وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں میری نسل کشی ہو رہی ہے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے، کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے، اس کو وفاق کا حصہ بنایا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18 سال حکومت کرنے کے بعد جب پیپلز پارٹی سے آگ کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی، آج کی ایم کیو ایم یہ کام نہیں کر رہی، یہ وہ ہوا تو آپ کے صدر اس وقت ایم کیو ایم کے مرکز پر گھٹنے ٹیکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے، یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ایسا نہیں تھا، سندھ حکومت سےجب شکایت کریں تو جواب آتا ہے بلدیہ فیکٹری کی آگ کا جواب دو،بھتا خوری کا جواب دو، کیا اس کا جواز یہ ہے؟ سندھ میں کوٹا سسٹم ایم کیوایم نے لگا کر نسل کشی کی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 18 سال سے آپ لوگوں کی حکمرانی ہے، آپ اس طرح کے سانحات کا انتظار کرتے ہیں، ایم کیوایم کے میئر کے زمانے میں بھی آگ لگی ہے، بولٹن مارکیٹ میں لگی آگ کس کو یاد نہیں، وفاق اور ریاست کے اداروں سے کہتاہوں، یہ شہر اور کتنی قربانی دے، وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی شہر کیلیے کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ پیپلزپارٹی ناراض ہوجاتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس حکومت کو چلانے میں پیپلزپارٹی کی ضرورت ہےاور مر ہم رہے ہیں، ہمیں کوئی ٹائم بتا دیں ، بتا دیں کہ آپ کے شہر میں اتنے لوگ مزید مریں گے، ہمیں صبرآجائے، دنیا چاند پر جارہےہیں، کراچی میں بچے گٹر میں گرکر مرجاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج میں ریاست اور اس کے اداروں کو اور وزیراعظم کو آواز لگا کر کہنا چاہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ وزیراعظم بہت ساری چیزیں چاہتے ہوئے بھی شہر کے لیے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ پیپلز پارٹی ناراض ہوجاتی ہے اور ہم مجبور ہیں تو میں ریاست اور ان کے چلانے والوں کو کہنا چاہتا ہوں، بہت ہی عاجزی سے یہ پوچھنا اور آواز لگانا چاہتا ہوں کہ ریاست اس حکومت کو چلانے کے لیے اور کتنی قربانی دے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کی ضرورت تھی، تحریک عدم اعتماد کے لیے اس کی ضرورت تھی، اب اس حکومت چلانے کے لیے بھی اس کی ضرورت ہے تو قربانی کا بکرا ہم بن رہے ہیں، مر ہم رہے ہیں، یہ شہر مر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسے ہی کاٹ رہے ہیں، کراچی کا خون بہہ رہا ہے تو پورا پاکستان رس رہا ہے، لوگ مر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، یہ جمہوری دہشت گردی بند کریں،۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں ریاست چلانے والوں کو دو باتیں کہنا چاہتا ہوں کہ بس بہت ہوگیا، یہ نہیں سدھریں گے، میں ریاست سے مطالبہ اور اپیل کرتا ہوں کہ کراچی کو آرٹیکل 148 اور آرٹیکل 149 کے تحت فیڈرل ٹیریٹری کا حصہ بنایا جائے، اس کو ذوالفقار بھٹو کے آئین کے تحت پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے جب بنائیں گے، بنائیں، آج یہ کام اسی آئین میں رہتے ہوئے کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو چلانے والے کراچی کو ملک کا معاشی حب قرار دیں اور اس کو وفاق کے کنٹرول میں لیں۔