لاہور میں ایک پردیسی اور شاہ صاحب
میری نئی بے نیازانہ زندگی اپنے آپ میں مگن رہنے کی عادت لیکن ہر ایک کے لیے محبت خصوصاً اپنی اولاد کے لیے۔
لاہور شہر میں باہر سے آ کر آباد ہونے والے کسی 'لاہوری' نے ایک بار کہا کہ یہ شہر بہت کنجوس ہے اور جو کوئی پردیسی یہاں مقیم ہونا چاہتا ہے ضروری نہیں کہ یہ اسے قبول کر لے۔ کئی آئے اور لاہور کو دیکھ کر واپس چلے گئے اور یوں 'جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا' کی کہاوت پر پورے اتر گئے۔ معلوم نہیں لاہور کے بارے میں اس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آنے یعنی پیدا ہونے کے لیے لاہوری ہونا ضروری ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا آپ کہیں بھی ہوئے ہوں لاہور کے در و دیوار پر ایک نظر ڈال کر اپنی پیدائش اور زندگی کا یقین کرلیں۔
بہر کیف مطلب جو بھی ہے میں اس کہاوت پر پورا اترتا ہوں اور کسی لاہوری کی بات پر بھی۔ میں جب لاہور آیا تو اس شہر نے گویا باہیں پھیلا کر مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور برسوں گزر گئے اس نے مجھے اپنی آغوش سے آزاد نہیں کیا یعنی میں ان خوش نصیب 'لاہوریوں' میں سے ہوں جو لاہوری بن گئے اور لاہور نے انھیں لاہوری تسلیم کر لیا۔ ایک بہت ہی گھسے پٹے پرانے گائوں کا لڑکا ایک بہت ہی بڑے شہر میں آ گیا اور اب تک اسی شہر میں مقیم ہے۔ لاہور کے پردیس میں جن دوستوں بلکہ بھائیوں نے مجھے لاہوری بننے میں آسانیاں پیدا کیں ان میں پہلا نام تو میاں فاروق الطاف کا ہے۔
ایک نسل در نسل اور پشت در پشت سے لاہوری پہلے آنے والا۔ وہ سیاست سے شغف رکھتے تھے اور میں ایک صحافی تھا بلکہ بات بڑھی اور میں نے بھٹو صاحب کے سخت دور میں ایک ہفت روزہ 'افریشیا' نکال لیا تو اس کا دفتر لاہور کی مال روڈ کی کمرشل بلڈنگ میں میاں صاحب کے فلیٹ کے ایک حصے میں قائم ہوا سیاسی جماعتوں پر کڑکی کا زمانہ تھا چنانچہ پنجاب مسلم لیگ کا ایک دفتر کمرشل بلڈنگ کے اس فلیٹ میں میاں صاحب کے ذاتی کاروباری دفتر میں قائم ہوا۔ یہاں میں نے سَچّے اور سُچّے مسلم لیگی لیڈر بار بار دیکھے۔ کیا شان تھی۔
خواجہ محمد صفدر یا چوہدری محمد حسین چٹھہ قریب کے کسی بس اسٹاپ پر اترے اور ایک بستہ نما لے کر اس دفتر میں آ جاتے۔ ان بستوں میں ان کی روزمرہ کی ضروریات ہوا کرتی تھیں۔ چٹھہ صاحب پائپ پیتے تھے اور پائپ کا سامان خاصا ہوتا ہے جس کے لیے بیگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواجہ صاحب کے پاس کاغذات کے پلندے ہوتے تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس یہ دونوں لیڈر سیالکوٹ اور شیخوپورہ سے کسی بس پر بیٹھتے۔ کوئی نخرہ نہیں تھا بس ایک فروتنی اور شرافت اور شائستگی تھی جو ان کی عظیم شخصیت کا حصہ بن گئی اور جسے دیکھ کر ہم لوگ صرف رشک ہی کرتے اور یہ سوچ کر خود بھی اہم ہو جاتے کہ ان لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔
ایک صاحب تھے بارے خان یہ مسلم لیگ دفتر کے نگران تھے۔ ململ کی طُرّے والی سفید پگڑی ان کا خاص نشان تھی۔ میرا خیال ہے یہ بھی میاں فاروق کے ذمے ہوتے تھے کیونکہ باقاعدہ مسلم لیگ تو تھی ہی نہیں۔ لاہور میں مقیم ایک بہت بڑے مشہور لیڈر سے سالانہ ڈھائی سو روپے کا چندہ وصول کرنا تھا پہلے تو خط سے یاد دہانی کرائی گئی پھر ایک وفد اچھے کپڑے پہن کر حاضر ہوا لیکن چندہ پھر بھی نہ ملا کل پرسوں پر ٹال دیا گیا۔ یہ تھا سیاستدانوں کا اپنی جماعت سے تعلق کا ایک نمونہ جن کی سیاست کا مرکز لاہور تھا اور لاہور نے ان کو ان کی سیاست سمیت قبول کر لیا تھا۔
میں بات ان لوگوں کی کر رہا تھا جو لاہور میں میرے خصوصی مہربان اور ایک پردیسی کے مفادات کے محافظ تھے ان میں میاں صاحب کے بعد مرحوم ایڈووکیٹ اقبال احمد خان تھے۔ مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور قومی سیاست کے ایک مرکز۔ ہر جماعت کے لوگ ان سے رجوع کرتے تھے اور میرے ان کے ساتھ بہت ہی ذاتی تعلقات بن گئے خانۂ واحد۔ خان صاحب کیا آدمی تھے بس ایسے لوگ اب قصوں کہانیوں میں ہی ملتے ہیں اداس اور پریشان کرنے کے لیے۔ عجیب اتفاق ہے کہ میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور لاہور میں بھی ایسے مہربان ملے جو میرے سرپرست تھے اور میں ان کا چھوٹا بھائی تھا۔ ان دوستوں بلکہ بھائیوں کی وجہ سے میں اب تک عمر کے اس سینئر حصے میں بھی لاہور کا ایک چھوٹا شہری سمجھتا ہوں جس کا ہر بڑا لاہوری سرپرست اور مہربان ہے۔
