مگر کون سمجھائے اور کسے سمجھائے

مسلمان ملکوں میں تو سیکڑوں ہزار لوگ ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے۔خاندان کے خاندان اجڑ گئے۔


Wasat Ullah Khan January 12, 2015

آپ لاکھ وضاحتیں کرتے پھریں یا دل میں سوچتے پھریں یا لاتعلقانہ رویہ اختیار کریں یا بات بدلنے کی کوشش کریں کہ چارلی ہیبڈو کے گیارہ صحافی اور کارکنوں کی ہلاکت کا ایک اشتعال انگیز پس منظر ہے۔ یہ بات چند یا ہزار یا لاکھ یا کروڑ مسلمانوں کی سمجھ میں تو آجائے گی مگر اس دنیا میں پچھترفیصد غیر مسلم بھی تو ہیں۔ان میں سے کتنوں کو پکڑ پکڑ کے سمجھائیں گے کہ ایکچوئلی بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔

ہاں ڈنمارک کے ایک اخبار نے ایسے کارٹون چھاپے جو کسی بھی مسلمان کے لیے اشتعال انگیز ہیں۔ہاں چارلی ہیبڈو میں بھی ایسے اشتعال انگیز کارٹون چھپتے رہے ہیں۔ ہاں ایک جرمن اخبار نے بھی ایسا ہی کیا۔ہاں مغرب میں کوئی بھی ماجھا ساجھا روزانہ اٹھ کے کوئی نہ کوئی توہین آمیز حرکت کردیتا ہے اور آیندہ بھی یہ سلسلہ رہے گا۔

تو اس کا حل کیا ہے ؟ جو بھی ایسی حرکت کرے اسے مار دیں ؟ تو کیا آپ کسی غیر مسلم سے بھی مقدس اسلامی شخصیات کے اتنے ہی احترام کی توقع رکھتے ہیں جتنا احترام ایک مسلمان کرتا ہے ؟ اور اگر کوئی غیر مسلم یہ نہ کرے تو اسے بھی وہی سزا ملنی چاہیے جو ایک مرتد کے لیے ہے ؟

یہی درست رویہ ہے تو پھر میں نبی کی سنت کہاں رکھوں ؟ جن مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ کی گلیوں میں آوازے کسے وہ کیسے زندہ بچ گئے ؟ جو عورت آپ پر گلی سے گذرتے ہوئے باقاعدگی سے کوڑا پھینکتی تھی اس کا کیا بنا؟(آپ تو اس کی عیادت کو بھی جاتے رہے۔کیوں؟)۔ جنہوں نے آپ پر طائف میں سنگ باری کرکے لہو لہان کردیا اور اس توہینِ رسالت پر تو خدا بھی کہے بغیر نہ رہ سکا کہ کہئیے توان ظالموں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں۔ تو پھر کیا دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ؟ کیا آپ میں سے کوئی ہے جنھیں یہ واقعات گھٹی میں نہ پلائے گئے ، کسی کلاس میں نہ پڑھائے گئے ، کسی نمازِ جمعہ سے پہلے لاکھوں بار نہ دھرائے گئے ؟ تو کیا سبق لیا سنتِ نبوی پر مر مٹنے والوں نے ان مثالوں سے ؟

مگر وہ تو نبی تھے اس لیے ان کا صبر بھی نبیوں والا تھا۔ ہم تو ان کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں۔ہم میں اتنا صبر کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ ہماری غیرت کیسے گوارا کرسکتی ہے کہ کوئی نبی کی توہین کرے اور ہم بیٹھے رہیں۔

