قابل تقلید فیصلہ
بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے لیکن اس نے اپنے اس مقصد کے لیے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا...
اخباروں میں بعض وقت ایسی خبریں چھپتی ہیں جن کی گیرائی اور گہرائی کا اندازہ مشکل ہوتا ہے لیکن عموماً قارئین ایسی خبروں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے لکھاری حضرات بھی ان ہی خبروں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو ان کی وچار دھارا سے مطابق رکھتی ہیں۔ ایکسپریس میں لگی ایک خبر ایسی تھی کہ اس پر ہماری توجہ پوری طرح مرکوز ہوگئی یہ دو کالمی خبر سعودی حکومت کے ایک انتہائی اہم فیصلے سے متعلق ہے اس خبر کی سرخی کچھ اس طرح ہے ''انتہا پسند علما کی بطور امام مسجد تقرری پر پابندی'' ۔
حکومتوں کے بعض فیصلوں میں ہوسکتا ہے حکمرانوں کے مفادات کا بھی کوئی دخل ہو لیکن سعودی حکومت نے جو پابندی لگائی ہے وہ سعودی عوام عالم اسلام اور پوری انسانی برادری کے لیے سودمند اور قابل تقلید ہے۔ یہ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان مذہبی انتہاپسندی کی وجہ سے نہ صرف بدنام ہو رہے ہیں۔ اگرچہ مذہبی انتہا پسندی سامراجی ملکوں کی پیداوار ہے لیکن اب یہ عفریت اس قدر بے لگام ہوگیا ہے کہ اس کی نظر میں اپنے پرائے جائز ناجائز کی کوئی حیثیت نہیں رہی ہے ہر روز پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا شدت پسندی کی خبروں سے بھرا رہتا ہے اور اس المیے کو کیا کہیں کہ اس کے کرتا دھرتا وہی لوگ ہیں جو مذہب اسلام کے نام پر ہر جگہ پاکستان سے افریقی ملکوں تک قتل و غارت گری کا بازار لگائے ہوئے ہیں ان کی شدت پسندی کا یہ پہلو بڑا عجیب وغریب ہے کہ ان کی ستم ظریفیوں کا شکار مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔
میرے سامنے جو تازہ اخبارات رکھے ہوئے ہیں ان کی چند سرخیاں پیش خدمت ہیں جن سے یہ اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم تنزلی کی کس انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔ سرخیاں کچھ اس طرح ہیں:
''مہمند میں دھماکا، لنڈی کوتل میں جھڑپ 8 سیکیورٹی اہلکار ہلاک''
''صومالی پارلیمنٹ پر شدت پسندوں کا حملہ20 افراد ہلاک''
''افغانستان 15 پولیس اہلکار اغوا 36 طالبان ہلاک''
''باجوڑ میں بمباری 15 شدت پسند ہلاک 30 زخمی''
''عراق بم دھماکوں میں 40 افراد ہلاک 100 زخمی''
''نائیجیریا بوکو حرام نے 200 سے زیادہ مغوی طالبات کے قتل کی دھمکی دے دی''
یہ اور اس قسم کی بے شمار سرخیاں اخبارات کے صفحات پر چنگھاڑتی نظر آتی ہیں اور ان سب کا تعلق نہ ہنود ونصاری سے ہے نہ ہندوؤں اور سکھوں سے ، ان ساری خبروں کے مرکزی کردار مسلمان ہیں اور یہ سب اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ کیا اس قتل و غارت سے مسلمانوں اور اسلام کا سربلند ہورہا ہے یا عالمی سطح پر مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی اور رسوائی ہو رہی ہے یہ ایسا سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
مسلم انتہا پسند طاقتیں اسلامی نظام کے نفاذ کی علمبردار ہیں کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرے پاکستان کی تمام مذہبی جماعتوں کے منشور میں اسلامی نظام کا نفاذ سرفہرست ہے اور یہ جماعتیں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے 66 سالوں سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں اس پر کسی کو اعتراض اس لیے نہیں کہ یہ جدوجہد پرامن جمہوری طریقے پر کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی نظام کے نفاذ کے لیے پرامن جمہوری طریقہ استعمال کیا جاتا ہے یا پرتشدد بہیمانہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے؟ اگر پاکستان کی اعتدال پسند مذہبی جماعتوں کی طرح دیگر مذہبی تنظیمیں بھی پرامن جمہوری راستہ اختیار کرتیں تو نہ ملک کے اندر کسی کو اعتراض ہوسکتا تھا نہ عالمی سطح پر کسی کو اس قسم کی پرامن جدوجہد پر اعتراض ہوسکتا تھا لیکن جب مذہبی انتہا پسند طاقتیں پرامن جمہوری راستے کو چھوڑ کر قتل و غارت کے پرتشدد راستے پر چلنے لگیں تو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ ہی اس کی مذمت اور مخالفت کی جانے لگی۔
ہوسکتا ہے تشدد کے راستے پر چلنے والی طاقتوں کو یہ احساس ہوکہ پرامن جمہوری طریقے سے اسلامی نظام نافذ کرنے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے لہٰذا اب تشدد کے ذریعے اسلامی نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو ہم معذرت کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ طریقہ اسی لیے کامیاب نہیں ہوسکتا کہ اس طریقے کو عوام کی قطعی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی اور جس جدوجہد کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہو وہ جدوجہد کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
کیا اس حقیقت سے انتہا پسند طاقتیں واقف نہیں؟ بی جے پی کو بھارت کی مذہبی انتہا پسند جماعت مانا جاتا ہے بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے لیکن اس نے اپنے اس مقصد کے لیے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا اگرچہ وہ مذہبی تعصبات مذہبی منافرت کا پرچار کرتی رہی۔ وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں 2014 کے الیکشن میں عوام نے اسے اقتدار دلادیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرامن طریقے سے اقتدار میں آنے کے باوجود کیا بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بناسکتی ہے؟ اس کا جواب نفی ہی میں آتا ہے۔
اس وقت یہ بحث غیر ضروری ہوگی کہ ''کیا بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بناسکے گی۔ کوئی بھی مذہبی ریاست خلا میں قائم نہیں ہوسکتی اس کے لیے ایک مربوط منظم اور جامعہ متبادل نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مزید ریاستیں قائم کرنے کے دعویداروں کی پٹاری خالی ہی نظر آتی ہے۔''
ہر مذہب میں عبادت گاہوں کو خدا کا گھر مانا جاتا ہے اور خدا کے گھروں کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ یہاں امن بھائی چارے محبت اور مذہبی رواداری کا پرچار ہو۔ اگر عبادت گاہوں کو محبت کی جگہ نفرت امن کی جگہ جنگ کے پرچارکے لیے استعمال کیا جانے لگے تو یہ گھر خدا کے گھر نہیں رہتے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ مسلم ملکوں میں عبادت گاہوں کو نفرت تعصب اور انتہا پسندی کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ قتل و غارت گری کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
سعودی عرب میں حکومت نے مسجدوں میں انتہا پسندی کی ترویج پر پابندی لگا کر ایک انتہائی مثبت قدم اٹھایا ہے کیا دوسرے مسلم ملکوں میں اس قسم کی پابندیاں ضروری نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب مسلم ملکوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے بھیانک تناظر ہی میں تلاش کیا جاسکتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ملک اپنے ملک و قوم کے بہتر مستقبل اور بدتر حال کے حوالے سے سعودی عرب کے اس مثبت فیصلے کی تقلید کریں اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی اور رسوائی کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