بھارت کی مسلم دشمن حکومت

بھارت کی حکومت نے یہ الیکشن مسلم دشمنی کے نعرے پر جیتا ہے ۔۔۔


Abdul Qadir Hassan May 27, 2014
[email protected]

کوئی67 برس پہلے ایسی ہی ایک شام تھی' گاؤں میں ایک ریڈیو بول رہا تھا اور چند روزے دار اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے اس کے گرد جمع تھے۔ وہ یہ سننا چاہتے تھے کہ پاکستان میں کون کون سے علاقے شامل ہوئے ہیں۔ افطاری سے پہلے وہ اطمینان کر کے روزہ کھولنا چاہتے تھے کیونکہ پھر نماز اور تراویح کا سلسلہ شروع ہو جانا تھا۔ اس مختصر سی محفل میں سب زیادہ بے چین بیر بل شریف کے حضرت محمد عمر تھے جب ان کو پتہ چلا کہ گورداسپور بھارت کے حصے میں آ گیا ہے تو انھوں نے بلند آواز میں کہا پھر کشمیر تو گیا' محفل میں گورداسپور اور کشمیر کے اس تعلق کی کسی کو خبر نہ تھی۔

حاضرین کو بتایا گیا کہ کشمیر کو جانے کے لیے یہی راستہ ہے جو ہندوستان کو مل گیا ہے مگر اس اطلاع کے باوجود کشمیر ہمارا ہے کے نعروں میں مجلس منتشر ہوئی اور سب لوگ گاؤں میں واحد سرکاری عمارت پرائمری اسکول کی طرف چل پڑے جہاں پاکستان کا پرچم لہرایا جانا تھا۔ 14 اگست 1947 چاند کی 27 ویں تاریخ تھی۔ ایک بڑا ہی مبارک دن' رمضان المبارک کا یہ دن اور رات اب تک پاکستان کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے اور جن پاکستانیوں نے یہ دن دیکھا تھا ان کو یہ کبھی بھول نہیں سکتا۔ مجھے بھی یہ شام آج تک یاد ہے جب مسجد کے صحن میں ایک طرف چند افراد جمع تھے اور سیاست کی باتیں کر رہے تھے۔

ہم بچے سب کے سب اسکول کی عمارت کی طرف دوڑ گئے جہاں رونق لگنے والی تھی اور قیام پاکستان کا جشن منایا جانے والا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب ہمارے گاؤں سمیت پاکستان کا ملک قائم ہونے والا تھا ان مسلمانوں کا ملک جو پورے ہندوستان کو اپنا ملک سمجھتے تھے۔ ہندؤوں کا ہندوستان بھی تھا لیکن سرزمین ہند مسلمانوں کی تھی اور انگریزوں نے ان سے چھینی تھی۔ دور رنگون میں ایک پرانے پلنگ پر حقے کی نے منہ میں لیے ہوئے شاعری کرنے والا ہمارا بادشاہ تھا بہادر شاہ ظفر جسے کوئے یار میں دفن کے لیے دو گز کی زمین بھی نہیں ملی تھی مگر یہ معزول بادشاہ ہی ہندوستان پر ہمارے اقتدار کی علامت تھا۔

قیام پاکستان کا یہ دن بھی گزر گیا۔ کھوئی ہوئی آزادی کی تلخ یادیں آج تک ہمارا حصہ ہیں جن میں ہم نے اضافہ ہی کیا ہے ہم نے اپنی آزاد سرزمین کا ایک حصہ انگریزوں کے جانشین کے سپرد کر دیا۔ یہ 1947کو آزاد ہونے والے مسلمانوں کا ایک سانحہ تھا۔ آج ہمارا وزیر اعظم اسی سرزمین ہند کا مہمان ہے اور بھارتی ٹی وی والے اپنے تبصروں میں بار بار سقوط ڈھاکا کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے پاکستانی مہمان کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں اور ٹھیک کرتے ہیں۔ ان کی لیڈر نے یہ بالکل درست کہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں سے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ چکا دیا ہے۔ آج ہم اسی ہندوستان کی میزبانی پر اس کے شکر گزار ہیں اور اس سو فیصد ہندوستانی تقریب میں شرکت کا اشارہ پا کر بے تابانہ دلی جا پہنچے ہیں۔ ہمارے لیے یہ دلی دور نہیں اب کتنی قریب ہو گئی ہے۔

