کراچی:
گلشن اقبال کے علاقے میں نیپا پل کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق تین سالہ ابراہیم کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
ایکسپریس کے مطابق نمازِ جنازہ شاہ فیصل کالونی کی مریم مسجد میں ادا کی گئی، امامت بچے کے دادا محمود الحسن نے کرائی،جنازے میں اہل محلہ، رشتہ داروں سمیت ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی شارق جمال اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے بھی شرکت کی۔
حادثے میں جاں بحق بچے ابراہیم کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ فیصل کالونی کے عظیم پورہ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
جنازے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، یہ والدین کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے، حکومت کی نااہلی کے باعث معصوم بچہ نالے میں گر کر جاں بحق ہوا اور 14 گھنٹے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سندھ حکومت کی 17 سالہ کارکردگی ہے، نہ ڈبل ون ڈبل ٹو مدد کو آئی، نہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور نہ ہی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے فوری ایکشن لیا، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مشینری لائے اور اس کا تیل تک خود بھرا گیا، دنیا چاند پر جا رہی ہے اور ہم گٹر اور مین ہول کے ڈھکنوں کے لیے ترس رہے ہیں۔
منعم ظفر نے منگل کو جائے حادثہ پر احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کیا ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ممبر صوبائی اسمبلی شارق جمال، ترجمان مسلم لیگ ن اسد عثمانی اور مرکزی مسلم کے رہنما نے بھی واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ مئیر کراچی اور متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ پڑھیں : کراچی؛ مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد نصف کلومیٹر فاصلے سے مل گئی
نماز جنازہ کے بعد جائے حادثہ پر لوگ جمع ہوگئے اور انہوں ںے احتجاج شروع کردیا، احتجاج کے دوران مئیر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