معروف مارننگ شو ہوسٹ ندا یاسر کو اپنے پروگرام میں بسنت اسپیشل سیگمنٹ کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یوں تو ندا یاسر گزشتہ تقریباً اٹھارہ برس سے یہ مارننگ شو کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی بڑی فین فالوونگ موجود ہے۔
وہ اکثر اپنے پروگرام میں مختلف سماجی اور ثقافتی موضوعات پر گفتگو کرتی ہیں تاہم بعض اوقات ان کے موضوعات اور انداز بحث تنازع کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔
حال ہی میں انھوں نے اپنے پروگرام میں لاہور میں ہونے والی بسنت کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک خصوصی سیگمنٹ رکھا۔
جس میں معروف کوریوگرافر نگاہ جی، اداکارہ سعدیہ امام، کرن خان، گلوکار جنید اور دیگر مہمان شریک ہوئے۔
پروگرام کے دوران بسنت کے حوالے سے گفتگو کی گئی اور ندا یاسر نے ایک پنجابی گانے پر ڈانس اسٹیپس بھی سیکھے۔
یہ پروگرام جمعہ کی صبح نشر ہوا جس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
اعتراض کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ ایسے تفریحی اور رقص کے مناظر جمعہ کے دن اور موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب نہیں۔
کچھ صارفین نے تبصرہ کیا کہ ملک میں مختلف مسائل اور سانحات جاری ہیں، ایسے میں جشن منانا حساسیت کے خلاف ہے۔
کئی تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ میزبان کو اپنے شو میں زیادہ بامقصد موضوعات کو جگہ دینی چاہیے۔
کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ملک کے دیگر اہم مسائل پر گفتگو کے بجائے بسنت جیسے موضوعات کو نمایاں کرنا درست نہیں۔
واضح رہے کہ آج نماز جمعہ کے دوران اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 30 سے زائد فراد جاں بحق اور 160 سے زائد زخمی ہیں۔