اگر اس جواز کو من و عن قبول کرلیا جائے تو پھر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ مکہ میں آپ پر آوازے کسنے والوں کو اگر آپ کے سامنے نہیں تو آپ کے وصال کے بعد ہی کوئی صحابی یا خلیفہِ راشد چن چن کے مار دیتا۔کوئی اس غلاظت پھینکنے والی بڑھیا کی قبر کھود ڈالتا ، کوئی لشکر طائف کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا بھلے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو چکے ہوں۔ ایسا کیوں نہیں ہوا ؟ کیا جوش کی کمی تھی ؟ کیا رسول اللہ کی ذات سے صحابہ و تابعین کی محبت آج کے مسلمان کی محبت سے کم تھی ؟ یا پھر انھوں نے یہ سوچ کے غصہ پی لیا کہ کہیں ہم سے جانے انجانے سنتِ نبوی کی توہین نہ ہو جائے ؟

مگر یہ مٹھی بھر گمراہ لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔اکثریت کا ان کے افعال سے کوئی لینا دینا نہیں۔

حالانکہ یہ بات بالکل درست ہے مگر یہ بات اس دنیا کی غیر مسلم اکثریت کو آخر ہضم کیوں نہیں ہوتی۔اور جو آپ کی یہ وضاحت تسلیم بھی کرلیتے ہیں وہ پھر کیوں کہتے ہیں کہ تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن اکثر دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ؟ اور مسلمانوں کی اکثریت ان مٹھی بھروں کے سامنے اتنی بے بس کیوں؟آپ اپنا دین مسخ کرنے والوں کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کیوں نہیں کرتے ؟ انھیں دائرہِ اسلام سے باضابطہ خارج کیوں نہیں کرتے ( حالانکہ وہ تو آپ کو کب کا دائرہِ اسلام سے خارج کرچکے )۔پیرس میں تو صرف سترہ افراد کی ہلاکت کے خلاف تیس لاکھ لوگ سڑکوں پر آگئے۔

مسلمان ملکوں میں تو سیکڑوں ہزار لوگ ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے۔خاندان کے خاندان اجڑ گئے۔کیا کبھی ان کے خلاف کسی مسلمان ملک کے کسی شہر میں کسی روز ایک لاکھ لوگ بھی سڑکوں پر نکلے ؟ انھیں پناہ دینے والے کیا غیر مسلم ہیں ؟ ان سے سمجھوتے کرنے والے کیا خود کو مسلمان نہیں کہتے ؟ ان کی اعلانیہ یا دبے لفظوں میں حمایت کرنے والے یا دل میں نرم گوشہ رکھنے والے کیا مسلمان نہیں کہلاتے ؟

اگر کوئی ہندو ، عیسائی یا یہودی دہشت گردی کرے تو کوئی نہیں کہتا کہ یہ مذہبی دہشت گرد ہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا انفرادی فعل ہے۔لیکن مسلمان نام سنتے ہی گھنٹیاں بج جاتی ہیں دیکھو دیکھو یہ مسلمان ہے ، یہ اسلامی دہشت گرد ہے۔

ہاں یہی ہورہا ہے۔مگر یہ تاثر کیوں بنا ؟ نائن الیون کے بعد سے بالخصوص القاعدہ کے سبب دہشت گردی انٹرنیشنلائز ہوگئی، اس لیے یہ تاثر بنا۔ ہاں ہندو دہشت گرد بھی ہیں مگر اب تک کوئی ہندو دہشت گرد مغرب چھوڑ پاکستان میں بھی نہیں پھٹا البتہ بھارت میں ضرور ہندو دہشت گرد پکڑے گئے۔یہودیوں کی انفرادی دہشت گردی فی الحال اسرائیل اور فلسطین تک محدود ہے۔اب تک کوئی یہودی دہشت گرد سعودی عرب میں نہیں پکڑا گیا۔امریکی کرسچن ٹورنٹو میں نہیں اوکلاہوما میں بم پھاڑ رہا ہے اور سویڈش کرسچن سڈنی میں نہیں اسٹاک ہوم کے قریب ایک جزیرے میں ستر لوگوں کا قتلِ عام کررہا ہے۔

