چین کا بڑا فیصلہ: امریکی اور اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی لگادی

چینی حکومت ٹیک کمپنیوں کو مقامی سطح پر تیار کردہ AI چپس استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے


ویب ڈیسک January 15, 2026

بیجنگ: چین نے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث ملکی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی تقریباً ایک درجن سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کے سافٹ ویئر کا استعمال بند کر دیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ سافٹ ویئر حساس اور خفیہ معلومات اکٹھی کر کے بیرونِ ملک منتقل کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چین مغربی ٹیکنالوجی کے بجائے مقامی متبادل اپنانے کی پالیسی پر تیزی سے عمل کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جن امریکی کمپنیوں کے سافٹ ویئر پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں براڈکام کی ملکیت وی ایم ویئر (VMware)، پالو آلٹو نیٹ ورکس اور فورٹینیٹ شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی کمپنیوں میں چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز کا نام سامنے آیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کے شیئرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں براڈکام اور پالو آلٹو نیٹ ورکس کے حصص میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی، جبکہ فورٹینیٹ کے شیئرز تقریباً تین فیصد گر گئے۔

چینی تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ کو خدشہ ہے کہ مغربی ٹیکنالوجی کو غیر ملکی طاقتیں ہیک کر سکتی ہیں، اسی لیے چین سائبر سیکیورٹی، کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ چین کی بڑی مقامی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں میں 360 سیکیورٹی ٹیکنالوجی اور نیوسافٹ شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے کچھ شرائط کے ساتھ اینویڈیا (Nvidia) کو چین میں جدید مصنوعی ذہانت (AI) چپس فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اینویڈیا مخصوص حالات میں اپنا H200 چپ چین کو فروخت کر سکے گی، تاہم جدید ترین پروسیسرز پر پابندی برقرار رہے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی حکومت ٹیک کمپنیوں کو مقامی سطح پر تیار کردہ AI چپس استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، جس کے باعث اینویڈیا کی چپس کی طلب کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں