مقبوضہ کشمیر میں مگرمل باغ قتلِ عام کو 35 برس گزر گئے، تاہم یہ واقعہ آج بھی کشمیری عوام کے اجتماعی حافظے میں ایک دردناک باب کے طور پر محفوظ ہے۔
19 جنوری 1991 کو سری نگر کے علاقے مگرمل باغ میں بھارتی قابض فورسز نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر دی تھی۔ یہ مظاہرین مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کے حق میں جمع ہوئے تھے۔
عینی شاہدین اور رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز نے بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 کشمیری شہری موقع پر جاں بحق جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، ماورائے عدالت قتل اور عوامی آواز کو دبانے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس طرح کے واقعات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کو دبانے کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔
مگرمل باغ قتلِ عام کو آج 35 سال مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اس سانحے کی یاد آج بھی کشمیری عوام کے لیے انصاف اور آزادی کے مطالبے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