بھارت کے عالمی شہرت یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے ایک حالیہ بیان نے نام نہاد سیکولر فنکاروں کو بے نقاب کردیا جن کے تعصب زدہ ذہنیت نے معاملے کو مزید زہریلا بنادیا تھا۔
ایسے فنکاروں میں کنگنا رناوت سر فہرست ہیں جو پہلے ہی متنازع بیانات اور بی جے پی سے رکن منتخب ہونے کے بعد خبروں میں رہنے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں۔
کنگنا رناوت نے اے آر رحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک دشمن قرار دینے کی کوشش کی تھی کیوں کہ آسکر ایوارڈ موسیقار نے ان کی فلم ایمرجنسی میں گانے سے انکار کردیا تھا۔
اداکارہ کنگنا رناوت کے اس بیان پر کیرالہ لٹریچر فیسٹیول میں “اختلافِ رائے کو جرم بنانا” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معروف اداکار پرکاش راج، موسیقار اے آر رحمان کی حمایت میں سامنے آگئے۔
اداکار پرکاش راج کا کہنا تھا کہ عالمی شہرت یافتہ اے آر رحمان نے جب ماں تجھے سلام اور جے ہو جیسے نغمے دیے اور آسکر ایوارڈز جیتے تو سب نے ان پر فخر کیا، اس لیے انھیں اپنے کام کے لیے کسی سے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔
پرکاش راج نے کنگنا رناوت کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر کسی فنکار نے کسی فلم کے لیے کام کرنے سے انکار کیا تو کیا صرف اسی بنیاد پر اسے ملک دشمن قرار دینا درست ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ (کنگنا رناوت) اپنی فلم کو خود ہی کلاسک قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اداکار پرکاش راج نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی بناکر پیش کرنا اور غداری جیسے سنگین الزام لگانا افسوسناک رجحان ہے۔