لندن کے چند دوست

چوہدری صاحبان کی سیاست کا لندنی مرکز رزاق اور طارق عظیم کے سپرد تھا اور ہم تو لاہور میں بھی ان کے رپورٹر تھے۔۔


Abdul Qadir Hassan June 04, 2014
[email protected]

PESHAWAR: ہماری سونے چاندی کی بنی ہوئی لاڈلی قیادت ان دنوں اپنی پرانی تفریح یعنی سیاست کی بازی کھیلنے لندن پہنچی ہوئی ہے جو رئوساء اور امراء اس سیاسی کھیل سے متعلق ہیں وہ تو لندن میں ہیں ہی لیکن جو اس کھیل میں فی الحال ملوث نہیں ہیں وہ بھی کسی نہ کسی بہانے اپنے آقائوں کی راجدھانی میں فروکش ہو چکے ہیں اور سیاسی گپ شپ کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوں میں بھی مست ہیں۔ ان لوگوں کے لیے سیاست وغیرہ ایک بہانہ ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے فارسی کے ایک شاعر نے کہا تھا کہ

منعم مرا بکوہ و بیاباں برابر است

ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

کہ میرا سردار کرم فرما کہیں بھی ہو خواہ وہ بیاباں ہو یا سرسبز وادی ہو وہ جہاں بھی جاتا ہے وہاں خیمے گاڑے جاتے ہیں اور وہ دربار منعقد کر لیتا ہے۔ ہمارے رئوساء بھی لندن کے قیمتی ہوٹلوں میں تفریح کر رہے ہیں اور پاکستان کے حالات پر تبصرے جاری ہیں۔ ان لیڈروں کی سرگرمیاں ہم پاکستانیوں تک بڑی باقاعدگی کے ساتھ پہنچائی جاتی ہیں لطف یہ ہے کہ ان لیڈروں کی ایسی سرگرمیوں کا بڑا حصہ ان کے مخالف پاکستان پہنچاتے ہیں جو ان کے خیال میں ان لندنی لیڈروں کے خلاف جاتی ہیں لیکن خلاف یوں یا مواقف ہم پاکستانی لطف اندوز ہو لیتے ہیں جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا کسی میں بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔

میں ان لیڈروں کو لندن میں دیکھ رہا ہوں۔ جب آتش جواں نہ سہی جوانی کی جھلک ابھی باقی تھی تو میں ہر سال دو تین ماہ کے لیے لندن جاتا تھا۔ لندن میں ایک ڈیرہ بن گیا جہاں میرے دوست مقصود کا قیام تھا کونسل کی طرف سے اسے یہ گھر ملا ہوا تھا۔ وہ خود صبح کام پر جاتا اور شام کو لوٹتا دن بھر اور پھر شام کے بعد یہ ڈیرہ ہمارے قبضے میں ہوتا اور مقصود اس سے بہت خوش ہوتا۔

مجھ سے ملنے کے علاوہ شام کی اس محفل میں پاکستانی سیاسی چسکہ باز بھی موجود ہوتے ان میں کئی ایک پاکستانی سیاست میں آنا چاہتے تھے جو بالآخر آ گئے مثلاً طارق عظیم جو وزیر بھی بن گئے۔ اسی طرح کئی دوسرے دوست لیکن یہاں ان کا نام لکھنا مناسب نہ ہو گا البتہ میں ایک بات عرض کر دوں کہ میں نے دنیا میں جتنے شہروں میں بھی قیام کیا کسی میں اس کی تعمیرات کے حسن کی وجہ سے نہیں ان دوستوں کی وجہ سے جو یہاں مقیم تھے۔ کئی دوست چلے گئے تو میں نے بھی ان شہروں میں جانا چھوڑ دیا۔ ایک شعر یاد آ رہا ہے

شوکت ہمارے ساتھ برا حادثہ ہوا

ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

جن شہروں میں سے ہمارا زمانہ چلا گیا پھر ان شہروں کا رخ ہم نے نہیں کیا اور ان کو ان کے نئے پرستاروں کے سپرد کر دیا۔ اب اسی لندن کی بات کریں تو یہ شہر میرے دوست عبدالرزاق کا شہر تھا۔ اخبار وطن کے ایڈیٹر جس نے نہ جانے کتنے پاکستانیوں کو صحافی بنا دیا تھا۔ وہ پاکستان میں گوجر خان کے رہنے والے تھے اور ہر سال اپنے اس شہر کو بھی یاد کرتے تھے۔ ہم بھی ان کی میزبانی کے لیے موجود رہتے اور چوہدری صاحبان بھی جو ان دنوں لندن میں رزاق کو یاد کر رہے ہوں گے۔

چوہدری صاحبان کی سیاست کا لندنی مرکز رزاق اور طارق عظیم کے سپرد تھا اور ہم تو لاہور میں بھی ان کے رپورٹر تھے اور لندن میں بھی ان کی سیاست سے لطف اندوز ہوتے تھے میں نے جس ڈیرے کا ذکر کیا وہ ایک درویش ڈیرہ تھا یعنی ایک پاکستانی صحافی کی بیٹھک یہاں کی نشست و برخواست سب رزاق بھائی کے سپرد تھا جن کے لامحدود تعلقات میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے۔ ایک صاحب کھانا پکانے میں ماہر تھے جنھیں ڈاکٹر صاحب کہا جاتا تھا ان کا لذیذ کھانا پاکستان میں بھی نہیں کھایا۔

وہ سالن کا سامان اور مسالے وغیرہ ایک دن پہلے جمع کر لیتے تھے اور دوسرے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر وہ اس باورچی خانے میں پہنچ جاتے جہاں ان کی مدد کے لیے ہم سب موجود ہوتے۔ لندن میں جتنے پاکستانی بھی تھے سب کے سب کھانا پکانا جانتے تھے کیونکہ جب وہ مزدوری کے لیے اپنے آقائوں کے شہر پہنچے تو کھانا بازار سے کھانے کی توفیق نہیں تھی اس لیے چار و ناچار خود ہی پکانا سیکھا اور کچھ اس فن میں ماہر ہو گئے جیسے ڈاکٹر صاحب۔

ہمارے اس فقیرانہ ڈیرے پر پاکستانی رئوسا بھی کبھی آ جاتے اور یہ کہہ کر کہ ہوٹلوں کے کھانے سے تنگ آ گئے ہیں اور چپاتی کی شکل تک کو ترس گئے ہیں۔ اس ڈیرے پر کھانے کے وقت ایک سالن اور چپاتی پیش کی جاتی۔ ان پاکستانی لیڈروں کے ہمراہ ایک بار ایک نو دولتا سیاست دان بھی آ گیا۔ کھانے کے بعد اس نے ڈاکٹر صاحب کو نقد تحفہ پیش کرنے کی کوشش کی تو پھر اس کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ایسا تھا کہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ اسی شام پہلی فلائٹ سے جگہ ملنے پر واپس پاکستان آ گیا۔ یہ مزدور دولت مندوں کا ڈیرہ تھا کسی چوہدری کا نہیں جس کی کچھ روایات تھیں اور کچھ رکھ رکھائو تھا۔

ڈیرے کے کچن کے اخراجات کا انچارج رزاق بھائی تھے۔ سوا ئے کھانے کے اور جو کچھ بھی ہوتا وہ مہمان خود لے کر آتا۔ بس یہی تو حسن تھا۔ اور اسی حسن کی برکت سے یہ سب چلتا تھا اور میں جو ہفتہ دو ہفتہ کے لیے جاتا تھا واپس آنے میں دو چار ہفتے لگ جاتے تھے مگر پھر بھی لندنی دوست ناراض ہو جاتے خصوصاً مقصود جو اس مقام کے اصل مکین تھے اور پڑوس کے انگریزوں کو اس نے بتا رکھا تھا کہ میرے یہ دوست اگر کوئی بدتمیزی کر لیں تو اس کی سزا کے لیے میں حاضر ہوں۔

کبھی کبھار یہ انگریز جرمانہ بھی کر دیتے جو ہم سب شکریے کے ساتھ ادا کر دیتے اور یہ انگریز اس خوشی میں ہماری ایک چھوٹی سی ایک اور دعوت بھی کر دیتے۔ ہم جب دوبارہ لندن جاتے تو ان کے کوئی تحفہ لے جانا نہ بھولتے جس سے وہ بے حد خوش ہوتے اور اس کے شکریے میں ایک اور دعوت۔ ہم میں سے کئی لوگ تو ان کو بھول گئے اور پھر لندن نہیں گئے۔ مثلاً رزاق جب چلا گیا تو گویا لندن بھی چلا گیا پھر ہم نے سات سمندر پار والے اس شہر کا رخ نہیں کیا جس کے ساتھ ہماری ذاتی ہی نہیں قومی یادیں بھی وابستہ تھیں۔ سنا ہے کبھی وہ زمانہ بھی تھا جب کوئی لندن میں ہو کر آتا تو اپنے نام کے ساتھ لندن پلٹ بھی لکھتا تھا اور اس اعزاز پر خوش ہوتا تھا۔

مقبول خبریں