سرسید یونیورسٹی انتظامیہ بانی چانسلر کی خدمات کااعتراف کرنے کوتیارنہیں

برسی خاموشی سے گزر گئی،یونیورسٹی میںزیڈاے نظامی کی تصویر نہیں، فرخ نظامی


Safdar Rizvi April 14, 2014
برسی خاموشی سے گزر گئی،یونیورسٹی میںزیڈاے نظامی کی تصویر نہیں، فرخ نظامی۔ فوٹو: فائل

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے بانی چانسلرظل احمد نظامی کے صاحبزادے نے یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ نے ادارے کے بانی چانسلرکی خدمات کوپس پشت ڈال دیا۔

انتظامیہ مسلسل 18سال تک سرسید یونیورسٹی کے چانسلررہنے والے ظل احمد نظامی کی خدمات کااعتراف کرنے کو تیارنہیں اورنہ ہی انھیں یونیورسٹی کابانی تسلیم کررہی ہے، یونیورسٹی میں کہیں بھی ظل احمد نظامی کی تصویرآویزاں نہیں ، جوبلاک ان کے نام سے تعمیر کرایاگیاہے اس پر بھی ظل احمد نظامی کاکوئی تعارف موجودنہیں جبکہ بلاک کاافتتاح کرنے والے یونیورسٹی کے چانسلرعادل عثمان کے عہدے کے ساتھ ان کا مکمل تعارف لکھا گیا ہے، فرخ نظامی کاکہناتھاکہ ان کے والدظل احمد نظامی کی پہلی برسی کے موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان کی شخصیت یاخدمات کے حوالے سے کسی قسم کی تقریب کااہتمام نہیں کیا گیا جس کے بعدیونیورسٹی کے طلبا نے اس امرکومحسوس کرتے ہوئے زبردستی یونیورسٹی بند کرائی اورطلبا نے خود ہی دعائیہ تقریب کااہتمام کیا۔

کے ڈی اے نے 1988میں ریٹائرہونے والے اپنے ڈائریکٹرجنرل کو یاد رکھا ان کی برسی کے موقع پرتقریب منعقد کی گئی جس میں یونیورسٹی کے چانسلر اور وائس چانسلرکے علاوہ شہرکے تمام عمائدین شریک تھے، فرخ نظامی کاکہناتھاکہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے والدکی یونیورسٹی کے لیے خدمات کوماننے کو تیارنہیں ہے، انتظامیہ کاکہناہے کہ سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کاقیام ظل احمد نظامی کی ذاتی کاوشوں سے عمل میں نہیں آیا تھا بلکہ یہ ''ٹیم ورک''کاحصہ تھا ،سرسید یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میںزمین کا حصول ان کے والد کی ذاتی کوششوں سے ممکن ہوسکا تھا، انھوں نے انتظامیہ کی پالیسیوں کوبھی تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی کی 18برس کی تاریخ میں پہلی بار طلبا نے احتجاج کیا اور یونیورسٹی بند کرادی گئی، جلسہ تقسیم اسنادمیں بدترین انتظامات کیے گئے تھے جس سے طلبا اوران کے والدین شدید متاثر ہوئے۔

مقبول خبریں