ڈپلومیسی کا کتا نہ حلال نہ حرام
دراصل شیخ الازھر نے یہ فتویٰ تاخیر سے جاری کیا کہ ووٹ ڈالنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔
ساڑھے تین ہزار سال کی معلوم مصری تاریخ میں آزادانہ ووٹ کی بنیاد پر پانچ برس کے لیے منتخب ہونے والے پہلے صدر محمد مرسی کی بمشکل سال بھر چلنے والی حکومت کا تختہ الٹنے والے وزیرِ دفاع جنرل عبدالفتح السیسی نے گذشتہ ہفتے یکطرفہ صدارتی انتخابات بھاری اکثریت سے جیت کر جمہوری حلالہ کرلیا۔ شائد میں کچھ غلط کہہ گیا۔
تکنیکی اعتبار سے یہ یکطرفہ صدارتی انتخابات نہیں تھے۔ ایک اور صاحب حمد بن صباحی بھی اپوزیشن صدارتی امیدوار کا کردار نبھا رہے تھے۔ انھیں جنرل سیسی کے ساڑھے چھیانوے فیصد ووٹوں کے مقابلے میں صرف تین فیصد ووٹ ملے۔یہ الگ بات کہ مجموعی ووٹنگ ٹرن آؤٹ سرکاری دعووں کے مطابق ساڑھے سینتالیس فیصد اور زیرِ عتاب اخوان المسلمون کے اندازوں کے مطابق لگ بھگ بارہ فیصد رہا۔
6 اپریل نامی نوجوانوں کی جس سیکولر انقلابی تحریک نے سابق آمر حسنی مبارک اور پھر پہلے منتخب صدر محمد مرسی کا بوریا بستر گول کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے بھی جنرل سیسی کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔
لگ بھگ ایک ماہ سے زائد کی انتخابی مہم کے دوران ہر ٹی وی چینل، ہر دیوار اور ہر چوک پر السیسی السیسی ہوتا رہا۔اس ماحول سے متاثر ہو کر خود جنرل سیسی نے بھی جوشِ خطابت میں کہیں کہہ دیا کہ کم ازکم پچاس فیصد ووٹر انھیں صدر منتخب کرنے کے لیے پولنگ میں حصہ نہیں لیں گے تو پھر میں صدر بننے سے معذرت کرلوں گا۔سب ہی کو امید تھی کہ پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اخوان المسلمین کے مختصر دورِ حکمرانی سے تنگ آئے لوگوں کے ٹھٹھ لگ جائیں گے۔لیکن ہوا یہ کہ ایک دن کی پولنگ کو بڑھا کر تین دن کی پولنگ میں بدلا گیا تاکہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ کم ازکم پچاس فیصد تک تو آجائے۔مگر یہ ہو نہ سکا۔چنانچہ تاویلات شروع ہو گئیں۔
'' ارے بھئی شدید گرمی تھی اس لیے لوگ بڑی تعداد میں ووٹ دینے نہیں آئے۔بھائی میاں بیشتر لوگوں کو یقین تھا کہ جنرل صاحب تو جیت ہی جائیں گے اس لیے لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر بے فکری سے چھٹی کا لطف اٹھایا۔اصل میں چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کالعدم اخوان نے ووٹروں کو ڈرا دھمکا کر گھروں تک محدود کردیا۔نہیں یار بہت سے لوگ ممتاز مذہبی عالم شیخ یوسف القدراوی کے اس فتوے کے سبب ووٹ دینے نہیں آئے کہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنا حرام ہے۔ برخوردار یہ بات نہیں ہے۔
دراصل شیخ الازھر نے یہ فتویٰ تاخیر سے جاری کیا کہ ووٹ ڈالنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔ جنابِ والا حکومت نے بھی تساہل کا مظاہرہ کیا۔ اگر وہ ووٹ نہ ڈالنے پر پانچ سو لیرا جرمانے کا قانون تندہی سے استعمال کرتی تو میں دیکھتا کہ کون گھر میں بیٹھا رہتا۔ بہرحال وجہ کچھ بھی رہی ہو ووٹنگ ٹرن آؤٹ پچاس کا ہندسہ پار نہیں کرسکا۔ پھر بھی جنرل سیسی کے مصاحبین کے بقول جنرل صاحب نے تاریخی اکثریت سے جیت کر نئے آئین کے تحت صدارتی حلف اٹھا لیا۔اس نئے آئین کا قصہ بھی خوب ہے۔ جنوری میں اس کے مسودے پر ریفرنڈم ہوا جس میں صرف ساڑھے اڑتیس فیصد رجسٹرڈ ووٹ پڑے لیکن یہ بات تو ماننی ہی پڑے گی کہ ان اڑتیس فیصد ووٹروں میں سے اٹھانوے فیصد نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔
( محمد مرسی نے بھی نئے آئینی مسودے پر ریفرنڈم کروایا تھا جس کے حق میں اکیاون فیصد ووٹ آئے تھے لیکن اس وقت حزبِ اختلاف نے اسے ایک آمرانہ ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔اور پھر اسی اپوزیشن نے جنرل سیسی کے بنائے ہوئے آئین کو اڑتیس فیصد ووٹوں کے ساتھ خاموشی سے قبول کرلیا )۔
پچھلے ایک برس سے جنرل سیسی کی انتظامی توجہ امن و امان کی بحالی پر ہے۔محمد مرسی کی معزولی کے فوری بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں میں ڈیڑھ ہزار سے زائد مظاہرین ہلاک ہوئے۔سولہ ہزار ''اخوانی شرپسند ''جیلوں میں ہیں۔ پچھلے اگست میں جن چار پولیس والوں کو سیاسی قیدیوں سے بھری ایک پولیس وین کے اندر آنسو گیس کے شیل پھینک کر سینتیس قیدیوں کی ہلاکت کا مجرم پایا گیا انھیں ابھی تین روز پہلے ایک عدالت نے بے قصور قرار دے دیا ہے۔اور اسی دن ایک اور عدالت نے دس اخوانیوں کو سزائے موت سنا دی۔اس سے پہلے دو الگ الگ عدالتیں علی الترتیب پانچ سو انتیس اور چھ سو تراسی ملزموں کو بنا شنوائی سزائے موت سنا کر انصاف کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کرچکی ہیں۔مگراقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کے سوا کسی بھی سرکردہ مغربی و مشرقی حکومت کی جانب سے کوئی حرفِ مذمت و تشویش سامنے نہیں آیا۔
