مشال یوسفزئی ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی ہے وہ عمران خان کی خیرخواہ نہیں، علیمہ خان

مشال یوسف زئی اور شیر افضل کو علیمہ خان کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے


اسٹاف رپورٹر February 03, 2026

راولپنڈی:

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ مشال یوسف زئی جن کی ہدایات پر ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی ہے وہ ان کی ذمہ داری پوری کررہی ہے مجھے نہیں لگتا مشال یوسف زئی عمران خان کی خیرخواہ ہے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مشال اور شیر افضل کو علیمہ خان کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے، بانی نے جیل میں کہا تھا جاکے انہیں بتاؤ ایجنسیاں استعمال کرنے کے بعد کرش کردیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بانی کی میڈیکل رپورٹ کے بارے میں گزشتہ منگل کو اڈیالہ آکر پتا چلا، میں آج بھی پوچھ رہی ہوں یہ خبر کیسے لیک ہوئی کس نے کی؟ میں آج بھی کہتی ہوں یہ خبر توجہ ہٹانے کے لیے لیک کی گئی، سہیل آفریدی نے جمعرات کو دھرنے کا فیصلہ کیا تھا میں نے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں انہوں نے 8 فروری کے پروگرام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ہم اگر ان پر دباؤ نہیں ڈالیں گے یہ ہمارے ساتھ یہی کریں گے، ہمیں بانی کی ٹریٹمنٹ نہیں رہائی چاہیے، یہ خوف زدہ ہیں اسی لیے کہتے ہیں ملاقات نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ شیرازی اور مشاہد حسین سید کا پروگرام اسکرپٹڈ تھا، وہ خاتون اینکر نواز شریف کی گرفتار پر بہت زیادہ روئی تھی، مجھے کسی نے ان کے پروگرام کا کلپ بھیجا جس میں کہا گیا ترک صدر نے بانی کو ترکی بھیجنے کی آفر دی تھی، مشاہد حسین نے کہا اگر بانی ترکیہ چلے جاتے ہیں ہم نے معیشت اور دہشتگردی کو بھی ٹھیک کرنا ہے، مجھے بتائیں بانی کے ترکی جانے سے معیشت اور دہشت گردی کا کیا تعلق ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ بانی کی صحت سے متعلق ہمیں آج تک کسی نے کوئی اطلاع نہیں دی، بانی نے پہلے ایک مرتبہ آنکھ میں مسئلے کا ذکر کیا تھا، ہمارے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر عاصم نے بلڈ سیمپل لیا تھا لیکن جیل والوں نے روک دیا تھا، جیل انتظامیہ نے کہا تھا جو بھی ٹیسٹ ہوگا پمز میں ہوگا، ڈاکٹر عاصم سے جیل والوں نے بانی کی فائل لے لی تھی اس وقت پمز اسپتال میں ہمارے ایک ڈاکٹر گئے لیکن انہیں رپورٹ دکھائی تھی دی نہیں تھی بانی کی صحت کی حالیہ رپورٹ انہوں نے خود نکالی ہے اگر یہ رپورٹ جاری کرنے میں ملوث نہ ہوتے تو تین چار لوگ جن کے پاس یہ رپورٹ تھی معطل ہوچکے ہوتے یہ بانی کو اس لیے چھپا کر لے گئے یہ ڈرے ہوئے تھے بانی کو کچھ ہو نہ جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خبر لیک کیوں کی ہمیں بھی نہیں بتایا گیا کہ بانی کو اسپتال لے کرگئے تھے، سچ اور جھوٹ میں فرق پتا نہیں چلتا ہمیں سمجھ نہیں آئی کس پر یقین کریں، سنی سنائی خبریں ہمیں بھی ملی کہ بانی صحت مند تھے خوش دکھائی دے رہے تھے، ہم نے چیف جسٹس یحیی آفریدی سے مطالبہ کیا ہمیں میڈیکل رپورٹ دی جائے، سلمان اکرم راجہ کے ساتھ کمٹمنٹ کیا گیا کہ رپورٹ فراہم کردی جائے گی، ہمارے وکلاء بھی اڈیالہ پہنچے رپورٹ حاصل کرنے کے لیے، جیل انتظامیہ نے وکلاء کو کوئی لفٹ نہیں کرائی، ہمیں بانی کا میڈیکل چیک اپ چاہییے ان کے ذاتی معالج کے ساتھ، ہمارا مطالبہ ہے ڈاکٹر عاصم یوسف اپنے اسپیشلسٹ کی موجودگی میں بانی کی آنکھ کا معائنہ کریں، ہمارے ڈاکٹرز نے کہا ہے بہتر یہ رہے گا بانی کو الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ یہ ہمیں ڈنڈے ماریں جو مرضی کریں ہم بیٹھے رہیں گے، ان کا صرف ایک رول پر اعتراض ہے کہ سیاسی گفتگو نہ کریں، یہ لوگ باقی سب رولز بھول جاتے ہیں۔

علیمہ خان نے راولپنڈی جیل میں بشری بی بی سے  فیملی ممبران ملاقات کے بعد اڈیالہ روڈ پر دوسری مرتبہ میڈیا ٹاک کی اور کہا کہ آج منگل کا دن ہے بانی کی خبر لیک کروائی گئی کہ آنکھ کا سنجیدہ مسئلہ ہے، نظر آ رہا تھا کہ آج ملاقات ہوگی مگر نہیں کرائی گئی، نواز شریف کے ذاتی ڈاکٹر کو اجازت تھی سارا دن جیل میں ہوتا تھا، آج بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بھابی کی ملاقات ہوئی، ایک چھوٹی سے بات سامنے آئی کہ دو ہفتوں سے انکی بصارت متاثر تھی، انہیں بتایا گیا کہ اگر بانی کو بروقت چیک نہ کیا جاتا تو آنکھ ضائع ہوجاتی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے وکلا جیل کے باہر موجود رہے اجازت نہ ملی، جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری ہوئے، میڈیکل رپورٹ فیملی کو ابھی تک نہیں دی گئی، پٹیشن فائل کرنے جا رہے ہیں کہ دو لوگوں کی موجودگی میں ان کا میڈیکل ہو، آپ کیا کچھ چھپا رہے ہیں، ہم وزیراعلیٰ کے پی سے درخواست کریں گے کہ وہ آئیں، بہت ہوگئی، کارکنان بھی آئیں ساتھ کھڑے ہوں، بانی آپ کے لیے جیل میں ہیں آٹھ فروری کو پاکستان بند کریں ہمارا ووٹ چوری ہوا ورنہ کیا کیا یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا ؟

ان کا کہنا تھا کہ عاصمہ شیرازی کے ذریعے کلپ میں چلایا گیا بانی ملک سے چلا جائے،  بانی کے باہر آنے سے معیشیت اور دہشت گردی کو کنٹرول کیا جا سکے گا، لوگوں نے بانی کا ساتھ نہیں چھوڑا، کئی سو پولیس والے اس وقت یہاں آ چکے ہیں یہ سب کو کیسے جیل میں ڈال سکتے ہیں، کے پی کو بند کیا جائے پاکستان کو بند کیا جائے ان پر پریشر بنایا جائے بانی کو بچانے کیلئے سب کچھ کرنا ہوگا ان لوگوں پر اتنا دباؤ ڈالیں کہ وہ بانی کو رہا کریں، مجھے بھی اٹھا کر لے جائیں۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کو ڈرانے کیلئے لوگوں کی گاڑیاں توڑتے ہیں، ہم نے کہا جس کی گاڑیاں ٹوٹی ہیں ہم ٹھیک کروا کر دیں گے، بانی کے دور میں معیشت ترقی کر رہی تھی اب تو ڈوب رہی ہے بانی کو باہر نہ نکالا تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

مقبول خبریں