اسٹائن بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا''ایسے میں اس لڑکے کا کوئی رشتہ دار ادھر آ گیا اور پنجابی میں کہنے دیا کہ ''او تسی کب تک غم بناندا رہوے گا۔

چل اب گھر چل'' میں وہاں سے قریبی ہوٹل کے سامنے چلا گیا جہاں سے مجھے میرے دوست ذیشان کو پک کرنا تھا، ہر طرف بھارتی شائقین جشن مناتے نظر آ رہے تھے۔

چند منٹ بعد ذیشان آ گئے،ساتھ ان کے دوست عدنان بھی موجود تھے اور پھر ہم کھانے کی تلاش میں تقریبا ایک گھنٹے بھٹکتے رہے، پاکستان میں تو رات کو چار بجے بھی اچھا کھانا مل جاتا ہے لیکن گورے سوائے جمعے اور ہفتے کے جلدی سو جاتے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہوتا ہے۔

حلال کھانا دستیاب تو ہے لیکن 90 ہزار سے زائد لوگ میچ دیکھنے گئے تھے، ان میں دیگر شہروں اور ممالک سے آنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی ،ریسٹورینٹس پر دباؤ پڑا تو کھانا کم پڑ گیا یا ختم ہو گیا،کئی پر تو قطاریں بھی لگی تھیں جبکہ اکثر ریسٹورینٹ بند کر کے واپس چلے گئے تھے۔

خیر کافی دیر بعد ہمیں دیسی کھانا مل ہی گیا،اس کے بعد ذیشان نے مجھے میرے ہوٹل ڈراپ کر دیا، ویسے ذرا ٹھہرے میں کچھ زیادہ ہی فاسٹ نہیں ہو گیا آپ کو ڈائریکٹ میچ کے بعد ہی لے گیا، چلیں تھوڑا ری وائنڈ کرتے ہیں، کراچی سے میں 21 اکتوبر کی شب ایمریٹس کی فلائٹ سے روانہ ہوا اور دبئی و سنگاپور سے ہوتا ہوا جب میلبورن پہنچا تو مقامی وقت 23 اکتوبر صبح ساڑھے 7 بجے تھا،ایئرلائنز ایسا لگتا ہے کہ کوویڈ کے بعد اپنے سارے نقصانات مسافروں سے ہی پورا کرنا چاہتی ہیں، ٹکٹس کی قیمتیں ان دنوں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

آسٹریلیا بہت بڑا ملک ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر جانے میں ہی اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ اس سے کم میں آپ دبئی جا کر واپس بھی آ جائیں، میلبورن ایئرپورٹ اترتے ہی اندازہ ہو گیا کہ آسٹریلیز ورلڈکپ کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں، جگہ جگہ پوسٹرز اور ہورڈنگز لگی تھیں، امیگریشن میں بھی بہت آسانی ہوئی، ائیرپورٹ کے باہر کرکٹرز کی بڑی تصاویر لگی ہیں۔

ان میں اپنے بابر اعظم کو دیکھ کر بھی خوشگوار احساس ہوا، وہاں میرے دوست فہد مجھے لینے آئے ہوئے تھے، وہ سڈنی سے خاص طور پر اہل خانہ کے ساتھ میچ دیکھنے کئی گھنٹوں کی ڈرائیو کر کے میلبورن پہنچے،ان جیسے ہزاروں پاکستانی مختلف شہروں سے آئے تھے۔

کسی نے اپنی کار کو ترجیح دی جبکہ کچھ پرتھ جیسے دور والے مقامات سے چار، ساڑھے چار گھنٹے کی فلائٹ پر بھی آئے،یہ تو کچھ نہیں ہے امریکا اور انگلینڈ سمیت مختلف ممالک سے بھی ہزاروں افراد یہاں پہنچے ہیں، جب میں اپنا ایکریڈیڈیشن کارڈ وصول کرنے ایم سی جی گیا تو وہاں بھی زبردست ماحول بنا ہوا تھا، صبح کے وقت بھی کئی شائق گھومتے نظر آئے، شہر میں چند روز قبل سے ہی23 اکتوبر کو طوفانی بارش کی 90 فیصد تک پیشگوئی تھی،اس وجہ سے ہزاروں افراد نے اپنے ٹکٹس فروخت کر دیے۔

بلیک میں بیچنے کا ارادہ رکھنے والوں نے بھی ایسا کیا، خراب موسم کی اطلاعات ملنے کے باوجود بھی دور دراز سے لوگوں نے آنے کا ارادہ ترک نہیں کیا،اس سے آپ ملک اور کرکٹ سے ان کی محبت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،اسٹیڈیم کے باہر شین وارن کا مجسمہ دیکھ کر خیال آیا کہ اتنا عظیم اسپنر کتنی جلدی یہ دنیا چھوڑ گیا،اس کے بعد میں اپنے ہوٹل آ گیا۔

چند گھنٹے آرام کے بعد اسٹیڈیم جانے کیلیے اوبر بک کرائی تو سڑک پر پاکستانی اور بھارتی شائقین کی بڑی تعداد بھی نظر آئی، میں نے اپنے ساتھ دو پاکستانیوں کو بھی کار میں بٹھا لیا دونوں کا تعلق اندرون سندھ سے تھا اور وہاں برسبین سے میچ دیکھنے آئے تھے،راستے بھر شائقین کے گروپس نظر آتے رہے ،مجھے حیرت بھی ہوئی کہ وہ کتنا پیدل چل کر پہنچیں گے۔

ایم سی جی کے باہر ہزاروں افراد موجود تھے، یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ان میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد تھی،دونوں ممالک کے تعلقات جیسے بھی ہوں دیار غیر میں سب مل جل کر رہتے ہیں، یہاں بھی اکثر پاکستانی اور بھارتی ساتھ کھڑے ہو کر خوش گپیوں میں مگن تھے، بیشتر نے اپنے ملکوں کی شرٹس پہنی ہوئی تھیں،لوگ جھنڈے ساتھ لائے تھے،ان کے چہروں پر پینٹ بھی موجود تھا، اتنی بڑی تعداد میں کراؤڈ موجود رہا لیکن بہت ہی منظم انداز میں انھیں اندر بھیجا جا رہا تھا۔

اسٹیڈیم کے باہر ہی بعض ڈانسرز بھی پرفارم کر رہے تھے، میرے ذہن میں اس وقت یہی بات آئی کہ جو بیچارے موسم کی پیشگوئی دیکھ کر ٹکٹ بیچنے کی غلطی کربیٹھے اب خود کو کوس رہے ہوں گے، ویسے اگر یہ میچ نہ ہوتا تو آئی سی سی کے اربوں روپے ڈوب جاتے،90 ہزار لوگوں کو ٹکٹوں کا ری فنڈ کرنا ہی بڑا نقصان تھا لیکن اس کی نوبت ہی نہ آئی،میچ والے دن آسمان پر بادل تو موجود تھے لیکن وہ برسے نہیں،سرد ہوائیں چلتی رہیں۔

ان کنڈیشنز کا لازمی طور پر پیس بولرز کو فائدہ ہونا تھا، ارے ویسے باتوں باتوں میں کچھ زیادہ ہی ری وائنڈ ہو گیا خیر ابھی پاکستان کے اگلے میچ میں وقت باقی ہے، کل کے کالم میں بھی انشااللہ اسی پر بات کریں گے، ابھی ویسے ہی یہاں رات کے تین بج چکے ہیں، تھوڑا سو لوں پھر ملتے ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

مقبول خبریں