بورڈ آف پیس میں سوچ سمجھ کر شامل ہوئے، پاک فوج حماس یا کسی مسلمان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، عسکری ذرائع

پاکستان نے 8 بڑے اسلامی ممالک کے ساتھ ملکر مشاورت کی اور پھر بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کیا، صحافیوں کو بریفنگ


عامر الیاس رانا January 23, 2026

سیکیورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد بہت سوچ سمجھ کر کیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

’حماس کو غیر مسلح کرنا ہمارے لیے ریڈ لائن ہے‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، پاکستانی فوج فلسطین کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان صرف اپنے مفاد میں فیصلہ کرتا ہے،کیا ہم نے کشمیر پر سودے بازی کبھی نہیں کی۔

’بورڈ آف پیس میں شمولیت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا حکومت کا کام تھا‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ نے بہت سے ممالک کے متعلق بہت کچھ کہا۔  عسکری ذرائع نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے حکومت کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حماس اور حزب اللہ کے خلاف آئی ایس ایف میں پاکستان کی فوج نہیں جائے گی، اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کرتا رہا جس پر دنیا بھر میں مظاہرے بھی ہوئے مگر اسرائیل کو بربریت سے کوئی نہیں روک سکا اور پھر اس کو روکنے کے لئے سیاسی راستہ اختیار کیا گیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسائل ایک جیسے چل رہے ہیں، فلسطین مسلسل سکڑتا چلاجارہا ہے مگر ہم نے انڈیا کو ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک نے بہت عرق ریزی کے بعد پیس بورڈ میں شمولیت اختیار کی، ہم نے اسرائیل کی ڈٹ کر مخالفت کی، وہ تو اقوام متحدہ میں بھی بیٹھتا ہے، ایران پر بھی حملہ ہوا تو ہم نے ایران کا ساتھ دیا، بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف کے مینڈیٹ الگ الگ ہیں۔ 

عسکری ذرائع نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کا عارضی رکن بنا ہے، وہاں مسلم ممالک مل کر بات کرتے ہیں، غزہ کا مسئلہ سیاسی اور بات چیت سے ہی حل نکلے گا۔

’جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے بس فوج نے اپنی ان پٹ دی، سات مئی کو بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز کا میسج آیا ہم نے جو جواب دیا اس سے انہیں آگ لگ گئی تھی، پاکستانی فوج کا اپنا ایک فیصلہ ہے کہ ہم نے کیسے جواب دینا ہے اور ہم نے دیا۔

’10 مئی کی جنگ کا فیصلہ سویلین حکومت اور قیادت نے کیا‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں ہم نے انڈیا کے خلاف صرف سچ بولاتو ہمیں پذیرائی ملی، دس مئی کی جنگ کا فیصلہ سویلین حکومت اور لیڈرشپ نے کیا، ان کو کریڈٹ کیوں نہیں دیتے، ہم نے طے کیا ہے کہ صرف سچ بولیں گے اور کہانیاں نہیں سنائیں گے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ انڈیا کی خواہش ہے کراچی اور گوادرمیں بھی دہشت گردی ہو مگر پاک فوج اپنا کام کر رہی اور اسے مسلسل ناکام بنا رہی ہے۔

’ہمارے لوگ جاکر بھیک مانگیں گے تو یو اے ای روکے گا ہی‘

ایک سوال کے جواب میں عسکری ذرائع نے کہا کہ یواے اے اور انڈیا کے معاہدے سے کوئی مسئلہ نہیں، یو اے ای ہمارا بہت اچھا دوست ہے، ہمیں اس پر کوئی شک نہیں ہے مگر ہمارے لوگ وہاں جا کر بھیک مانگیں گے تو وہ روکیں گے ہی۔

عکسری ذرائع نے کہا کہ ہمارے بنگلہ دیش کے ساتھ پہلے کیسے تعلقات تھے اور اب کیسے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے، ہمارا دوست جہاں بیٹھا ہوگا وہاں کوئی غلط بات کرے گا تو ہمارا دوست بتائے گا ٹھیک کیا ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی، نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہورہے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ فوج کا معاملہ بیرونی ہے، معرکہ حق میں ہم نے لگی لپٹی رکھے بغیر کام کیا، آٹھ اور دس مئی کے درمیان بلوچستان میں دہشت گردی کے 33 حملے ہوئے، ہم نے معرکہ حق میں بھارتی اشتعال انگیزی کے باوجود بلوچستان سے ایک بھی فوجی نہیں نکالا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اپنا کام کریں گی، ، پنجاب اور سندھ میں دہشتگردی نہیں ہے تو وہاں کی حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی، وہاں 3300 ملازمین ہیں جو پورا نہیں اتر پارہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق فیصلہ عدالتوں ،صوبائی حکومتوں،جیل قوانین نے کرنا ہے،  سیاستدا ن اپنی جگہ خود بناتے ہیں جبکہ فوج کا کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ اپنا سرکاری تعلق ہے۔

