ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل؛ سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا

وقوعہ بیان کردہ انداز میں پیش نہیں آیا بلکہ پورا معاملہ پراسرار نوعیت کا ہے، سپریم کورٹ


ویب ڈیسک January 20, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل کے کیس میں سپریم کورٹ نے 15 سال بعد  ملزم کو بری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر درج قتل کیس میں 15 سال بعد اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم نعیم ارشد عرف پپو کو قتل کے الزام سے بری کر دیا۔

عدالت نے نعیم ارشد کی فوری رہائی کا حکم بھی جاری کر دیا جب کہ لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کو دیا گیا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے سنایا۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ کی موقع پر موجودگی مشکوک ہے۔ واقعے کے وقت مکمل اندھیرا تھا ، روشنی کے کسی بھی ذریعے کا ذکر ریکارڈ پر موجود نہیں۔ سپریم کورٹ کے مطابق وقوعہ بیان کردہ انداز میں پیش نہیں آیا بلکہ پورا معاملہ پراسرار نوعیت کا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں تفتیشی افسر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائر نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شہباز علی نے کیا تھا۔ شہباز علی سے برآمد ہونے والے پستول سے موقع واردات سے ملنے والا خول میچ ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شہباز علی کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی ہے اور اس بریت کے خلاف نہ تو ریاست نے کوئی اپیل دائر کی اور نہ ہی شکایت کنندہ کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے خلاف منفی تاثر پیدا کرتا ہے۔

مقدمے کے مطابق واقعہ 14 مارچ 2011 کو ساہیوال میں پیش آیا تھا، جہاں محمد انور کو کپڑے کی دکان پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق وقوعے سے 2 روز قبل کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا، جسے بعد ازاں قتل کی وجہ قرار دیا گیا۔

ایک اور قتل کیس کا 15 سال بعد فیصلہ؛ تین ملزمان بری

سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کے ایک اور مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تینوں ملزمان منیر احمد، ذوالفقار عرف کالا اور نصیر احمد کو قتل کے مقدمے سے بری کر دیا۔

عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا 9 جنوری 2017 کو دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد سنایا، جس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 10 صفحات پر مشتمل بریت کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق قتل کا واقعہ 17 دسمبر 2010 کو ضلع لودھراں میں پیش آیا تھا۔ مقدمے کے مطابق مقتول غلام سرور کو فائرنگ سے متعدد زخم آئے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ تینوں ملزمان موقع واردات پر موجود تھے اور انہوں نے مشترکہ نیت سے فائرنگ کی، جس کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 24 ستمبر 2011 کو تینوں ملزمان کو قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 2 ملزمان کو سزائے موت جب کہ ایک ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے 9 جنوری 2017 کو عمر قید والے ملزم کی سزا برقرار رکھی اور 2 ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور گواہوں کی موقع واردات پر موجودگی ثابت نہیں ہو سکی۔ عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات میں سنگین تضادات پائے گئے اور انہیں اتفاقی گواہ قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ فائرنگ کی جس تفصیل کا بیان دیا گیا وہ انسانی طور پر مشاہدہ کرنا ممکن نہیں تھی۔

عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ میڈیکل رپورٹ بھی عینی شہادت کی مکمل تائید نہیں کرتی تھی جب کہ اسلحہ اور خالی خولوں کی برآمدگی کو بھی ناقابلِ بھروسا قرار دیا گیا۔ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔

مقبول خبریں