بھارت میں ہندوتوا نظریات اور قومی سلامتی سے جڑی پالیسیوں پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا سوچ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے منسوب انتقامی حکمتِ عملی کا امتزاج خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق دہلی یوتھ سمٹ سے خطاب کے دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے نوجوانوں کو ’’انتقام‘‘ کی سوچ اپنانے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی سومنات مندر کی ہزار سالہ تقریبات میں شریک تھے، جسے ناقدین نے ریاستی بیانیے سے جوڑ کر دیکھا۔
دی وائر کے مطابق اجیت ڈوول کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کی قومی سلامتی کی پالیسی میں انتقامی سوچ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض عسکری کارروائیوں کو بطور انتقامی اقدامات پیش کرنا اس رجحان کو مزید واضح کرتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر پالیسی سمیت دیگر علاقائی معاملات میں سخت اور جارحانہ بیانیہ بھارت کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد بھارت میں اقلیتوں سے متعلق انسانی حقوق کے مسائل اور جمہوری زوال سے توجہ ہٹانا بھی ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ریاستی سطح پر نفرت اور انتہا پسندی کے بیانیے کو فروغ دیا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف داخلی استحکام بلکہ علاقائی امن پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے انتقامی سوچ خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