پاکستانی حکومت کی ایگزیکٹ کے فراڈ سے بے خبری نا قابل قبول ہے نیویارک ٹائمز

امریکی ایجنسیاں لط کاموں کو سختی سے روکنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے، اخبار کا مطالبہ


Monitoring Desk May 21, 2015
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ پاکستانی حکومت ایگزیکٹ کی جعل سازی کے بارے میں لاعلم تھی، فوٹو : فائل

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کانگریس سے ایگزیکٹ اسکینڈل پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اپنے اداریے میں اخبار نے لکھا ہے کہ وفاقی ایجنسیوں کو چاہیے کہ غلط کاموں کو سختی سے روکنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے۔ ایگزیکٹ اسکینڈل کے بارے میں تبصرہ کیا گیا ہے کہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ پاکستانی حکومت ایگزیکٹ کی جعل سازی کے بارے میں لاعلم تھی، اگر پاکستانی حکومت اس معاملے سے بے خبر بھی تھی تو اس کے پاس نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بعد ایگزیکٹ کے خلاف کارروائی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا۔ ایگزیکٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کی فروخت کا نیٹ ورک چلاتی ہے۔ یہ دھندا کئی سال سے جاری تھا اور ایگزیکٹ نے کروڑوں ڈالر کمائے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ڈکلن والش کی رپورٹ میں ایگزیکٹ کی 370 ویب سائٹس کی نشاندہی کی گئی۔

جعلی ڈگریوں کا کاروبار صرف ایگزٹ تک محدود نہیں تاہم ایک کمپنی کی طرف سے جعلی ڈگریوں کا اتنا بڑا نیٹ ورک چلائے جانے کا انکشاف امریکی کانگریس اور وفاقی اداروں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ جعل ساز کمپنیوں کے خلاف زیادہ جارحانہ کارروائی کریں۔ اداریے میں لکھا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 3300 سے زائد غیرمصدقہ آن لائن تعلیمی ادارے ہیں۔

ہر سال ڈاکٹریٹ کی 50 ہزار جعلی ڈگریاں جاری کی جاتی ہیں اور یہ تعداد اصل ڈگریوں سے بھی زیادہ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ کانگریس جو اب تک اس معاملے پر زیادہ متحرک نہیں تھی، اسے چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر مستقل بنیادوں پر توجہ دے، امریکی ایجنسیاں اس قسم کی دھوکہ دہی روکنے کے لیے منصوبہ تشکیل دیں۔

مقبول خبریں