اچھی بات یہ ہے کہ شیخ الاظہر احمد الطیب نے پانچ روز پہلے ہی سرکاری چینل الحیات کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عرب اسپرنگ دراصل عربوں میں نفاق ڈالنے اور ان کی ثقافت کو برباد کرنے کی مغربی سازش تھی۔
جس وقت مصر میں جنرل سیسی کی سرپرستی میں جمہوری انتخابی عمل جاری تھا عین اسی وقت شام میں بھی صدارتی انتخابات ہورہے تھے۔جس طرح جنرل سیسی نے شاندار فتح حاصل کی اسی طرح صدر بشار الاسد بھی کل ڈالے جانے والے ووٹوں کا اٹھاسی فیصد حاصل کرکے عظیم الشان عوامی اعتماد سے تیسری بار مالامال ہوگئے۔مصر کے صدارتی انتخاب میں تو صرف دو امیدوار تھے۔شام کے صدارتی انتخاب میں صدر بشار الاسد سمیت پہلی مرتبہ ایک سے زائد یعنی چار امیدواروں نے حصہ لیا۔مصر میں بھی تین دن پولنگ ہوئی اور شام میں بھی تین دن۔جس طرح مصر کے انتخابی عمل کو مغربی مبصرین نے تسلی بخش قرار دیا اسی طرح شام کے انتخابی عمل کو روس ، ایران اور وینزویلا کے انتخابی مبصرین نے تسلی بخش قرار دیا۔
امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے مصر کے نو منتخب صدر کو کامیابی پر مبارک باد دی اور ان کے ساتھ شدت پسندی کے تدارک اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔لیکن انھی حکومتوں نے شام کے صدارتی انتخابات کو ایک دھوکہ اور صدر بشار الاسد کے اقتدار کو جائز ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش قرار دیا۔سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے'' نو منتخب '' مصری صدر کو معیشت کی بحالی کے لیے مزید مالی تعاون کا یقین دلایا جب کہ انھی خلیجی ریاستوں کی جانب سے شامی حکومت کے مخالفین کو بشار الاسد کی عوام دشمن آمریت کے خلاف جدوجہد میں مزید تعاون کا یقین دلایا گیا۔( آپ نے غور فرمایا؟ خلیجی ریاستوں کی جانب سے شامی آمریت کی مخالفت۔۔۔)
جس طرح گذشتہ برس محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی پاداش میں امریکا نے فوری طور پر مصر سے فوجی تعاون عارضی معطل کرتے ہوئے مصری فوجی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ حالات معمول پر آتے ہی منصفانہ اور شفاف انتخابات کرواکے اقتدار جمہوری نمایندوں کو منتقل کرے بالکل اسی طرح پچھلے ماہ جب تھائی فوج نے وزیرِ اعظم ینگلک شن وترا کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو امریکا نے مصر کا نام ہٹا کے تھائی لینڈ کا نام لکھا اور وہی فوٹو اسٹیٹ ردِ عمل جاری کردیا۔امریکی ردِ عمل کو مسترد کرتے ہوئے جس طرح جنرل سیسی نے کہا تھا کہ '' ہم یاد رکھیں گے کہ کس نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور کس نے نہیں دیا '' بالکل یہی جملہ مارشل لا لگانے والے تھائی فوج کے سربراہ جنرل پریات کے ترجمان نے امریکا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے دھرا دیا۔
مصر کے نومنتخب صدر جنرل سیسی کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے صدر اوباما کی جانب سے چار جون کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔لیکن اسی وائٹ ہاؤس سے اسی چار جون کو چین کے دارلحکومت بیجنگ کے تئین آن من اسکوائر کے قتلِ عام کی پچیسویں برسی کے موقع پر حکومتِ چین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انیس سو اناسی میں ایک ہزار سے زائد جمہوریت نواز احتجاجیوں کی ہلاکت، گرفتاریوں اور گمشدگیوں کے بارے میں درست حقائق منظرِ عام پر لائے۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا بیجنگ حکومت پر زور دیتا رہے گا کہ وہ چینی عوام کی بنیادی انسانی آزادیوں اور حقوق کا عملی احترام کرے۔
کتا کہیں پورا پورا حلال ہوتا ہے اور کہیں مکمل حرام۔ لیکن مفاداتی سیاست کی دنیا میں یہ فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔دیکھنا پڑتا ہے کہ کتا کس کا ہے اور کس نسل کا ہے۔تب کہیں جا کے طے ہوتا ہے حرام اور حلال کا مسئلہ۔اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کتا آج حرام ہے وہ کل بھی حرام ہی رہے۔اسی کو ڈپلومیسی اور عملیت پسندی کہتے ہیں۔آپ کیا سمجھ رہے تھے ؟؟؟
( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.comپر کلک کیجیے )