پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینر بلال مندوخیل کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کابینہ ڈویژن سے متعلق سال 2010-11 اور 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کی جانب سے خلاف ضابطہ اور بلاجواز 5 لگژری گاڑیوں کی خریداری سے متعلق آڈٹ اعتراض، آڈٹ حکام نے کہا کہ گاڑیوں کی خریداری کے لئےبورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری بھی نہیں تھی اور پابندی کے دوران خریدی گئیں۔
سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ آڈٹ نے جو نشاندہی کی تھی وہ ساری باتیں درست تھیں، یہ اوریجنلی بجٹ نہیں تھا،بجٹ بورڈ منظور کرتا ہے، کچھ ریکوری ہوگئی ہے، جن افسران کا قصور ہے ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔
آڈٹ حکام نے کہا کہ انکوائری ہوئی تو پتہ چلا مس یوز بھی ہوئی ہے، رپورٹ جمع کرادی ہے، کمیٹی نے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