قرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927 کو علی گڑھ میں بمقام نہٹور یوپی (انڈیا) میں پیدا ہوئیں، والد کا نام سید سجاد حیدر یلدرم تھا، جو ایک بڑے افسانہ نگار تھے، والدہ کا نام بنت نذرالباقر تھا، وہ بھی ادیبہ تھیں، شادی کے بعد انھوں نے بنت نذر سجاد حیدرکا نام اختیارکیا، وہ عصمت میں افسانے لکھا کرتی تھیں، جو خواتین کا ایک مقبول رسالہ تھا۔
قرۃ العین حیدر نے جب لکھنا شروع کیا، اس وقت افسانے کی دنیا میں کرشن چندر، منٹو، عصمت چغتائی، غلام عباس اور محمد حسن عسکری اپنا نام بنا چکے تھے، قرۃ العین حیدر کا پہلا افسانہ ’’ یہ باتیں‘‘ ہمایوں، (لاہور) 1942 میں شائع ہوا۔ قرۃ العین حیدر نے جب افسانہ نگاری شروع کی تو اردو افسانہ حقیقت سے بہت قریب ہوگیا تھا، ان کے سامنے ایک وسیع میدان تھا جس میں ان کے والد سجاد حیدر یلدرم کا رومانوی اور جمالیاتی انداز، عصمت اور منٹوکی حقیقت نگاری اور جنس نگاری اورکرشن چندرکی رومانویت کے ساتھ اردو افسانہ اپنے عہد زریں سے گزر رہا تھا، یہ وہ فضا تھی جو قرۃ العین حیدر کو اپنے وسیع مفہوم میں ملی۔
تقسیم ہند پر افسانہ اپنے پورے جوبن پر تھا، افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں تھی جو پورے جوبن پر تھی، لیکن ان میں جو نام پوری آب و تاب سے جگمگایا وہ قرۃ العین حیدر کا نام تھا کہ عہد زریں میں اپنا مقام بنانا ایک مشکل کام تھا، لیکن ابتدائی دورکے لکھنے والوں میں اور عہد زریں کے لکھنے والوں کی یہ خوش نصیبی تھی کہ اس دور میں کتاب پڑھنے کا ذوق لوگوں میں تھا، جوں ہی کوئی نیا رسالہ شائع ہوتا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے اس طرح وہ ناول نگار یا افسانہ نگار مشہور ہو جاتا۔ 1970 تک بھی لوگوں کا رسالہ اورکتاب سے رشتہ استوار تھا، لیکن جوں جوں انٹرنیٹ اور موبائل ہماری زندگیوں میں شامل ہوا، کتاب سے دوری بڑھ گئی۔
تقسیم کے بعد بھی بڑے اچھے ادبی رسالے دہلی اور لاہور سے شائع ہوتے رہے، جیسے آج کل، ہمایوں، نیرنگ، نقوش وغیرہ۔ پھر کچھ رسالے کراچی سے شائع ہونے لگے جیسے نقش، الفاظ اور سیپ وغیرہ۔ سب کے نام تو اس وقت یاد نہیں، البتہ ادبی رسالوں کی ایک کہکشاں تھی جو جگمگاتی رہتی تھی۔ اس وقت یعنی انٹرنیٹ کے آنے سے قبل افسانہ نگاروں کو مشہور ہونے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑتی تھی، ادبی رسالے ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔
تقسیم سے پہلے اور بعد کے افسانہ نگار اور ناول نگار خوش قسمت تھے کہ ان کی تحریریں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں۔ جب تک صرف پی ٹی وی تھا تب بھی ادب زندہ تھا، آج کل یہ حال ہے کہ میرے علم میں صرف دو ادبی پرچے ہیں جو شائع ہو رہے ہیں، ایک کراچی کا ’’ مکالمہ‘‘ جس کے مدیر مبین مرزا ہیں اور دوسرا لاہور کا ’’الحمرا‘‘ جس کے مدیر شاہد علی خاں ہیں۔ الحمرا ایک ماہنامہ ہے جو نہایت پابندی سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے، ہو سکتا ہے اور بھی پرچے ہوں لیکن میرے علم میں نہیں، مکالمہ ایک سہ ماہی پرچہ ہے۔
