قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے پمز کے ڈاکٹر شاہد نواز دم توڑ گئے

14 فروری کوڈاکٹر شاہد نوازملک کو 2 نامعلوم افراد نے اسپتال میں گھس کر فائرنگ کر کے شدید زخمی کردیا تھا۔


Numaindgan Express February 21, 2015
14 فروری کوڈاکٹر شاہد نوازملک کو 2 نامعلوم افراد نے اسپتال میں گھس کر فائرنگ کر کے شدید زخمی کردیا تھا۔۔ فوٹو : فائل

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹرشاہد نوازملک 7روز زندگی اورموت کی کشمکش میںمبتلا رہنے کے بعدجمعے کودم توڑ گئے۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹومیڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر جاویداکرام نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ 14فروری کوڈاکٹر شاہد نوازملک کو 2نامعلوم افراد نے اس وقت سرمیں گولی ماری تھی جب وہ پرائیویٹ وارڈمیں ایک مریض چیک کرنے کے بعدگھر جانے کے لیے اپنی گاڑی کی طرف جارہے تھے۔ شاہدنواز ملک کوایک روزپمز میں زیرعلاج رکھنے کے بعدسی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ وینٹی لیٹرپر تھے۔

ترجمان پمزڈاکٹر نصیر نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرشاہد کی موت سرمیں گولی لگنے کے بعددماغ مردہ ہونے سے واقع ہوئی ہے۔ اسپتال ذرائع نے بتایاکہ ڈاکٹرشاہد کاامریکا میں علاج کے لیے رابطہ کیاگیا مگر امریکی ڈاکٹروں نے ان کاپاکستان میں ہی علاج جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف نے ڈاکٹر شاہدکے انتقال پرگہرے رنج وغم کااظہار کیاہے اورہدایت کی ہے کہ اسپتالوں، اسکولوں اوردیگر پبلک مقامات پربہتر سیکیورٹی کے اقدام کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات رونمانہ ہوں۔

سابق صدرزرداری، عمران خان، سراج الحق اوردیگر رہنماؤں نے بھی ڈاکٹرشاہد نوازکے انتقال پراظہار افسوس کیاہے۔ دریں اثنا پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورآصف زرداری نے ڈاکٹر شاہد نوازکی وفات پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ حکومت قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ انھوں نے مرحوم کی مغفرت اورلواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعاکی۔

مقبول خبریں