جنگ بندی کے باوجود تین ماہ کے دوران غزہ میں 100 سے زائد بچے شہید ہوگئے، اقوام متحدہ کا خوفناک انکشاف

یونیسیف کے مطابق بچوں کی اموات فضائی حملوں، ڈرون حملوں، گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہو رہی ہیں


ویب ڈیسک January 14, 2026

غزہ: اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران غزہ میں کم از کم 100 بچے اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق مرنے والے بچوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں شامل ہیں۔

یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود روزانہ اوسطاً ایک بچہ جان سے جا رہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں کی ہلاکتیں فضائی حملوں، ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہو رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ایسی جنگ بندی جو بچوں کی جانیں نہ بچا سکے، ناکافی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے دوران بچوں کی شہادتوں کی تعداد 165 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 442 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

ادھر شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے باعث غزہ میں سینکڑوں خیمے تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جان سے گئے۔

مقامی حکام کے مطابق ایک ایک سالہ بچہ شدید سردی کے باعث خیمے میں دم توڑ گیا، جبکہ کئی مکانات منہدم ہونے سے خواتین اور بچے ملبے تلے دب گئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقبول خبریں