جماعت کی خدمت میں

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کو ایک زندہ و پایندہ اور رہنما دین کی حیثیت سے مسلمانوں کی نئی نسل سے متعارف کرایا۔۔۔


Abdul Qadir Hassan April 16, 2014
[email protected]

کالم کے شروع میں دانتوں کے علاج کا ذکر ہے۔ اس کامیاب علاج پر جو خوشی ہوئی اس کا ذکر ضروری تھا۔ ورنہ مجھے معلوم ہے کہ اس بیماری کے دوران میں نے کس مشکل سے کالم لکھے اور ناغہ نہ ہونے دیا اب علاج کی خوشی میں ناغہ ہوا لیکن اس کا ازالہ جلد ہی کر دوں گا آپ بے فکر رہیں آپ کی خوشی عارضی ہو گی اور میں پھر نازل ہو جائوں گا چنانچہ بالآخر علاج دنداں کا مرحلہ طے ہوا۔ پرانے کلاسیکی علاج کے مطابق علاج دنداں اخراج دنداں بھی ہوا اور ساتھ ساتھ نئے طریق علاج سے دانتوں کی تبدیلی بھی ہوئی بہر حال متعدد طویل نشستوں کے بعد ماہر امراض دنداں نے چھٹی دے دی اس خوش فہمی اور امید کے ساتھ کہ اب عمر بھر دانتوں کا یہ مرمت شدہ سلسلہ چلتا رہے گا مگر احتیاط لازم کہ پہلی ضرب دانتوں پر ہی پڑتی ہے اور یہی ٹوٹتے ہیں۔

اس لیے انسانی معاملات میں احتیاط لازم ہے کہ دانت سلامت رہیں۔ ویسے یہ لطیفہ بھی مشہور ہے کہ جب دو آدمیوں کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی تو ایک نے کہا کہ میں تمہارے چونتیس دانت توڑ دوں گا اس پر قریب ہی موجود ایک دوست نے کہا کہ دیکھو بھائی دانت تو بتیس ہوتے ہیں یہ تم چونتیس کیسے کہہ رہے ہو ۔اس پر دانت توڑنے کی دھمکی دینے والے نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ تم ضرور بولو گے اس لیے میں نے دو دانت تمہارے بھی رکھ لیے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ دانتوں کے معاملے میں احتیاط لازم ہے یہ نہ صرف باہر سے توڑ دیے جاتے ہیں بلکہ اندر سے بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کا نتیجہ دانتوں کے ڈاکٹر سے ملاقات کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ ملاقات کئی نشستوں پر پھیل جاتی ہے اور یہ تو بتا چکا ہوں کہ انسان کے تمام اعضاء سے مہنگا علاج دانتوں کا ہوتا ہے خواہ وہ کھانے والے ہوں یا دکھانے والے، بیمار نہ ہوں۔

بات تو میں جماعت اسلامی کے نئے امیر کے ذکر سے کرنا چاہتا تھا لیکن دانتوں کے علاج کی تکمیل کی خوشخبری سنانے کی خواہش غالب آ گئی۔ میں ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جس نے جماعت کے پانچوں امیر دیکھے ہیں۔ سید مودودی کی امارت کے دور میں تو میں باقاعدہ رکن جماعت تھا اور سید کو بطور امیر کے خوب دیکھا اور ان کی جوتیوں کے صدقے میں اپنی تعمیر کی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کو ایک زندہ و پایندہ اور رہنما دین کی حیثیت سے مسلمانوں کی نئی نسل سے متعارف کرایا اور اسلامی نظریات پر حملہ آور نظریات کو شکست دے دی۔ سب سے بڑا حملہ خدا کے منکر کمیونزم کی صورت میں سامنے آیا۔ سید نے اس نظرئیے کو غیر انسانی اور غیر فطری نظریہ ثابت کیا اور ان کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی کہ ایک دن اشتراکیت ماسکو کے چوک میں اوندھے منہ زمین پر پڑی ہو گی۔

دنیا نے دیکھا کہ کمیونزم ناکام ہوا اس کا دم بھرنے والے رسوا ہوئے اور اس کے نام پر بننے والی سلطنت نیست و نابود ہو گئی ماسکو کے بازاروں میں اوندھے منہ پڑی دیکھی گئی۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے اور کیسا حق اتفاق ہے کہ کمیونزم کی بربادی اور ناکامی میں سب سے بڑا ہاتھ پاکستان کا تھا جہاں مودودی کے پیروکار سرگرم تھے۔ افغانستان میں روسی فوجیں توبہ توبہ کرتی ہوئی دریائے آمو کے اس پار بھاگ گئیں۔ اخباروں کے مختصر اور سرسری کالموں میں اس انقلاب کا ذکر نہیں کیا جا سکتا جس کی عمر مختصر مگر اثرات بہت زیادہ تھے۔

یہ جدید انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا موڑ تھا۔ کمیونزم کی تباہی سید مودودی کی اتنی کامیابی تھی کہ ان کو تاریخ میں اونچے مقام پر زندہ رکھنے کے لیے کافی تھی۔ مودودی کے پیروکار ہم پاکستانی بھی اس کامیاب و کامران نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اس انقلاب کو پسپا اور رسوا ہوتے دیکھا بلکہ اس میں حصہ بھی لیا۔ کیا سعادت ہے اور مغفرت کی کیا نوید ہے کہ پاکستانی قوم نے آنحضرتﷺ کے دین کی حفاظت کی ابدی خوشی حاصل کی۔ سید کی دوسری خوشخبری بس دیکھنی بھی شاید ہماری قسمت میں ہو کہ سرمایہ دارانہ نظام نیویارک کی عمارتوں سے ٹکرا ٹکرا کر ٹوٹ پھوٹ جائے گا اور انسانیت کو اس ظلم سے نجات ملے گی۔ کمیونزم کی طرح انسانیت اس سے بھی بچ جائے گی۔

سید مودودی کے بعد جماعت کے قیم یعنی سیکریٹری جنرل میاں طفیل محمد کو جماعت نے اپنی امارت کا اعزاز دیا۔ ان کی تقرری پر مولانا کے یہ الفاظ مجھے یاد ہیں کہ میاں صاحب جماعت کے پرانے اور کامیاب سیاسی کارکن ہیں۔ میاں صاحب نے بڑی خوبی کے ساتھ اپنا وقت پورا کیا ان کے بعض فیصلوں پر تنقید کی گئی لیکن ان کی دیانت و امانت پر کوئی حرف نہیں آیا۔ جماعت اسلامی جیسی بڑی اور نظریاتی جماعت پر تنقید ہو سکتی ہے لیکن اس کی قیادت بہت صاف ستھری تھی۔ جماعت کے قائدین کی درویشی ایک پرانی روایت ہے جو اب تک چلی آ رہی ہے۔ کارکنوں کی ایک جوڑا کپڑوں کا اور جماعت کے معمولی اور برائے نام وظیفے پر عمر گزر گئی۔ ملک غلام علی جو مولانا کے نمبر دو تھے ان کی بیگم سے کسی نے کہا کہ آپا آپ کی زندگی بھی گزر ہی گئی۔ انھوں نے جواب دیا بیٹی گزری کہاں بس کاٹ لی گئی۔ نعیم صدیقی ایک بار بلدیاتی الیکشن میں کھڑے کر دیے گئے مگر ہر روز دیر سے گھر سے باہر نکلتے۔ رانا نذر الرحمن لکھتے ہیں کہ میں نے ایک بار کہا کہ ہمارے اہم ووٹر صبح کام پر چلے جاتے ہیں۔

انھوں نے جواب دیا کہ رات کو فارغ ہوتا ہوں تو کپڑے اتار کر بیگم کو دیتا ہوں وہ ان کو دھوتی ہے اور صبح استری کرتی ہے اس میں دیر ہو جاتی ہے۔ ایسی لاتعداد مثالیں ہیں۔ خالی پیٹ لیکن چہرے پر مسکراہٹ کیا امیر جماعت اور کیا کوئی کارکن سبھی ایک جیسے تھے۔ میاں صاحب کے بعد قاضی صاحب اور قاضی صاحب کے بعد سید منور حسن اور اب کرائے کے مکان کے باسی سراج الحق۔ یہ سب حضرات ملک کی سب سے اہم جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود غیر معمولی کفایت شعاری کی زندگی بسر کرتے رہے جب کہ ان کے معاصر سیاست دانوں کا ذکر کرنا ان امراء جماعت کی توہین ہے اور ان لوگوں کی درویشانہ زندگی کوئی راز نہیں ہے۔ سب کے سامنے ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اپنی اس منفرد اور بے مثال زندگی کو سیاست میں ایک نمونہ بنا کر کیوں پیش نہیں کر سکے۔ یہ نمائش نہیں سیاسی ضرورت تھی۔ کیا کہیں کوئی خرابی ہے کوئی کمزوری ہے یا کوئی ڈر ہے۔ اس سوال پر غور کرنا لازم ہے اور یہ بحث شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہاں میں ایک ذاتی وضاحت کر دوں کہ میں مولانا کی امارت میں ہی جماعت کی رکنیت سے مستعفی ہو گیا تھا کیونکہ میں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا تھا جس میں کسی نظریاتی جماعت کی پابندی کی گنجائش نہیں تھی۔ ہر ایک کی خبر لینے دینے میں کسی جماعت کے نظریات کی پابندی مشکل ہے۔

مقبول خبریں