نئی دہلی: امریکا میں بدنامِ زمانہ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی نئی دستاویزات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے پر بھارت میں سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپسٹین سے مبینہ روابط پر قوم کو وضاحت دیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نریندر مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل کا دورہ کیا۔
کانگریس کے مطابق ای میل میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے مفاد کے لیے سرگرمیاں انجام دیں اور ایپسٹین نے مودی کے دورے کو "کامیاب" قرار دیا۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ مودی نے جون 2017 میں امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اس کے بعد جولائی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا، جبکہ ایپسٹین کی ای میل اس دورے کے چند روز بعد لکھی گئی۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بھارت کے قومی وقار اور عالمی ساکھ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے وزیراعظم کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ ایپسٹین سے کس نوعیت کا مشورہ لیتے رہے اور ان کے درمیان تعلقات کی حقیقت کیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم مودی کا جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ ایک حقیقت ہے، تاہم ایپسٹین سے منسوب ای میل میں درج دیگر تمام دعوے ایک سزا یافتہ مجرم کے بے بنیاد اور من گھڑت خیالات ہیں، جن کی کوئی حیثیت نہیں۔