ہم بات کر رہے تھے قرۃ العین حیدر کی، بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ انھیں لوگ زیادہ تر ناول نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ناول بھی صرف ایک ’’ آگ کا دریا‘‘ کے حوالے سے۔ قرۃ العین حیدر جب پاکستان آئیں تو اس وقت ایک نامور لکھاری بن چکی تھیں۔ وہ 1950 میں وزارت اطلاعات میں کام کر رہی تھیں، پھر کچھ عرصہ پی آئی اے سے بھی منسلک رہیں لیکن وہ بہت جلد یہاں کے ماحول سے گھبرا گئیں، ایوب خان نے ادیبوں اور شاعروں پر جو پابندیاں اپنے مارشل لا میں لگائی تھیں، ان سے دل برداشتہ ہوکر برطانیہ چلی گئیں اور بعد میں پنڈت نہرو کے بلانے پر وہ بھارت واپس چلی گئیں۔
کئی ادبی پرچوں نے قرۃ العین نمبر بھی شائع کیے جن میں طلوع افکار کا ’’ قرۃ العین حیدر نمبر‘‘کافی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت میں ان پر زیادہ کام ہوا ہے، لیکن پاکستانی بھی پیچھے نہیں ہیں۔دراصل روایت اور جدت انسانی زندگی کے دو ایسے دھارے ہیں جو اس کی سماجی، تہذیبی، تمدنی اور ذاتی زندگی میں ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ ہر انسان کو روایت سے پیار ہوتا ہے، مگر جدت اسے اپنی طرف کھینچتی ہے جو انسانی فطرت ہے۔ روایت اور جدت کا یہ ملاپ جہاں انسان کو اس کے ساتھی سے جوڑے رکھتا ہے، وہیں اسے نئی شاہراہوں کا پتا بھی دیتا ہے، لیکن ماضی کو وہی ادیب موضوع بناتا ہے جس کے پاس اس حوالے سے کوئی سرمایہ ہو۔ اس حوالے سے قرۃ العین حیدر ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے ماضی اور حال دنوں کو روایت اور جدت کے توازن سے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ انھیں ادبی ماحول اور قلم دوستی ورثے میں ملی تھی۔
ماں اور باپ دونوں کی طرف سے علم کا خزانہ پہلے سے موجود تھا جسے ان کی ذہین و فطین طبیعت نے مزید نکھارا۔ وہ جتنی بڑی افسانہ نگار ہیں، اتنی ہی بڑی ناول نگار بھی ہیں۔ لیکن نقادوں نے ان کے صرف ایک ناول ’’آگ کا دریا‘‘ کو موضوع بنایا ہے، لیکن یہاں بھی مکھی پہ مکھی مارنے والا رجحان نظر آتا ہے کتنے ہی لوگوں نے یہ ضخیم ناول پڑھا بھی نہ ہوگا بس پہلے سے لکھے ہوئے مضامین سے خوشہ چینی کی اور مضمون تیار ہوگیا، ’’ آگ کا دریا‘‘ دراصل تہذیبوں کے اجڑنے اور تہذیبوں کے تصادم کی داستان ہے۔ (سہ ماہی، ’’روشنائی‘‘ جس کے مدیر احمد زین الدین تھے۔ انھوں نے بھی قرۃ العین حیدر نمبر شائع کیا تھا، کراچی سے)۔ لیکن وہ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت تھیں کہ ان کی طرف نقادوں نے دیکھا بہت، لیکن صرف ناولوں کی حد تک۔ اسی لیے جب میں نے انجمن ترقی اردو کے تعاون سے قرۃ العین حیدر پرکام کیا تو ان کے افسانوں کو موضوع بحث بنایا۔ عام لوگوں اور نقادوں کا کہنا ہے کہ ان کے افسانے سمجھ میں نہیں آتے، میں نے اسی تاثرکو ختم کرنے کی کوشش اپنی کتاب میں کی ہے۔
