ایک اور محاذ

سچ ہے انسان کے لیے ایک بہترین گڑھا اس کے اپنے سوا کوئی اور نہیں کھود سکتا۔ ایک ایسی جماعت کو شہید فراہم کردیے گئے،



MULTAN: سچ ہے انسان کے لیے ایک بہترین گڑھا اس کے اپنے سوا کوئی اور نہیں کھود سکتا۔ ایک ایسی جماعت کو شہید فراہم کردیے گئے، جس کے کارکنوں کی کبھی شاید انگلی بھی نہ کٹی ہو۔ سفید ریش بزرگ پر برستی لاٹھیاں، خواتین کے سینوں میں اتاری گئی گولیوں اور سروں سے اتاری گئیں رداؤں کا بوجھ اٹھانے کی اس حکومت میں کتنی سکت ہے آنے والا وقت ہی اس کا فیصلہ کر گا۔ علامہ قادری اس سانحے کے بعد انقلاب لاتے ہیں یا نہیں مگر حکومتی قلعے میں یہ واقعہ گہری دراڑیں ڈال چکا ہے۔

دن رات غوروخوض کے بعد محمود خان اچکزئی کے مشورے کو عملی جامہ پہنانے کا سوچا گیا۔ عوامی تحریک کے رہنما کی کمزوریوں کو زیر بحث لایا گیا ہو گا جو آج جس مقام پر ہیں اس میں بڑے میاں کا بڑا ہاتھ ہے۔ حکومتی ایوانوں میں موجود کسی عالی دماغ کی نظر منہاج القرآن کے مرکز کے سامنے ان رکاوٹوں پر جا ٹکی ہو گی جو عرصہ چار سال سے موجود ہیں اور باقاعدہ عدالتی احکامات کا تحفظ جنھیں حاصل ہے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر علامہ قادری کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا سوچا گیا۔ خیال رہا ہو گا کہ اس طرح کی کارروائی سے عوامی تحریک کے کارکنان میں اشتعال پھیلے گا، جلاؤ گھیراؤ کی کیفیت پیدا ہو گی۔ افراتفری پر قابو پانے کے لیے حکومت داروگیر کا سلسہ شروع کرے گی اور موقع دیکھ کر علامہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔ ایرپورٹ پر اترتے ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دیا جائے گا۔

منصوبہ شاندار تھا مگر اندازے کی معمولی سی غلطی جو پولیس کے پروفیشنلزم کے حوالے سے تھی الٹا آنتوں کا گلے پڑنے کا سبب بن گئی۔ مبینہ طور پر پولیس پر فائرنگ کے بعد ہماری بہادر پولیس نے عورتوں اور بچوں پر براہ راست گولیاں چلائیں اور اس بات کو غلط ثابت کیا کہ ان کے پاس زنگ آلود بندوقیں ہوتی ہیں اور یہ کہ وہ انھیں چلانا نہیں جانتے۔ پولیس کی تمام جانبازی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لی گئی۔ ایک اعلی پولیس افسر کس دلیری سے ایک خاتون کا بازو مروڑ رہے تھے۔

کس جانفشانی سے جوان، بنتِ حوا پر ڈنڈے برسا رہے تھے۔ دکانیں توڑ کر مشروبات کی بوتلیں نکالتے نوش کرنے کے بعد مشتعل ہجوم پر اچھال دیتے۔ اس سب میں جس چیز نے جوش و ولولے کو یک لخت مہمیز کیا وہ شیر لاہور گلو بٹ کے ایمان افروز نعرے تھے جو پولیس کی قیادت کر رہا تھا ہاتھ میں ڈنڈا لہراتا ایک بہترین سپہ سالار کی مانند وہ سب سے آگے تھا۔ پاکستانی عوام ایسے نادرالوجود شخص کو کبھی نہ جان پاتی اگر گاڑیوں کی ایسی کی تیسی کرتے ہوئے اس کی وڈیو منظر عام پر نہ آجاتی۔ کہنے والے کہتے ہیں گلو بٹ خادم ِاعلیٰ کے ترکش کا ایک ادنیٰ تیر ہے۔ حیران کن سوال یہ ہے کہ اس طرح کے سورماؤں کے ہوتے کیا طالبان اس ملک پر قابض ہو سکتے ہیں؟

