کوئٹہ:
یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن نے علمی وقار اور تاریخی اہمیت کے ساتھ ایک نئی مثال قائم کر دی۔ کانووکیشن میں 50 فیصد فارغ التحصیل طالبات کی شمولیت نے تعلیمی تاریخ میں سنہری باب رقم کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان و چانسلر یونیورسٹی آف تربت، شیخ جعفر مندوخیل نے طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کیں۔ گورنر بلوچستان نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہر گولڈ میڈلسٹ کے لیے ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔
گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور بلوچستان میں پائیدار امن و خوشحالی کے قیام کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ گورنر بلوچستان نے دور دراز علاقے میں معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت نے جامعات کے لیے گرانٹ بڑھا کر 8 ارب روپے کر دی ہے، جو حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا واضح ثبوت ہے۔
وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی آف تربت میں 120 سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ، 4 ہزار سے زائد طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
فارغ التحصیل طالبات کی نمایاں تعداد بلوچستان میں تشدد، انتہاپسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے خلاف ایک مضبوط اور باوقار پیغام ہے۔
یونیورسٹی آف تربت کا یہ کانووکیشن بلوچستان کے عوام، محنتی نوجوانوں اور باہمت خواتین کی کامیابی، عزم اور روشن مستقبل کا شاندار جشن ثابت ہوا۔