پاک بھارت بات چیت کے عمل کو ممکن بنایا جائے

پاک بھارت تعلقات کیلئے جب بھی بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو بھارت کوئی بہانہ بنا کرمذاکراتی عمل کو سبوتاژکر دیتا ہے


Editorial August 22, 2014
پاک بھارت تعلقات کیلئے جب بھی بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو بھارت کوئی بہانہ بنا کرمذاکراتی عمل کو سبوتاژکر دیتا ہے. فوٹو: فائل

پاک بھارت تعلقات کے لیے جب بھی بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر دیتا ہے اور بہتری کی امید جو ان مذاکرات سے وابستہ کی جاتی ہے وہ ایک بار پھر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ بھارتی حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ وہ باہمی تنازعات کے حل سے طویل عرصے تک پہلو تہی نہیں کر سکتی مگر وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت بات چیت کے عمل کو کبھی کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سنجیدہ نہیں رہی اور یہ ہمیشہ بے سود اور بے نتیجہ ثابت ہوتے رہے۔

اب پھر جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کی آواز اٹھی تو بھارت نے حریت رہنما شبیر شاہ کی نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط سے ملاقات کو بہانہ بنا کر ان مذاکرات کو معطل کر دیا۔ کشمیری رہنمائوں کی پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ایسی ملاقاتیں واجپائی اور منموہن دور میں بھی ہوتی رہی ہیں مگر تب کسی حکومت نے اس پر واویلا نہیں مچایا، آخر اب ایسی کیا بات ہوگئی کہ مودی حکومت نے اس ملاقات پر ہنگامہ بپا کر دیا اور خارجہ سیکریٹری مذاکرات کو معطل کر دیا۔

کشمیر کے مسئلے پر ہونے والے مذاکرات میں کشمیری ایک اہم فریق ہیں اس لیے کشمیر کے بارے میں کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ان کی مرضی اور منشا کے بغیر اپنی وقعت نہیں رکھتا۔پاکستان بھی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتا جو کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس ہو۔

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے لہٰذا اس معاملے پر تمام فریقوں سے بات چیت کرنا ضروری ہے، کشمیری رہنمائوں سے ملاقات کا مقصد تمام فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا پرامن اور قابل عمل حل تلاش کرنا ہے، حریت رہنمائوں سے بات چیت کا عمل طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے اور اس میں نیا کچھ نہیں ہے۔

انھوں نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے عمل میں کشمیری جائز فریق ہیں پاکستان اپنے عہد کا پابند ہے اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان سیکریٹری سطح کی بات چیت کی منسوخی کے بارے میں کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری قیام امن کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ بھارت کی نئی حکومت مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کو ختم کر کے اسے بھارت کا مستقل حصہ بنانا چاہتی ہے اور وہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی حکومت سے مذاکرات کرنے یا اس خطے کو آزادی دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی، اپنی اسی پالیسی کے تحت وہ کشمیری رہنمائوں کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کو کسی طور پسند نہیں کر رہی۔

بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی ایسا موقف بھی سامنے نہیں آیا جس سے یہ واضح ہو سکے کہ وہ پاکستان کے ساتھ باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مستقبل میں کیا لائحہ عمل اپنائے گی۔ خارجہ سیکریٹری کی ملاقات منسوخ کیے جانے پر کشمیری رہنمائوں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے اس فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔

حریت رہنما شبیر شاہ کی پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات پر بھارتی حکومت کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے گزشتہ روز پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط سے ملاقات کی۔ میڈیا سے گفتگو میں سید علی گیلانی نے مذاکرات کی معطلی کے فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے پاکستانی سفارتخانے کے دورے کرتے رہے ہیں کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اسے حل ہونا چاہیے۔

اگر مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر کے اسے بزور قوت بھارت کا مستقل حصہ بنانے کی خواہاں ہے اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اور کشمیری اس کے اس فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور خطے میں انتشار مزید بڑھے گا جو بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے کیونکہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت حساس تنازعہ ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی جنگیں ہو چکی ہیں۔ کشمیر میں دونوں ممالک کی بڑی تعداد میں فوجیں موجود ہیں اور آج بھی کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ سے پورے خطے پر جنگ کی فضا چھا جاتی ہے۔

بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ جنگ سے یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو گا اور وہ کبھی ایک کشمیر کی خاطر پورے خطے کو ایٹمی جنگ سے ہونے والی تباہی کی نذر نہیں کرنا چاہیں گے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی بھارت کو ایک بڑی صنعتی قوت بنانا چاہتے ہیں' صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کا ایک طاقتور گروہ ان کی حمایت کر رہا ہے اس لیے بھارتی حکومت کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے اس خطے میں جنگ چھڑ جائے اور بھارتی صنعتی ترقی تباہی کی بھینٹ چڑھ جائے،ایسی صورت میں سرمایہ دار طبقہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دے گا اور مودی اقتدار خطرے میں پڑ جائے گا لہٰذا پاکستان کے ساتھ باہمی تنازعات حل کرنے کے لیے بالآخر اسے مذاکرات کا راستہ ہی اپنانا ہوگا۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے پاکستانی حکومت کے اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ماضی میں واجپائی حکومت نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے اب بھی موجودہ بھارتی حکومت اگر سنجیدگی اور خلوص کا مظاہرہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو کر نتیجہ خیز نہ ہو سکے۔

مقبول خبریں