کسی ہندو ، یہودی اور کرسچن دہشت گرد نے یہ نعرہ نہیں لگایا کہ وہ پوری دنیا کو ہندو ، یہودی اور کرسچن بنا کے دم لے گا۔اگر غیر مسلم دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ سب اسلام کے نام پر ہو رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ازبک اشک آباد کے بجائے اسلام آباد میں پھٹ رہا ہے ، الجزائری بغداد میں پھٹ رہا ہے۔ سعودی نیویارک میں طیارہ ٹکرا رہا ہے ، مراکشی میڈرڈ میں ٹرین اڑا رہا ہے ، افغانی شام میں لڑ رہا ہے۔پاکستانی ممبئی میں فائرنگ کررہا ہے ، بریڈ فورڈ کا نوجوان لندن ٹیوب اسٹیشن میں بھی دھماکے کررہا ہے اور داعش کی طرف سے عراق میں یزیدیوں کو بھی یرغمال بنا رہا ہے۔

جس زمانے میں فلسطینی طیارے اغوا کررہے تھے ، کسی نے کہا کہ یہ مسلمان دہشت گردی ہے۔ آج بھی فلسطینی اسرائیل کی نظر میں مسلمان نہیں فلسطینی دہشت گرد ہیں۔ جب الجزائری فرانس سے لڑرہے تھے تو انھیں مسلمان دہشت گرد کیوں نہیں کہا گیا، الجزائری حریت پسند کیوں کہتے تھے۔کشمیر میں لڑنے والے بھارت کے نزدیک بھلے دہشت گرد ہوں لیکن کیا باقی دنیا حریت کانفرنس یا سید علی گیلانی کو اسلامی دہشت گرد کہتی ہے ؟ پیرس میں مسلمان دہشت گرد احمد کولیبائی نے مسلمان پولیس افسر احمد میرابت کو فٹ پاتھ پر مارا۔ کوشر مارکیٹ کے ایک مسلمان ملازم لسان بیتھلی نے یہودی گاہکوں کو کولڈ اسٹوریج میں بند کرکے بچایا۔پیرس کے مظاہرے میں ان دو مسلمان ہیروز کی تصاویر بھی بیسیوں مظاہرین کے ہاتھوں میں تھیں۔کیوں تھیں ؟

مسلمانوں میں انتہا پسندی اس لیے بڑھ رہی ہے کہ مغرب نے ان کے ساتھ شدید تاریخی و اقتصادی ناانصافی کی ہے۔

اگر یہ دلیل ہے تو پھر تو تمام سیاہ فام افریقہ کو بندوقیں لے کے مغرب پر چڑھ دوڑنا چاہیے۔ان سے زیادہ سیاسی ، اقتصادی و جغرافیائی و تاریخی ناانصافی تو کبھی کسی کے ساتھ ہوئی ہی نہیں اور آج تک ہورہی ہے مگر سوائے بوکو حرام اور صومالیہ کے الشہاب کے سب نے بے غیرتی کا کیپسول کھا رکھا ہے۔پورے لاطینی امریکا کو ریاستہائے متحدہ امریکا کو دھماکوں سے ہلا دینا چاہیے کیونکہ واشنگٹن سے زیادہ کس نے لاطینی امریکا کا لہوچوسا ہے۔سیکڑوں بوسنیائی مسلمانوں کو سینے پر بم باندھ کے روس میں ادھم مچا دینا چاہیے۔کیونکہ سرب قاتلوں کا سب سے بڑا پشتیبان یہ مردود روس ہی تو رہا ہے اور سب چیچنیائی مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے۔

اور جب جب مواقع آتے ہیں خود کو دہشت گردی سے الگ دکھانے کے تو انھیں بے حسی یا بے دردی میں ضایع کردیا جاتا ہے۔مثلاً پیرس میں اردن کے شاہ عبداللہ ، فلسطین ، مالی ، گیبون ، نائجیریا کے صدور اور امیرِ قطر کے بھائی کی عالمی یکجہتی مظاہرے میں موجودگی اتنی ضروری نہیں تھی جتنی کہ افغان صدر اشرف غنی ، عراقی وزیرِ اعظم حیدر العبادی اور پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کی تھی۔مگر کون سمجھائے ، کسے سمجھائے اور کیسے۔۔۔۔

مقبول خبریں