آسماں گرا نہ زمیں پھٹی نہ کوئی حکمران چیخا چِلّایا
آپ یاد کریں تو آپ کو پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں میں ہر قسم کے لوگ ملیں گے مگر قوم کا پیسہ کھانے والے نہیں۔
کچھ بھی ہو یقین نہیں آتا۔ ایک دس سالہ بچہ اس شدید ترین گرمی میں پڑوسی کے ٹیوب ویل پر نہانے چلا گیا لیکن یہ بچہ مزارع قسم کا تھا اور ٹیوب ویل کا مالک زمیندار تھا۔ اس بچے کی گستاخی کو دیکھ کر اسے اس قدر غصہ آیا کہ پہلے تو اس بچے پر گرم پانی ڈالا گیا اور پھر اسے ٹیوب ویل کے انجن پر پھینک دیا گیا جس سے اس کے دونوں بازو کٹ گئے اور وہ صرف دس برس کی عمر میں معذور بنا دیا گیا۔
بعد میں زمیندار ڈر کر اسے اسپتال لے گیا اور اس کے لیے اپنا خون بھی دیا لیکن اس کے کٹے ہوئے بازو تو کٹ چکے تھے۔ یہ گجرات کے نواحی چک بھولا کے زمیندار غلام مصطفے عرف خانونی کی سفاکی تھی۔ پہلے تو پولیس مقدمہ ہی درج نہیں کرتی تھی جب گھر والوں کی فریاد پر میڈیا میں اس کا ذکر آیا تو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا اور ملزم کو گرفتار بھی کر لیا۔ وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں بھی یہ واقعہ لایا گیا ہے اور انھوں نے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کسی وزیر نے علاج معالجے کا حکم بھی دیا ہے لیکن ابھی صرف پولیس کی کارروائی ہے جو رفتہ رفتہ اپنی موت خود ہی مر جائے گی کیونکہ مدعی غریب ہے۔ اگر اس بچے کے بازو سلامت ہوتے تب بھی وہ کیا کر لیتا زیادہ سے زیادہ اپنے زمیندار کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ سکتا تھا کہ وہ پھر کبھی کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔
میں اگر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارا ملک نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ ہی پرانے والا پاکستان ہے۔ یہ کوئی اور ملک ہے جو ہمارے ان سیاستدانوں نے بنایا ہے یا بنا دیا ہے جو اپنے بچوں کے بازو کاٹ لیتا ہے اور انھیں بیروز گاروں کی فہرست میں شامل کر لیتا ہے لیکن اس بچے تبسم پر اتنا ظلم کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں کو بمشکل اس کا علم ہو سکا ہے۔ ہمارے آزاد ملک کی سرزمین پر دن دہاڑے یہ ظلم ہوا اور اتنا بڑا کہ جس نے سنا اس کی زبان سے یہ فریاد نکلی کہ اس پر نہ تو آسمان گرا نہ زمین پھٹی اور نہ کوئی حکمران اپنی ذمے داری سمجھ کر چیخا چلایا۔
اس نے صرف اتنا دیکھا کہ بحمد للہ اس کے اپنے ہاتھ پائوں سلامت ہیں اور وہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ چلتے چلتے ایک لطیفہ بھی سن لیجیے کہ حکومتی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی پر تھانے پر حملے کا مقدمہ تھا لیکن وہ گرفتاری دینے پر تیار نہ تھا پولیس اس کے تعاقب میں رہی لیکن اس نے اعلان کیا کہ جب تک میری ضمانت نہیں کی جاتی میں پیش نہیں ہوں گا چنانچہ کسی نہ کسی طرح اس کی ضمانت ہو گئی اور وہ محفوظ ہو کر مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو گیا۔ اس کا موقف تھا کہ اگر میں ضمانت نہ کراتا تو پولیس مجھے مقابلے میں مار دیتی۔