اسی لیے اس کا عنوان ہے قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ۔ یہ تصنیف جمیل الدین عالی کے تعاون اور اجازت سے لکھی گئی۔ دراصل ان کے افسانے اس لیے مختلف ہیں کہ انھیں ’’ ڈی کوڈ‘‘ کرنا پڑتا ہے۔ جیساکہ ’’ لگڑ بھگے کی ہنسی‘‘ اس میں یہ بات کہی گئی ہے اور اس زندہ حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں۔ وہ ہر جگہ انسان کا پیچھا کرتی ہے۔ ان کا ایک افسانہ ہے ’’ فقیروں کی پہاڑی‘‘ ایک الگ نوعیت کا افسانہ ہے۔ دراصل قرۃ العین حیدرکے افسانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک خاص ذہنی سطح کی ضرورت ہے۔
ہرکس و ناکس ان کے افسانوں کی روح اور گہرائی کو نہیں سمجھ سکتا۔ ان کا ایک افسانہ ہے ’’ نظارہ درمیاں ہے‘‘ یہ اتنا بڑا افسانہ ہے کہ اگر وہ صرف یہی افسانہ لکھتیں تب بھی اتنی ہی شہرت ان کے حصے میں آتی۔ ایک اور افسانہ ہے ’’ کچھ اس طرح سے بھی رقص فغاں ہوتا ہے‘‘ یہ دو افسانے قاری کو رلا دیتے ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجوعے شائع ہوئے ہیں۔ (1)۔ستاروں سے آگے 1946 میں، اس میں چودہ افسانے ہیں۔ (2)۔ شیشے کے گھر 1954 ، بارہ افسانے۔ (3)۔پت جھڑکی آواز ، 1966 ، آٹھ افسانے۔ (4)۔روشنی کی رفتار 1982، اٹھارہ افسانے۔
قرۃ العین حیدر کا ذہنی کینوس کتنا بڑا تھا، اس کا اندازہ ان کے بعض افسانوں سے لگایا جا سکتا ہے مثلاً ’’ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘۔ یہ افسانہ 1967 میں ایک رسالے میں شائع ہوا تھا۔ آج جب نائن الیون گزرے کافی سال گزر چکے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے آنے والے زمانے میں فلسطینیوں اور عربوں کی جلاوطنی سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بھانپ لیا تھا۔ اس افسانے کے مرکزی کرداروں میں ایک روسی لڑکی تمارا گرین برگ فیلڈ اور ایک خوبصورت اور وجیہہ شخص جو مسلمان ہے اور اس کا نام ہے دکتور شریفیان۔ لیکن جب وہ تمارا کو اپنا تعارفی کارڈ دیتا ہے تو اس پر لکھا ہوتا ہے این آئی کیو، یعنی نصرت الدین امام قلی جو اس کا اصل نام تھا۔ وہ عرب تھا لیکن خود کو ایرانی ظاہرکرتا تھا۔
جب تمارا اسے چاہنے لگتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ نصرت الدین امام قلی اسے پرپوز کرے گا تو وہ بتاتا ہے کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے پانچ بچے ہیں۔ بڑی بیٹی اٹھارہ سال کی ہے، تب تمارا کا سارا بدن سن ہو جاتا ہے جیسے اس پر فالج گر گیا ہو۔ وہ اپنی شناخت بھی چھپاتا ہے، یہ افسانہ عالمی سامراجیت اور استعماریت کے خلاف ہے جس نے دنیا کے کمزور اور پسماندہ ملکوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ تمارا کے کردار میں قرۃ العین حیدر نے اس کشش کی طرف اشارہ کیا ہے جو امام الدین قلی کو اپنے مقصد سے بھٹکا سکتی ہے لیکن وہ شخص کسی بہکاوے میں نہیں آتا اور ایک دن وہ اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ دنیا اسے تخریب کار اور دہشت گرد کہتی ہے لیکن وہی جانتا ہے کہ ملک و قوم کے لیے جان دینے والوں کو کیا کہا جاتا ہے۔ امام قلی اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے جان دے دیتا ہے۔
(جاری ہے)