رواں مال سال کی پہلی ششماہی میں 280 ارب زیادہ بیرونی قرضے لینے کا انکشاف

پاکستان کواس دوران قرض اور گرانٹ کی مدمیں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے موصول ہوئے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض شامل نہیں ہے


ویب ڈیسک January 21, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 280 ارب روپے زیادہ بیرونی قرضہ لینے کا انکشاف ہوا ہے اور اس دوران قرض اور گرانٹ کی مد میں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے موصول ہوئے جبکہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے ملنے والا قرض اس کے علاوہ ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں اور گرانٹس کے اعداد و شمارکے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرض لیا ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرض ہے۔

اسی طرح جولائی تا دسمبر پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی ملی، جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔

پاکستان میں ڈالر کی مد میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے، گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں 3 ارب 60 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب روپے اور پراجیکٹ معاونت 487 ارب روپے رہی ہے، اس میں بجٹ سپورٹ کے لیے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے، سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی تیل کی سہولت دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 137 ارب روپے قرض دیا۔

پاکستان کو پروجیکٹ معاونت  کی مد میں پاکستان کو 487 ارب روپے حاصل ہوئے اور موجودہ مالی سال 4 ہزار 507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔

مقبول خبریں