کلام پاک میں ہے کہ ہم دنوں کو انسانوں کے درمیان پھیرتے گھماتے رہتے ہیں۔ بہر کیف ہم اب وہ نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے مگر پھر بھی زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کیا بعید کہ وہ دن جن میں ہمیں گھمایا جا رہا ہے کبھی ہمارے حق میں بھی بدل جائیں۔ دلی میں جو ہمارا بھارتی میزبان ہے وہ سرتا پا مسلمانوں کے خون سے لتھڑا ہوا ہے۔ بھارت کا یہ پندرھواں وزیر اعظم اب مسلمانوں کی لاشوں پر سے گزر کر وزیر اعظم بنا ہے اور داد دیجیے کہ اس نے مسلمان دشمنی کا انکار نہیں کیا ہے بلکہ گاڑی کے پہیوں کے نیچے آنے والے کسی کتے کے برابر قرار دیا ہے۔

آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیر اعظم اس کا مہمان ہے جو مسلمانوں کو انسان نہیں سمجھتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک مسلمان بن کر نریندر مودی کے عہد میں زندہ رہیں گے یا کتے بلے بن کر۔ اس سے بڑی بدقسمتی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ کیا ہم اپنی حیثیت بدلنے کی کوشش کریں گے یا نہیں۔ اگر ہم نے مسلمان بننے کی کوشش نہ کی تو پھر ہمارے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ انسانی تصور سے کچھ بعید نہیں ہے اس لیے ہمیں اب ایک نئی زندگی اختیار کرنی ہو گی ایک جرأت مندانہ زندگی۔ تاجرانہ نہیں ہم نے بھارتیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے جو ان دنوں ہم ہر ایک کو دیا کرتے ہیں لیکن قتل و خونریزی کا جو سلسلہ ملک بھر میں جاری ہے اسے بھول جاتے ہیں۔

کاروبار تو ہوتا رہے گا یا نہیں ہو گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے کھلے دشمن کے مقابلے میں زندہ رہنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہیں یا نہیں۔ اپنے ہاں سرمایہ کاری کی دعوت کوئی راستہ نہیں ہے' ہمیں اب ذہنی طور پر لوٹ جانا ہو گا یہ نہیں کہ ہم ہاتھوں میں تلوار پکڑ لیں اور مقامی لوگوں سے آمادہ جنگ ہو جائیں بلکہ اپنے آپ کو معاشی اور فوجی میدان میں زندہ کرنا ہو گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ بھارت خواہ کتنے ہی مودی لے کر آ جائے وہ پاکستان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اس کے فوجیوں کو خوب معلوم ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں ان کی اوقات کیا ہے۔

بھارت کی حکومت نے یہ الیکشن مسلم دشمنی کے نعرے پر جیتا ہے اور اس اعلان کے ساتھ کہ وہ اقتدار میں آ کر مسلمانوں کا وہی حال کریں گے جو انھوں نے2002 میں اقتدار ملنے کے بعد گجرات میں کیا ہے لیکن یہ انتخابی نعرے تھے مگر یہ بات واضح ہے کہ ہندوستان کے ہندو مسلمانوں کے بار ے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ اندرا گاندھی جیسی روشن خیال اور جدید دنیا کی حکمران خاتون نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کا نعرہ یونہی نہیں لگا دیا تھا۔ یہ اس کے دل کی آواز تھی اور ان کروڑوں ہندوؤں کی جن کی زبان وہ بول رہی تھی۔

اندرا گاندھی صاحبہ کا یہ نعرہ ہمارے پاکستان میں دیواروں تک پر نقش ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کی نسل کو پتہ چلے کہ انھوں نے جس قوم کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے وہ کیا ہیں اور کیا چاہتے ہیں' ہمیں ان کی ایسی خواہشات کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہو گا اور بھارتی مسلمانوں کے اس خوف کو ہر حال میں دور کرنا ہو گا کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ خبریں آ رہی ہیں کہ بھارتی مسلمان سہم گئے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بظاہر کمروز پڑنا ہے ہمیں برصغیر کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط پاکستان چاہیے۔ بات جاری رہے گی۔

مقبول خبریں