سردی کی شدت اور بے حس انسان

کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد سردی کے آتے ہی شدید مشکلات جھیلتے نظر آتے ہیں


وقار فانی مغل January 19, 2026
(فوٹو : فائل)

پاکستان میں سردی کی لہر ہر سال آتی ہے مگر ہر بار اس کی شدت نے نئے مسائل کو جنم دیا ہے۔ فٹ پاتھ پر سونے والے بے گھر لوگوں کی زندگی کا یہ وقت کسی قہر سے کم نہیں ہے۔

کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد سردی کے آتے ہی شدید مشکلات جھیلتے نظر آتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی حفاظتی لباس ہوتا ہے اور نہ ہی ایسی جگہ جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔

متوسط طبقہ بھی اب سردی کی شدت میں پریشانی کا شکار ہے۔ مہنگائی اور روزمرہ کی ضروریات نے ان کی زندگی کو ہارکر رکھ دیا ہے۔ سردی میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اکیلے رہنے والوں کے لیے ایک بوجھ بنتی جارہی ہیں۔ اسی دوران باغات کو کورا مار جاتا ہے اور پھول کھلنے کے باوجود مرجھا جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ انسانی زندگی کےلiے ایک عجیب و غریب تضاد کو پیش کرتا ہے۔

دوسری طرف امرا کے لیے گیس کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ان کے گھر گرم رکھنے کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کی جاتی ہے جبکہ غریب کے لیے گیس کا شیڈول طے ہوتا ہے جس سے سردیوں کی شدت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ صورتحال سوالات اٹھاتی ہے ’’انسانیت کہاں گئی؟'‘‘ کیا ہم اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کی تکلیف،کسی کی مشکلات اور موت سے ہماری زندگیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟

موسمیاتی تبدیلی کا شکار سب سے زیادہ غریب طبقہ ہوتا ہے، حالانکہ وہ اس کی بنیادی وجہ میں شامل نہیں ہوتے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ فلاحی ریاست کا خواب کہاں جارہا ہے؟ حکمران طبقہ شہ خرچیاں کرنے میں مصروف ہوتا ہے، جبکہ عام آدمی کو بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال کو دیکھ کر ہم خود سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہمارا معاشرہ واقعی ترقی کر رہا ہے یا ہم ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں؟یہ حقیقت کہ سردی کی ایک رات کسی کی زندگی کو ختم کر سکتی ہے، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم نے اپنی انسانی ذمے داریوں کو بھلا دیا ہے؟

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم مل کر ان لوگوں کے لئے کچھ کریں جو ہماری مدد کے بغیر سردی کی شدت نہیں سہہ پا رہے۔ انسانیت کے ناتے ہمیں بیدار ہونا ہوگا، ورنہ یہ سردی، جو صرف ایک موسمی حالت ہے، ہماری روحوں کو بھی بھسم کر دے گی۔

پاکستان میں سردیوں کی روایات ایک الگ ہی رنگ رکھتی ہیں۔ لوگ اپنی روایتی سوپ، حلیم اور مختلف مقامی ڈشز کے ساتھ گرم رہنے کے لیے خاص طور پر سردیوں میں مل بیٹھتے ہیں۔ بچے دھوپ میں بیٹھ کر گلی کے کٹوروں میں گلی سڑی ٹافیاں اور گرم چائے پی کر خوش ہوتے ہیں۔ محلے کے بزرگ سردی کی شام کو چائے پینے کی محفلیں سجاتے ہیں جہاں کہانیاں اور قصے سنائے جاتے ہیں۔ یہ روایات نہ صرف ثقافتی شناخت کی علامت ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

لیکن اس سردی کے موسم میں جو چیز نمایاں ہے وہ ایندھن کے ذرائع کا فقدان ہے۔ اب زیادہ تر لوگ لکڑیاں اور کوئلہ استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی، گیس کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں لوگوں کو سردی سے بچنے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ عدم دستیابی نہ صرف انسانوں کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ اس سے ان کے روزمرہ کے معمولات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اس سخت سردی کا سب سے برا اثر بچوں کی صحت پر ہوتا ہے۔ سردی کی شدت میں اگر بچوں کو مناسب لباس اور خوراک فراہم نہ کی جائے تو وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ نمونیہ، زکام اور فلو جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں، جو ان کی نشوونما اور صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ والدین کی پریشانی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سردیوں میں بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ دوسری طرف، معمول سے ہٹ کر برفباری اور بارشیں بھی اس صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہیں، جن کی وجہ سے گھر کے باہر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ اور صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیںجسے حل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
وقار فانی مغل
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں