ہندو اور ہم پاکستانی
ہمارے حکمرانوں کی مصروفیات ایسی ہو گئی ہیں کہ اب نئی خبروں کے مطابق ان کے درمیان بھی دراڑیں پڑنی شروع ہو گئی
لاہور:
کراچی ایئر پورٹ پر تازہ تماشا دکھا کر طالبان نے پاکستان سے کہا ہے کہ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے۔ یہ طالبان کی تازہ ترین کارروائی ہے جس میں پاکستان کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوا اور اس کے دوسرے نقصانات رفتہ رفتہ سامنے آتے رہیں گے شاید پہلا نشانہ کرکٹ وغیرہ کے میچ ہوں یا کچھ اور بھی۔ بہر کیف طالبان نے اس ایک واردات سے ہی پاکستان کا بہت نقصان کر دیا۔ ایک مسلمان ملک کا نقصان، وہ اسلام جس کے لیے جان قربان کرنے کا دعویٰ یہ لوگ کرتے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں۔
زبردست قسم کی اسلامی شکل و صورت اور اسلامی قسم کا لباس، زبان پر کلمہ اور نماز اور اسلام کی ہر نشانی کی پیروی جس سے وہ زبردست قسم کے مسلمان دکھائی دیں، یہ سب طالبان کی اپنی پالیسی اور چال ڈھال ہے، ہم تو بس عام قسم کے مسلمان ہیں حسب توفیق نماز روزہ اور مسلمانوں کی جان و مال کا احترام اللہ تعالیٰ سے ڈر ڈر کر زندگی بسر کرنے والے کہ نہ جانے کس گناہ میں پھنس جائیں اور سخت سزا کے حقدار بن جائیں۔ انسانی جان اور کسی مسلمان کی جان کو تو قرآن و سنت میں جو احترام دیا گیا ہے اس پر کچھ عرض کرنے کی گنجائش ہی نہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور مسلمان کا قتل تو ہر حال میں ناقابل معافی ہے کہ مسلمان کا قاتل جہنم میں مسلسل اس جرم کی سزا پاتا رہے گا۔ ہم نہ مولوی نہ مفتی علماء سے سنی ہوئی اسلامی تعلیمات کو یاد رکھنے کی کوشش کرنے والے جب کہ طالبان کی تصویر ہی دیکھیں تو ان کی اسلامی ہیبت سے دل کانپ جاتا ہے۔ میں نے ایک آدھ بار جیتے جاگتے طالبان کو دیکھا ہے اور اب تک خوفزدہ ہوں۔ کیا رعب داب تھا۔ چشم ابرو سے ہی کسی کے لیے موت ہو سکتی تھی۔
طالبان کا جب ظہور ہوا تو میں نے انتہائی احترام کے ساتھ ان کا ذکر کیا اور اپنے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ طالبان کے مطالبات کو بہت اہمیت دیں اور ان کی باتوں کو بے حد غور سے سنیں، یہ لوگ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور بہت ہی غور و فکر اور سوچ سمجھ کے ساتھ انھوں نے اپنے مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ میں ان مطالبات کی گہرائی میں اس وقت نہیں جا سکتا سوائے اس کے کہ یہ کسی پاکستان کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے۔
میں نے ایک بات عرض کی تھی کہ میری عمر کا ابتدائی حصہ ان طالبان کی قربت اور خیالات سے وابستگی کے ساتھ گزرا ہے۔ میں نے ان کے اساتذہ سے ان کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے اور اس مزاج کو سمجھا ہے جو یہ حلیئے بنا دیتی ہے اور اسے پھر اپنا ایمان اور عقیدہ سمجھتی ہے۔ ان کا ایک خوفناک مطالبہ یہ تھا کہ وہ پاکستان کے کسی حصے میں پاکستان بنانا چاہتے تھے۔ شروع میں انھوں نے یہ بات صاف صاف کہہ بھی دی تھی جو بعد میں ترمیم کی زد میں آ گئی اور اس کی شکل و صورت بدل سی گئی۔ طالبان میرے لیے اجنبی نہیں تھے اور نہ ہی میں ان کے لیے۔ میں نے ان کے مطالبات کو خوب سمجھا اور ان مطالبات کے نتائج سے بھی آگاہ ہونے کی کوشش کی۔