ذرا غور فرمائیے کہ اس لطیفے میں ایک طرف پولیس ہے دوسری طرف حکمران پارٹی کا ایم پی اے رانا شعیب ادریس ہے اور اصل بات یہ ہے کہ ملزم نے پہلے ضمانت کا مطالبہ کیا ہے تا کہ پولیس بے اثر ہو جائے اور پھر وہ گرفتاری دے دے۔ یعنی ہماری انتظامی زندگی کا یہ بھی ایک پہلو ہے اور دوسرا پہلو آپ نے دیکھ لیا کہ ایک دس سالہ بچہ زندگی بھر کے لیے معذور کر دیا گیا۔ پاکستان کے بیٹے تبسم کا بدلہ کون لے گا کیا وہ حکمران لیں گے جو پہلے اپنی ضمانت کراتے ہیں اور پھر کسی مقدمے میں بطور ملزم شامل ہوتے ہیں یا اس کا بدلہ قدرت لے گی جس کی لاٹھی بڑی ہی زبردست ہوتی ہے۔
اس سے پناہ ہی مانگی جائے اس کو برداشت کرنا انسانی بس سے باہر ہے کسی اسلامی جمہوریہ میں ہم نے تو ایسے حکمرانوں کا ذکر سنا اور پڑھا ہے جو اپنا کام کسی ملازم پر بھی نہیں ڈالتے تھے کیونکہ قیامت کے روز باز پرس کسی ملازم سے نہیں ان سے ہو گی۔ سخت گرمی میں حضرت عمرؓ سے ان کے دوست حضرت عثمانؓ نے جب ان کو بے تابانہ پھرتے دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے۔ جواب ملا بیت المال کا ایک اونٹ غائب ہو گیا ہے اسے تلاش کر رہا ہوں اور آپ کے مشورے پر کسی ملازم کو اس لیے نہیں بھیجا کہ ذمے داری تو میری ہے کسی اور کی نہیں اور آپ گرمی کا ذکر نہ کریں دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔
بہر کیف آج یہ سب افسانے لگتے ہیں آج سچ صرف تبسم ہے جس کی نو عمری میں دونوں ہاتھ کاٹ دیے گئے۔ کاش کوئی انصاف کرنے والا ہوتا تو جس نے ہاتھ کاٹے ہیں اس کو سزا ملتی یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ والی سزا لیکن اب تو پولیس پرچہ بھی نہیں کاٹتی جب تک اسے اوپر سے حکم نہ ملے یا میڈیا والے شور نہ کریں یعنی خود کسی کے اپنے اندر سے یہ آواز نہیں اٹھتی کہ وہ جس بات کی تنخواہ لیتا ہے بلکہ یوں کہیں کہ رشوت بھی لیتا ہے وہ کچھ تو حلال بھی کرے۔ سنتے ہیں کہ پاکستان بنا تو ہمارے گائوں کے ایک پولیس والے نے بیوی سے کہا کہ اب صرف تنخواہ ہے اور اس میں گزر بسر کرنی ہے کیونکہ ہم مسلمانوں کا ملک پاکستان بن گیا ہے جس میں رشوت وغیرہ سب حرام ہے۔
آپ یاد کریں تو آپ کو پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں میں ہر قسم کے لوگ ملیں گے مگر قوم کا پیسہ کھانے والے نہیں۔ سکندر مرزا جیسا بدنام حکمران بھی جلا وطنی کے بعد لندن میں ملازمت کرتا رہا۔ اس کے علاوہ بھی کوئی نہیں کیونکہ قائداعظم نے دوسری قسم کی روایات قائم کی تھیں۔ اگر تین مہمان تھے تو یہ چار سیب کیوں رکھے ہیں۔ ان کے اے ڈی سی لکھتے ہیں کہ کسی سے ایسی غلطی ہو تو جان نکل جاتی تھی قائد کی ہمشیرہ بھی سرکاری خرچ میں اتنی ہی سخت تھیں۔ ان کے زمانے میں ایوان صدر کی ملازمت ایک آزمائش ہوا کرتی تھی۔
یہی وہ روایت تھی جو بعد میں بھی چلتی رہی تاآنکہ جناب ایوب خان نے سویلین حکومت ختم کر کے فوجی حکومت قائم کر دی اس کے بعد چل سو چل اور یہی آپ دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی دور میں کسی تبسم کے بازو نہیں کٹ سکتے تھے اور نہ ہی کوئی ملزم یہ مطالبہ کر سکتا تھا کہ پہلے ضمانت کرو تو پھر مقدمے میں شامل ہوں گا ورنہ نہیں ہوتا جو کرنا ہے کر لو۔