’طالبان چوہوں کی طرح بھاگ گئے‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ افغان طالبان کو سمجھایا کہ وہ اسامہ کو ہماری حوالے کریں مگر وہ نہیں مانے، پھر جب حملہ ہوا تو چوہوں کی طرح بھاگ گئے، ہم نے حسن ظن میں طالبان کو اپنایا اور راستہ دیا پھر جب امریکی فوجی افغانستان سے چلے گئے تو انہوں نے پھر اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طالبان سے کہا ٹی ٹی پی کی قیادت کو ہمارے حوالے کر دیں مگر ان کا دین پیسہ بن گیاہے۔

’14 اور 15 اکتوبر کو جواب دینے کے بعد افغان طالبان کی تشکیل کم ہوگئی‘

عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں، یہ تو پختون ولی بھی نہیں کرتے، دس اکتوبرکوطالبان کو ہم نے بارڈر پر روکا تو انہوں نے ہماری چوکیوں پر حملہ کیا پھر 14 اور 15 اکتوبر کو ہم نے انہیں کابل اور قندھارمیں ٹھوکا جس کے بعد ان کی تشکیلوں میں کمی آئی، طالبان سب کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ کابل میں ایک جتھہ بیٹھا ہے جو اُن کی نمائندگی کرتا ہے۔

’آزاد کشمیر کے لوگ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ہیں‘

اس کے علاوہ عسکری ذرائع نے کہا کہ آزادکشمیر میں کلیئر کر لیں، کشمیر بنے گا پاکستان۔ آزادکشمیر کے لوگ ہم سے مطمئن ہیں اور وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ نہیں، ریاست نے آزادکشمیر میں سب سے زیادہ نوکریاں دیں جبکہ وہاں پر بجلی، آٹا سسبڈی کی وجہ سے سستا دیا جارہا ہے۔

پاکستانی فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے والے کے ذہنی مریض ہونے کے موقف پر قائم ہیں جبکہ ہم کسی جماعت کے حامی یا مخالف نہیں مگر جو پاکستان کے خلاف سوچے گا وہ نہیں چل سکتا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ پاکستان سے اوپر کسی کی ذات یا سیاست نہیں ہو سکتی اور یہ بات طے ہوچکی ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخو ا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت دو ہزار نوسو اڑسٹھ کیس زیر التواء ہیں، تین سال سے زیادہ عرصہ سے ٹوٹل چھ سو ستاتر اور صرف خیبرپختونخوا میں چھ سو اکیس کیسز التواء میں ہیں، کے پی کے پولیس بہت بہادر ہے مگر اسے فری ہینڈ ملے تو وہ کام کر سکتی ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا اسے نورولی محسود کے حوالے کر دیں؟ کے پی کے میں وزیراعلیٰ اورکورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر کی وزیراعلیٰ سے ملاقات روایت کا حصہ ہے اور ایسی ملاقاتیں ہر جگہ ہوتی ہے۔ عسکری ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیرمملکت داخلہ نے تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی اجازت سے ہونے کی بات ذمہ داری سے کہی۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کوبریفنگ کیلئے براہ راست کورکمانڈرسے نہیں بلکہ وفاقی حکومت سے بات کرنا ہوگی جس کے بعد وزارت دفاع فوج سے بات کرے گی تو بریفنگ کے متعلق فیصلہ کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے دہشت گردی سے متعلق مؤقف پر بات کی گئی ہے، ہم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سیاست یا ذات پرتنقید نہیں کی،پچھلے سال خیبرپختونخوا میں  1235شہادتیں ہوئیں، ہم ناقص گورننس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ نوے پولیس اہلکار فروری2023میں شہید ہوئے تو آرمی چیف نے قرآنی آیات سنا کر کہا کہ ان کو سولی پر لٹکانا چاہیے،صوبہ کہے آپریشن نہ کریں تو کیا ہم خارجی نور ولی محسود کے حوالے کر دیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ کیڈٹ کالج پر حملہ ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ وہاں کیوں نہیں جاتے؟ پولیٹیکل، ٹیرر، کرمنل نیکسز کی ہم بار بار بات کرتے ہیں کیونکہ یہ نیشنل ایکشن پلان کا پانچواں نکتہ ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، منشیات بھی دہشت گردی کی بڑی وجوہات ہیں جنہیں روکنا ہوگا، کسی کو سیاست، کاروبار یا دین کا لبادہ اڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

مقبول خبریں