مودی حکومت میں صحافیوں کی زندگی شدید دباؤ کا شکار، دی وائر نے بھانڈا پھوڑ دیا

2025 میں بھارت بھر میں 14 ہزار 800 سے زائد صحافیوں کو مختلف نوعیت کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا


ویب ڈیسک January 02, 2026

بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں صحافیوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کو درپیش خطرات پر ایک بار پھر سنگین خدشات سامنے آ گئے ہیں۔

بھارتی جریدے دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران صحافیوں کو تشدد، گرفتاریوں، قانونی دباؤ اور سنسرشپ جیسے شدید مسائل کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھارت بھر میں 14 ہزار 800 سے زائد صحافیوں کو مختلف نوعیت کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات میں 8 صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئی، جبکہ 117 افراد کو آزادیِ اظہارِ رائے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔

دی وائر کے مطابق آزادیِ اظہارِ رائے کی خلاف ورزی کے سب سے زیادہ 108 واقعات وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کی آڑ میں 208 افراد کو بلیک میل یا دباؤ میں رکھا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں، جن میں 8 ہزار سے زائد ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات بھی شامل ہیں۔

دی وائر نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2023 میں گجرات کے فسادات پر مبنی دستاویزی فلم نشر کرنے کے بعد بی بی سی کے بھارتی دفاتر پر انکم ٹیکس کے چھاپے مارے گئے تھے، جسے میڈیا آزادی پر دباؤ کی ایک مثال قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو ٹی وی چینلز سے دور رکھا گیا، جبکہ حکومتی مؤقف سے ہٹ کر رپورٹنگ کرنے والوں کو قانونی اور انتظامی دباؤ کا سامنا رہا۔

میڈیا اداروں اور صحافتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے لیے کام کا ماحول مسلسل خطرناک ہوتا جا رہا ہے اور حکومت پر تنقید کو تیزی سے محدود کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں