راولپنڈی میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے ریپ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب کہ اصل ملزم چھوڑنے پر تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر تیمور وقاص کو معطل کر دیا گیا۔
خاتون پولیس آفیسر کو از سر نو تفتیش کرنے کا حکم جاری کردیا گیا، 15 سالہ گرفتار گھریلو ملازم عبد الوہاب کا ڈی این اے ٹیسٹ مکمل ہوگیا۔
ڈیوٹی سول جج طلال ارشد نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تفتیش مکمل ہوگئی۔
ملزم وہاب کے والد نے مقدمہ کی از سر نو تفتیش کی درخواست کی اور مؤقف اپنایا کہ میرا بیٹا 4 ماہ قبل ملازم ہوا لڑکی 7 ماہ کی پریگنیٹ ہے، پولیس نے اصل ملزم مالک کو چھوڑ کر میرے بیٹے کو پکڑ لیا۔
متاثرہ لڑکی زونیرہ، اس کی گارڈین غلام فاطمہ اور پہلا ملزم تینوں غائب ہوگئے، تھانہ صادق آباد پولیس نے مقدمہ 13 جنوری کو درج کیا۔
ڈیوٹی جج طلال ارشد نے ملزم کو 10 فروری کو چالان سمیت پیش کرنیکا حکم دیا۔
گھریلو ملازم ملزم کے ماموں نے تفتیشی آفیسر پر رشوت کا الزام لگا دیا اور کہا کہ تفتیشی آفیسر تیمور نے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے مجھ سے تھانہ میں 20 ہزار روپے لیے۔
ملزم کے ماموں شفیق نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ریپ کے اصل ملزم گھر کے مالک عدیل کو رشوت لے کر تفتیشی، متاثرہ لڑکی اور گارڈین نے چھوڑ دیا، لڑکی 7 ماہ کی پریگینیٹ میرا بھانجا 4 ماہ قبل ملازم ہوا۔
گرفتار ملزم کے ماموں محمد شفیق نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کرپشن بھانڈا پھوڑ دیا، حکام بالا نے رشوت وصولی کا سخت نوٹس لے کر تفتیشی آفیسر کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا۔