ایک طرف طالبان اور دوسری طرف ان کے ابتدائی مطالبات ان سب کو سامنے رکھ کر اس پاکستانی نے اپنی حکومت اور ارباب اقتدار سے گزارش کی کہ وہ فوری فیصلے کریں اور جو مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے کو ختم کر دیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی نا ممکن ہے۔ بعد میں جب حکومت نے اپنی مذاکراتی ٹیم ترتیب دی تو اس میں شامل بعض حضرات میرے مہربان تھے۔
میں ان کو جانتا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ میں ان کے سامنے اس ضمن میں اپنا موقف بیان کروں گا وہ توجہ سے سنیں گے لیکن ان دنوں حکمران بہت جوش میں تھے اور میں نے بھی مداخلت کو مناسب نہ سمجھا۔ سرکاری مذاکراتی ٹیم نے بہت کوشش کی بہت سر مارا لیکن طالبان اپنے موقف پر جمے رہے میں چونکہ ایک بزدل آدمی ہوں اس لیے خود ہی پسپا ہو گیا اور جان بچا لی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے آہستہ آہستہ اپنا موقف بدل لیا اور طالبان سے بچ گئے اور اب تو انھوں نے اعلان کر دیا ہے کہ ہم اس محبت سے باز آ گئے ہیں۔ ادھر طالبان نے بھی مذاکرات سے تنگ آ کر دامن کھینچ لیا ہے اور فی الحال اس تمام سلسلے سے الگ ہوتے ہوئے کراچی کا ہنگامہ کر دیا ہے اور اس کو اپنے ذمے لے لیا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی مصروفیات ایسی ہو گئی ہیں کہ اب نئی خبروں کے مطابق ان کے درمیان بھی دراڑیں پڑنی شروع ہو گئی ہیں جنھیں کوئی جنگلہ بھر نہیں سکتا۔ اس وقت ہم شدید خطرے میں ہیں امریکا افغانستان سے شکست کھا کر اپنے زخم چاٹتا ہوا واپس جا رہا ہے اور بدقسمتی سے اس کی واپسی کے راستے پر ہم پڑے ہیں۔ اتنی بڑی طاقت جب پسپائی کرتی ہے تو اس کی پسپائی کسی عام فوج کی واپسی نہیں ہوتی۔ وہ ایک قیامت بن جاتی ہے اور اس کی پسپائی بھی ایک قیامت کا سفر ہوتا ہے۔
پاکستان کے اہل فکر کو اندازہ ہو گا کہ وہ افغانستان جنگ کے کس خطرناک اور تباہ کن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی عام سی واردات بھی ہوتی ہے تو ہم ایکسپوز ہو جاتے ہیں جیسے کراچی ایئر پورٹ کا حادثہ۔ ہم تو کچھ بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ہمارے ارباب حل و عقد کی مصروفیات ملک کے دفاع سے کچھ الگ دکھائی دیتی ہیں۔ جس پاکستانی حکمران کو بھارت میں دوست حکمران دکھائی دیں اس کے بارے میں کیا عرض کیا جا سکتا ہے۔ کراچی کے حادثے میں بھی ہمیں پتہ چلا کہ اسلحہ بھارتی تھا۔ پھر بھی ہم آنکھیں بند رکھیں تو ہماری مرضی۔ ہم پاکستانی، ہندو کو کبھی دوست نہیں سمجھ سکتے ورنہ پاکستان کیوں بنایا جاتا۔ اب میرا خیال ہے کہ اس بحث کو پھر سے زندہ کیا جائے اور اپنی توفیق بھر اسے بیان کیا جائے لیکن یاد رکھیں کہ طالبان سے علیحدگی لازم ہے اس کے سوا چارہ نہیں ہے۔