پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ تیار ہے، وزیر دفاعی پیداوار

معاہدے کا ڈرافٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک کے پاس ہے، جس پرگزشتہ 10 ماہ سے بات ہورہی ہے، رضا حیات ہراج


ویب ڈیسک January 15, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہیراج نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے تقریباً ایک سال مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسورہ تیار کرلیا ہے جو خطے میں گزشتہ دو برس کے دوران ہونے والی کشیدگی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے ایک روز قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط کے لیے حتمی اتفاق رائے درکار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان معاہدہ جو پہلے ہی زیرغور ہے، معاہدے کا ڈرافٹ ہمارے پاس دستیاب ہے، ڈرافٹ سعودی عرب کے پاس دستیاب ہے اور یہی ڈرافٹ ترکیے کے پاس بھی دستیاب ہے اور تینوں ممالک تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور یہ معاہدہ گزشتہ 10 ماہ سے جاری ہے۔

ادھر استنبول میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پریس کانفرنس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے متعلق سوال پر بتایا کہ مذاکرات ہوئے ہیں لیکن معاہدے پر کوئی دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

ہاکان فیدان نے نشان دہی کی کہ خطے میں وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے تاکہ اس بداعتمادی پر قابو پایا جا سکے جو دراڑیں اور مسائل کا باعث ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بیرونی بالادستی شروع ہوجاتی ہے یا دہشت گردی سے جنم لینے والی جنگیں اور عدم استحکام خطے میں پھیلتے ہیں۔

ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ ان سب کے آخر میں ہمارے پاس ایک تجویز ہے کہ تمام علاقائی ممالک کو سیکیورٹی کے مسئلہ پر ایک تعاون کا پلیٹ فارم بنانے کے لیے متحد ہوجانا چاہیے، علاقائی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملاقاتیں، مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن ہم نے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے، ہمارے صدر طیب اردوان کا وژن اجتماعی پلیٹ فارم ہے جو وسیع اور بڑے پیمانے تعاون اور استحکام ہے۔

اس سے قبل بلومبرگ کی رپورٹ میں اس حوالے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ترکیے چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور جوہری طاقت کے حامل پاکستان کے ساتھ دفاعی اتحاد میں شریک ہوں، اس اقدام سے ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے، جس سے ممکنہ طور مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ توسیع بظاہر ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کودوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا، یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، نیٹو اتحاد میں شامل ممالک میں امریکا کے بعد ترکی دوسری سب سے بڑی فوج کا حامل ملک ہے۔

مقبول خبریں