ہمارے صوفی شاعر انسان دوستی کے چراغ

ہمارے اردگرد نفرت، ظلم، تشدد ناانصافی اور نا برابری کے سیکڑوں برس پرانے مگرمچھ پھرتے ہیں۔


Zahida Hina November 22, 2015
[email protected]

SAN FRANCISCO: ہمارے اردگرد نفرت، ظلم، تشدد ناانصافی اور نا برابری کے سیکڑوں برس پرانے مگرمچھ پھرتے ہیں۔ ان کے خوفناک جبڑے کھلے ہوئے ہیں اور وہ ہر لمحہ، ہم پر جھپٹ پڑنے اور ہمیں نگل جانے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ ان کے وجود کی سڑاند ہمارے ہوش و حواس اڑائے دیتی ہے اور ہم ان سے محفوظ رہنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں جی چاہتا ہے کہ ہم اپنے صوفیوں کی طرف دیکھیں جو ہمارے لیے وہ خیال اور وہ کلام چھوڑ گئے ہیں جن سے ہم اپنے باطن کی آلائشوں کو دھو سکتے ہیں اور جن کا پیغام دوسروں تک پہنچا کر ان کے دلوں کو بھی منقلب سکتے ہیں۔

ہر طرف جب نفرت، تعصب اور خوں ریزی کے شعلے لپک رہے ہوں تو لکھنے والوں کی ذمے داریاں پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہیں۔ برادرم انعام الحق جاوید نے اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے پاکستانی زبانوں کے صوفی شاعر، جیسی اہم کتاب مرتب کی ہے۔ انھوں نے اسے نصابی ضرورتوں کے تحت 1997 ء میں ترتیب دیا تھا لیکن آج کے ماحول میں اس کتاب کی اہمیت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے، اسی لیے انھوں نے اس میں چند اضافوں کے ساتھ دوبارہ سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔

یہ کتاب خواجہ میر درد کی صوفیانہ شاعری کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور بابا فریدؒ، شاہ حسین ، سلطان باہو ؒ، بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ، خواجہ فرید، رحمان بابا، امیر حمزہ شنواری، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، مست توکلی، تاج محمد تاجل، شیخ نورالدین رشی، علامہ نصیر ہونزائی اور سائیں غلام محی الدین قادری تک آتی ہے۔ پاکستان کی مختلف زبانوں کے ان شاعروں کا صوفیانہ کلام دل کو موم کرتا ہے۔

ان شاعروں کی زندگی اور کلام کے بارے میں ڈاکٹر محمود الرحمن، پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر شہباز ملک، پروفیسر ایس احمد سعید ہمدانی، ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد، ڈاکٹر سید اختر جعفری، ڈاکٹر طاہر تونسوی، پروفیسر ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک، ڈاکٹر یار محمد مغموم، جناب سید عابد مظہر، ڈاکٹر نواز علی شوق، جناب واحد بخش بزدار، جناب سوسن براہوئی، ڈاکٹر صابر آفاقی، ڈاکٹر شہناز سلیم، جناب عبدالواحد تبسّم جیسے ہمارے معروف ادیبوں نے اپنے قلم کا کمال دکھایا ہے۔

یہ مضامین جہاں تصوف کی باریکیوں کا احاطہ کرتے ہیں، وہیں اس بات کو بھی عیاں کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان سب کے رنگ ایک دوسرے سے آمیز ہو کر نادر و نایاب مرقع بن جاتے ہیں۔ اس بارے میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے یہ سوال اٹھا یا ہے کہ دنیا کا کون سا ملک ایسا ہے جہاں بہت سی زبانیں نہیں بولی جاتیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ: ''آج کے گلوبل ولیج میں ایک بھی ایسا ملک نہیں جہاں صرف ایک زبان بولی جاتی ہو۔ اس وقت دنیا کے 195 ممالک میں 6809 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کثیر اللسانی خطوں میں منقسم ہے۔

گل ہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن

اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

نیپال میں 70، انڈونیشیا میں 250، تنزانیہ میں 120 سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بھارت میں 733 کے قریب زبانیں مستعمل ہیں جن میں سے 18 بڑی زبانوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان میں زبانوں کی تعداد 56 کے قریب ہے جب کہ 18 زبانیں ایسی ہیں جن کا رسم الخط موجود ہے اور جن میں ادب تخلیق ہو رہا ہے۔

ان زبانوں میں اردو، بلوچی، براہوئی، پشتو، سندھی، سرائیکی، پنجابی، کشمیری، پہاڑی، گوجری، ہندکو، بلتی، شینا، کھوار، توروالی، گاؤری، بروشسکی اور وخی وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب زبانوں کے مختلف لہجے ہیں۔ لسانی جغرافیے ہیں اور ادبی سرمایہ ہے۔ ان میں سے ہر زبان اپنی ایک الگ اور منفرد شناخت کے ساتھ ساتھ اپنی ایک تاریخی اور ادبی حیثیت رکھتی ہے تاہم یہ زبانیں اپنے اندر بے شمار مشترک عناصر بھی رکھتی ہیں جو لسانی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے امین ہیں اور جنھیں مختلف حوالوں سے اجاگر کرتے رہنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔''

آج کے حالات میں رواداری اور دوست داری کے احساسات و جذبات کو پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انسان دوستی کا پیغام ہمیں اردو، پنجابی، سندھی، براہوئی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، ہندکو اور بروشس کی شعراء کے کلام میں ملتا ہے۔ ان شعرا کے پیغام کا احاطہ کرتے ہوئے مضمون نگار حضرات نے بعض انوکھے واقعات بھی لکھے ہیں۔

خواجہ میر درد کی صوفیانہ شاعری کا احاطہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود الرحمن نے لکھا ہے کہ ''خواجہ میر درد جس دلی کے باشندے تھے، وہیں ایک بوریا نشین بزرگ بھی رہا کرتے تھے، وہ کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا عیسائی، کیا سکھ سبھوں میں مقبول تھے۔ ایک روز ایک ہندو عورت پیشانی پر اوم کا ٹیکا لگائے، سر پر تھال رکھے، نہایت ادب کے ساتھ آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی:

''مہاراج! میں نے پاک پوتّر ہو کر یہ پکوان پکایا ہے۔ آپ کے لیے لائی ہوں۔ میری آشا ہے کہ آپ اسے کھا لیں تا کہ میرے من کو شانتی ملے۔''

یہ کہہ کر وہ آپ کے سامنے بیٹھ گئی اور تھال سامنے رکھ دیا۔ آپ نے ہاتھ بڑھایا اور ایک ٹکڑا لے کر کھا لیا ۔ وہ خوش خوش واپس چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد آپ کے ایک مرید نے کہا: ''حضرت! آپ نے کس طرح کھا لیا۔ آپ تو روزے سے ہیں''۔ وہ بزرگ مسکرائے اور کہنے لگے: ''کیا ہوا۔ ایک روزہ ہی توڑا ہے نا، ساٹھ روزے رکھ کر اس کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ اس عورت کا دل توڑتا تو پھر کیا کرتا۔''

اسی طرح میاں محمد بخش اور ان کی سیف الملوک پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے ڈاکٹر انعام الحق جاوید لکھتے ہیں کہ سیف الملوک کا قصہ کئی بزرگوں نے بیان کیا ہے۔ یہ کہانی الف لیلہ میں ملتی ہے اور کئی دوسری زبانوں میں بھی یہ داستان لکھی گئی یا ترجمہ کی گئی۔ محمد عمر نے اسے فارسی میں لکھا ۔

ملا غواصی نے دکنی میں اور عاجز بٹالوی نے اسے اردو میں نظم کیا۔ سندھی میں ''بدیع الجمال جو قصو'' لکھا گیا اور نعمت اللہ خان نے اسے پشتو میں نظم کیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی شاعروں نے کئی زبانوں میں اس قصے کو لکھ ڈالا، مگر کسی بھی زبان میں یہ قصہ وہ مقام حاصل نہیں کر پایا جو میاں محمد بخش کے پنجابی قصے کے حصے میں آیا۔