ایک سابق وزیر صاحب کی منطق ہے کہتے ہیں پنجاب میں نو گو ایریاز کی کوئی گنجائش نہیں، بیرئیر تو ان کے گھر کے سامنے بھی ہو گا۔ باقی حکمرانوں کے بنگلوں کے آس پاس ایسے انتظامات تو ہیں ہی۔ حکمران تو اپنی سیکیورٹی کے بارے میں اتنے حساس ہیں کہ پولیس پر اعتبار نہیں اور فوج سے حفاظتی اقدامات کی درخواست کر ڈالی۔ اوپر سے ان کی سادگی تو دیکھا چاہیے۔ کہتے ہیں اگر ذمے دار ثابت ہوا تو استعفٰی دے دوں گا۔ شاید ان کی دانست میں ذمے داری تب بنتی ہے جب بذات خود بندہ بندوق اٹھا کر فائرنگ کرے۔ آٹھ افراد جاں بحق ہوئے، 100 کے قریب زخمی جن میں سے 20 آئی سی یو میں ہیں اور جوابدہی کے لیے کوئی تیار نہیں۔ وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور یہ اچنبھے کی بات تو ہونی نہیں چاہیے کہ اس عمل کو سر انجام دینے والے وہی ہیں جن سے یہ عمل سر زد ہوا ہے۔ حالیہ آپریشن نے سُکھ کے چند لمحے میاں صاحب کو فراہم کیے تھے جس میں وہ آئندہ کے لائحہ عمل پر سوچ بچار کر سکتے تھے۔ اپنوں کی بیوقوفی نے انھیں ایک اورمحاذ کی جانب دھکیل دیا۔

علامہ طاہرالقادری مذہبی اور سیاسی دونوں حوالوں سے متنازعہ شخصیت ہیں۔ جان کا خوف انھیں ملک سے باہر لے گیا۔ کینیڈا کی شہریت وہ ترک کرنے پر تیار نہیں، دھاتی مگر پر آسائش کنٹینر میں بیٹھ کر وہ انقلاب کی باتیں کرتے ہیں ان باتوں کو لے کر اکثر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر یہ بات بھی پیش نظر ہونی چاہیے کہ ان کے معتقدین کی تعداد اتنی ضرور ہے کہ حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا سکتے ہیں۔ مگر اب پہلے کی طرح محض دھرنا، مذاکرات اور پھر واپسی پر بات منتج نہیں رہ پائے گی۔ اب معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

طاہر القادری فقط پر امن دھرنوں، اپنی پرجوش تقریروں سے انقلاب لانے کے آرزو مند تھے یہ مار دھاڑ ان کے منصوبے کا حصّہ کبھی بھی نہیں رہی۔ اب جب کہ وہ 23 جو ن کو وطن واپس آرہے ہیںتو ان کی اصلیت سب کے سامنے آ جائے گی آیا وہ صرف گفتار کے غازی ہیں یا وہ واقعی سب کر دکھائیں گے جو انھوں نے کہا اور ایک بچی سے ( جس کی والدہ اور پھپھی کو قتل کر دیا گیا جس کا ماموں جیل میں ہے) کیاگیا وعدہ ایفاکریں گے، جسے دلاسہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ظالموں سے ٹکرا جائیں گے چاہے انھیں شہید ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔

بہرحال بیٹھے بیٹھائے علامہ قادری کو انقلاب کے لے شہدا مل گئے، لوگوں کی ہمدردیاں اب عوامی تحریک کے ساتھ ہوں گی۔ تحریک انصاف کو ٹاک شوز میں کف اڑانے کے لیے مواد ہاتھ آگیا اور عمران خان جو گو مگو کی کیفیت میں تھے کہ علامہ کا ساتھ دیا جائے یا نہیں اب ڈنکے کی چوٹ پر ببانگ دہل علامہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس ملک کو جمہوریت سے نجات دلوا سکتے ہیں اور اس کام کے لیے حکومت وقت اپنی کامیابی کا راز آشکار کر کے بنیاد فراہم کر چکی۔ عوامی حلقوں کے شدید دباؤ پر اس راز کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں