لاہور:
صوبائی دارالحکومت آج سخت حفاظتی انتظامات میں 3 روزہ ہائی رسک بسنت کیلیے تیار ہے۔ پنجاب اور دنیا بھر سے پتنگ باز پاکستانی شائقین لاہور پہنچے ہیں۔
2007 میں بسنت پر پابندی عائد کی گئی تاہم یکے بعد دیگرے حکومتیںاور حکام خونی ڈور کے باعث بڑھتے ہوئی ہلاکتو ں پر تہوار بحال کرنے کے فیصلے سے ہٹ گئے۔
یوں لاہوریوں کیلیے پتنگ بازی کی ایک عمدہ روایت سے کھلواڑ ہوتا رہا تاہم وزیر اعلی مریم نواز نے سیاسی مجبوریوں سے بے نیاز ہو کر بسنت کا تہوار بحال کیا۔
محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس سے لے کر احکامات کی حد تک انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں، پتنگ بازی کے سامان کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں۔
تاہم اس کے باوجود تہوار کے لیے جوش و خروش کم نہیں ہوا لیکن متوسط طبقہ قیمتیں بڑھنے سے متاثر ہوا ہے۔قیمتوں میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہونے کے باوجود لوگ اپنی پسند کی پتنگیں اور ڈور خریدنے کے لیے رجسٹرڈ ڈیلرز کے باہر قطار میں کھڑے رہے۔
ایونٹ کے لیے لاہور جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہوائی کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے منتظمین باربی کیو شیفز کو تلاش کرنے کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے۔
میلے کا مرکزی مرکز والڈ سٹی ہے، جہاں تقریباً 73 بڑی تقریبات کی منظوری دی گئی ہے۔والڈ سٹی کے باہر بھی آسمان پر پتنگیں اڑنے کی توقع ہے۔انہوں نے اسے لاہور اور پنجاب بھر کیلئے حقیقی عوامی پذیرائی کا عکاس قرار دیا۔
بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے وزراء خود انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں اورمسائل حل کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر بلال یٰسین مٹیریل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سرگرم رہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے رات گئے دیر گئے والڈ سٹی کا تفصیلی دورہ کیا تاکہ بسنت کے انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