جہاں تک قصہ سیف الملوک کا جھیل سیف الملوک سے تعلق ہے، اس بارے بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ مثلاً مولوی لطف علی بہاولپوری کی سرائیکی زبان میں لکھی ہوئی سیف الملوک کے مرتب اور مترجم محمد بشیر احمد نظامی بہاولپوری اس کتاب کے صفحہ 28/29 پر اس تعلق کی خبر دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' بالاکوٹ سے جو شاہراہ وادی کاغان کی طرف جاتی ہے، اس شاہراہ پر سربفلک اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان ایک طلسماتی جھیل ہے جسے وہاں کے لوگ سیف الملوک کی جھیل کہتے ہیں۔ وہاں کے افسانہ گو کہتے ہیں کہ اس جھیل سے چین کے شہزادے سیف الملوک اور پری بدرالجمال (بدیع الجمال، بدیع البانوی) کی کہانی وابستہ ہے جو بہت عرصہ ہوا یہاں کسی کالے دیو کی قید میں تھی۔ چین کے شہزادے سیف الملوک نے ایک رات صاف اور شفاف کنول جیسی جھیل میں رہنے والی پری بدیع الجمال کو خواب میں دیکھا اور اس پر ہزار جان سے فریفتہ ہو گیا لیکن کالے دیو کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی اور وہ ان دونوں کی جان کا دشمن بن گیا۔

آخر دونوں دیو کے خوف سے فاران پہاڑ کے ایک غار میں جا چھپے جو اس جھیل سے کچھ فاصلے پر تھا۔ میری ناقص رائے میں قصہ سیف الملوک کے تمام شارحین کی کتب کا ماخذ اس طلسماتی جھیل سیف الملوک کی یہی کہانی ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ قدیم ہے اور ایک ایسے علاقے سے وابستہ ہے جس کی تہذیب و ثقافت ہمارے متمدن اور ترقی پذیر علاقہ جات سے بہت پرانی ہے۔ زبدۃ الجواب کا تیسرا افسانہ شہ پال بھی اس کتاب کے افسانوں کو مزید ہندی الاصل ظاہر کرتا ہے۔''

اس کتاب کے صفحوں پر سانس لیتی ہوئی پاکستانی زبانوں کے صوفی شعراء کے اشعار میں بھٹیارن ، تنبولن، دھوبن، لوہار، کسان، گاڑی بان، کمہار، نائی اور نان بائی کی آبادی ہے۔ ان کے دکھ سکھ ہیں، ان کا عشق اور اس عشق میں فنا ہو جانا ہے۔ یہ ہماری سرزمین کے کروڑوں انسانوں کی بیتی ہے۔

ان میں ظالم اور قاہر و جابر امیر اور وزیر ہیں، ان میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور بدھ مت کے ماننے والے ہیں لیکن صوفیوں کے دربار میں نام و نسب کی پوچھ نہیں اور اسلام اور کفر کا جھگڑا نہیں۔ ان کے اشعار میں رواداری ہے، عفو و درگزر ہے، کسی کے سینے میں انتقام کا دریا ٹھاٹھیں نہیں مارتا، سب انسان ہیں، مٹی کے پتلے۔ ان پتلوں میں سے روح پرواز کر جائے گی تو امیر اور فقیر مٹی میں مل جائیں گے۔ سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہو گئیں۔

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں ظالم اور مظلوم دونوں ہی خاک کی چادر اوڑھ کر سوئیں گے۔ آج ہم نفرتوں اور تعصبات کے جس گرداب میں گرفتار ہیں، اس سے نکلنے کا راستہ اس کتاب کے تمام مضمون نگاروں نے اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے دکھایا ہے۔ رواداری اور انسان دوستی کا چراغ جلانے سے بڑی نیکی اور کیا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں