بنگلادیش کی حکومت ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے بھارت نہ جانے کے اپنے موقف پر ڈٹ گئی۔
ڈھاکا میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)، قومی کرکٹرز اور مشیر کھیل کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ بنگلادیش اپنے مؤقف پر بدستور برقرار ہے۔
بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں اور چاہتا ہے کہ اس کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام نے کہا کہ وہ اپنے منصوبے کے ساتھ دوبارہ آئی سی سی سے رجوع کریں گے۔
ان کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے 24 گھنٹوں کی مہلت دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایک عالمی ادارہ اس طرح کا دباؤ نہیں ڈال سکتا۔
امین الاسلام نے دعویٰ کیا کہ اگر بنگلادیش ورلڈ کپ سے باہر ہوا تو آئی سی سی تقریباً 20 کروڑ ناظرین سے محروم ہو جائے گا، جو اس کے لیے بڑا نقصان ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سری لنکا کو شریک میزبان کہنا درست نہیں بلکہ یہ ایک ہائبرڈ ماڈل ہے، جبکہ آئی سی سی اجلاس میں کچھ باتیں انتہائی حیران کن تھیں۔
دوسری جانب مشیر کھیل آصف نذرل نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئی سی سی بنگلادیش کو سری لنکا میں کھیلنے کی اجازت دے گا کیونکہ بھارت نہ جانے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز آئی سی سی نے بورڈ اجلاس کے بعد بنگلادیش کے سیکیورٹی خدشات مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر مؤقف برقرار رکھا گیا تو بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کسی اور ٹیم سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