آسٹریا کی ایک گائے ’’ویرونیکا‘‘ نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کرلی ہے، جسے انسانی تاریخ میں پہلی ایسی گائے قرار دیا جارہا ہے جو باقاعدہ طور پر اوزار استعمال کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ویرونیکا کو لکڑی، جھاڑو اور ریک جیسے اوزار اپنے جسم کو کھجانے کے لیے استعمال کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد سائنسدانوں نے مویشیوں کی ذہانت پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔
ویانا کی یونیورسٹی آف ویٹرنری میڈیسن کے محققین کی جانب سے سائنسی جریدے کرنٹ بایولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ویرونیکا کا یہ رویہ باقاعدہ ’’ٹول یوز‘‘ یعنی اوزار کے استعمال کی واضح مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً دس ہزار سال سے انسان کے ساتھ رہنے والے مویشیوں میں اس سطح کی ذہانت پہلی بار ریکارڈ کی گئی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف آزمائشی مراحل کے دوران ویرونیکا نے جھاڑو کے کانٹے دار حصے کو ترجیح دی، تاہم جب جسم کے نچلے اور نرم حصوں تک پہنچنا مقصود ہوا تو اس نے جھاڑو کا دوسرا سرا استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق اوزار کے مختلف حصوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ’’ملٹی پرپز ٹول یوز‘‘ کہلاتا ہے، جو غیر بندر نما جانوروں میں نہایت نایاب سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر جھاڑو کسی غلط زاویے پر ہو تو ویرونیکا پہلے اپنی زبان سے اسے درست جگہ پر لاتی، پھر دانتوں کی مدد سے اسے جما کر کھجانے کا عمل مکمل کرتی۔ سات مختلف سیشنز میں کیے گئے تجربات کے دوران 76 مرتبہ اسے ایسے اوزار استعمال کرتے دیکھا گیا، جن کے ذریعے وہ جسم کے اُن حصوں تک پہنچ سکی جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتے۔
ویرونیکا کی دیکھ بھال کرنے والے آسٹریا کے علاقے کیرنتھیا سے تعلق رکھنے والے نامیاتی کسان اور بیکر وٹگر ویگیلے کے مطابق یہ عادت اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ گائے برسوں پہلے لکڑی کے ٹکڑوں سے کھیلنا شروع ہوئی، پھر آہستہ آہستہ اس نے انہیں جسم کھجانے کے لیے استعمال کرنا سیکھ لیا۔ ویگیلے کہتے ہیں کہ ویرونیکا کی غیر معمولی ذہانت نے انہیں حیران کر دیا اور یہ احساس دلایا کہ انسان جانوروں سے بھی صبر، سکون اور نرمی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جنگلی جانوروں میں بھی اوزار کے استعمال کی مثالیں دیکھی گئی ہیں، جیسے بندروں کا پتھروں سے گریاں توڑنا، اورنگوٹان کا پتے سے آواز بدلنا یا ہاتھیوں کا اپنے مردہ ساتھیوں پر مٹی ڈالنا، مگر مویشیوں میں اس قسم کی ذہانت کا یہ پہلا مستند ثبوت ہے۔
ویرونیکا کی اس غیر معمولی صلاحیت نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین کو حیران کیا ہے بلکہ سائنسدانوں کو بھی اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ گایوں اور دیگر مویشیوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نئے زاویے سے دیکھیں۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت بن رہا ہے کہ فطرت میں ذہانت صرف انسانوں یا چند مخصوص جانوروں تک محدود نہیں۔