میں آج اپنے لاہوری سرپرستوں کا ذکر کر رہا ہوں اور ان سب سے بڑا دکھ سکھ کا مہربان اور ایک غیر معمولی تعلق والا شخص میرا پیر و مرشد بھی ہے اور بزرگ بھی اور اسم گرامی ہے سید سرفراز احمد شاہ کوئی دو دن پہلے وہ میرے گھر تشریف لائے اور یہ ایک تعجب کا وقت اور مقام تھا۔ گزشتہ دنوں شاہ صاحب ملک سے باہر رہے اور ان کی غیر حاضری میں اپنی حاضری لگواتا رہا۔ واپسی پر ملک صاحب کو فون کیا تو معلوم ہوا تشریف لا چکے ہیں فوراً ملاقات کی درخواست کی تو جواب ملا کہ دو دن بعد اتنے بجے شاہ صاحب میرے گھر پر تشریف لائیں گے۔ قبلہ شاہ صاحب سے میری ملاقات ایک عجیب واقعہ ہے۔
میرے ایک کٹر سیکولر دوست احمد بشیر نے ایک دن گھر آ کر حکم دیا کہ اس نام کے ایک صاحب تم سے ملنا چاہتے ہیں اور یہ پتہ ہے۔ میں نے حاضری کا کہہ دیا مگر پھر کئی ہفتے گزر گئے کہ حاضر نہ ہو سکا ایک دن پھر احمد بشیر مجھے ڈانتے ڈپٹتے ہوئے آ گئے اور اس کے بعد میں حاضر ہو گیا۔ ایک جدید وضع قطع والا شخص ملا۔ چائے پانی کے بعد کہا کہ میں نے تمہیں ایک پیغام دینے کے لیے بلایا ہے۔ میں مدینہ منورہ گیا تھا۔ وہاں کچھ پہلے تم بھی گئے تھے اور تم نے یہ دعا کی تھی۔
حضور پاکﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں بتا دوں کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی ہے شاہ صاحب کی زبانی میں نے اپنی گریہ وزاری ہو بہو کسی دوسرے کی زبان سے اور سنی میں نہ جانے کس حال میں چلا گیا۔ بیت اللہ شریف اور حضور پاکﷺ کا روضہ اس پر جو بھی جاتا ہے فریادیں لے کر جاتا ہے اور کسی بھی دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کھڑا کیا فریاد کر رہا ہے اس لیے شاہ صاحب تو ان دنوں مدینہ منورہ میں موجود ہی نہیں تھے بعد میں گئے تھے۔
میری فریاد کے وقت سرکاری محافظوں نے مجھے وہاں سے ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن اس دربار سے مجھے کون دور لے جا سکتا تھا بہر کیف میری درخواست کا جواب ہر لحاظ سے غیر معمولی انداز میں اور حیران کن ماحول میں مجھے موصول ہوا میں اپنی قسمت پر اس قدر نازاں ہوا کہ اس کے بعد میری زندگی ہی بدل گئی۔ میں نے اپنے آپ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ مجھے قدرت اگر وہ الفاظ کہیں سے ودیعت کر دے تو میں اپنی بدلی ہوئی زندگی کی ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھا سکوں۔ میں نے خالص دنیاداری کی معروضات پیش کیں لیکن بتا دوں کہ سوائے حضور پاک کی روز قیامت شفاعت کے۔
میری نئی بے نیازانہ زندگی اپنے آپ میں مگن رہنے کی عادت لیکن ہر ایک کے لیے محبت خصوصاً اپنی اولاد کے لیے۔ عرض یہ کر رہا ہوں کہ قبلہ شاہ صاحب کا میری زندگی پر کیا اثر ہے۔ اس شہر لاہور میں وہ بھی میرا ایک سہارا ہیں۔ شاہ صاحب بیمار ہیں میں بیماری بیان نہیں کرتا صرف ان کے لیے دعا کی درخواست کرتا ہوں عجب وقت کہ جب انھوں نے اپنے لیے دعا کی بات کی تو عرض کیا کہ دعا تو ہم آپ سے ہی کرتے ہیں ہماری کیا مجال کہ آپ کے لیے دعا کریں لیکن فرمایا کہ دعا سب کے لیے ہوا کرتی ہے۔
میں قبلہ شاہ صاحب سے اپنی پہلی ملاقات کے بعد اب پہلی بار ان کی علالت کا سن کر پریشان ہوا ہوں اور میری پریشانی بجا ہے کہ علالت خطر ناک ہے مگر اللہ تبارک تعالیٰ سے قطعاً ہرگز کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ اسے خود غرضی سمجھیں کہ قبلہ شاہ صاحب میری ایک خود غرضی ہیں اور میں کوئی بھی بڑا کام ان کی ہدایت پر ہی کرتا ہوں۔ ان کی رہنمائی کے بغیر میں قطعاً بے سہارا رہ جاتا ہوں۔ وہ ملک سے باہر رہے تو گویا میں کہیں بھی نہیں رہا اب تشریف لائے ہیں تو میں بھی لاہور لوٹ آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کا ساتھ سلامت رکھے اور ہم لاہور کے پردیسی اطمینان کی زندگی بسر کر سکیں۔ سنا ہے قدرت پردیسیوں کی سنتی ہے۔