پاکستان سے سیریز بھارت سری لنکا کومیزبان بنانے پررضا مند

وزارت خارجہ کو کلیئرنس کیلیے باقاعدہ خط لکھ دیا، اجازت ملنے کا انتظار کرنا ہوگا، بی سی سی آئی سیکریٹری انوراگ ٹھاکر


Sports Desk November 26, 2015
مکمل ٹور کی بجائے 3 ون ڈے اور 2 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ممکن ہوگا، مزید پیشرفت پر ای سی بی چیف جائلز کلارک ہی میڈیا کو آگاہ کریں گے، پی سی بی فوٹو:اےایف پی/فائل

بھارت نے پاکستان سے مجوزہ سیریز سری لنکا میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی، بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ہم نے اپنی حکومت سے آئی لینڈز میں گرین شرٹس سے میچز کھیلنے کیلیے اپنی حکومت سے کلیئرنس طلب کرلی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے وضاحت کی ہے کہ انھوں نے بھارت سے سیریز کیلیے حکومت سے این او سی نہیں مانگا ہے بلکہ دبئی میں جائلز کلارک کی موجودگی میں ہونے والی مفید بات چیت سے حکومت کو آگاہ کیا ہے، اسی طرح بی سی سی آئی کی جانب سے سیریز کے منافع کی تقسیم کی بھی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے، اس معاملے میں ہونے والی مزید ڈیولپمنٹ سے انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کلارک ہی میڈیا کو آگاہی دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ ماہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان مختصر سیریز کے سری لنکا میں انعقاد کا امکان روشن ہوتا جارہا ہے، بدھ کو بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما انوراگ ٹھاکر نے تصدیق کی ہے کہ گرین شرٹس سے سیریز ہمسایہ ملک سری لنکا میں منعقد ہوسکتی ہے۔

اس مقصد کیلیے ہم نے اپنی حکومت سے کلیئرنس طلب کی ہے، ٹھاکر نے گذشتہ دن چندی گڑھ میں مقامی اخبار کے تحت منعقدہ یوتھ فورم میں دیگر شخصیات کے ساتھ بات چیت میں کہا تھاکہ دونوں ملکوں میں سیریز کا انعقاد اسی صورت ممکن ہوگا جب سیاسی طور پر کلیئرنس ملے گی، انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ طے کرلینا چاہیے کہ یہ سیریز کو ن منعقد کرائے گا، آیا یہ بھارتی میڈیا، یہاں کے شہری، حکومت یا کرکٹ بورڈز منعقد کریں گے، ٹھاکر نے کہا کہ بھارتی ٹیم پاکستان کا سفر نہیں کرسکتی، وہاں ہمیں سیکیورٹی خدشات ہیں، کوئی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان نہیں آرہی ہے۔

میرے خیال میں ہمیں یہ مقابلے سری لنکا میں منعقد کرلینے پر کوئی پریشانی نہیں ہوگی،تاہم بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں بھارتی بورڈ سیکریٹری نے تصدیق کردی کہ انھوں نے پاکستان سے سیریز کے سری لنکا میں انعقاد کیلیے اپنی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے، اس مقصد کیلیے انھوں نے خط لکھ دیا ہے، اب گیند دونوں حکومتوں کے کورٹ میں ہے، ہمیں وہاں سے گرین سگنل کا انتظار کرنا ہوگا، انھوں نے بتایا کہ ہم نے اس بابت گذشتہ دن اپنی وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا ہے۔

جس میں ان سے کلیئرنس طلب کی گئی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان دستخط ہونیو الی مفاہمتی یادداشت کے مطابق اگر کسی ملک میں سیکیورٹی صورتحال بہتر نہ ہوں تو یہ مقابلے یواے ای یا دیگر نیوٹرل وینیو پر کھیلے جاسکتے ہیں، اس طرح اب یہ پاکستان پر بھی ہے کہ وہ کہاں کھیلناچاہتا ہے، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں ملکوں نے سری لنکا میں کھیلنے پر اتفاق کیا ہے۔

گذشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ اب اس سیریز کے انعقاد کا فیصلہ حکومتوں کے ہاتھ میں ہے، میں ذاتی طورپر نہیں جانتا کہ اس کی کلیئرنس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے، ہمارے وزیراعظم ( نواز شریف ) اس وقت سفر پر ہیں، وہ واپس آکر اس معاملے پر فیصلہ کرسکتے ہیں، ہم صرف انتظار ہی کرسکتے ہیں، بھارت کی جنوبی افریقہ سے جاری ہوم سیریز 7 دسمبر کو مکمل ہوگی، اس کے بعد ان کے دورئہ آسٹریلیا سے قبل باقی بچنے والے محدود وقت میں 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 2 ٹوئنٹی20 میچز کا انعقاد ہی ممکن ہے۔

اگرچہ ابتدائی پروگرام میں 5 ون ڈے، 2 ٹیسٹ اور ٹی20 میچز کھیلے جانا تھے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارت سے سیریز کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں پر اپنی وضاحت دی ہے، بورڈ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پی سی بی نے دبئی میں ہونے والی مفید بات چیت سے حکومت کو آگاہ کیا ہے، بورڈ نے اس معاملے پر حکومت سے کوئی این او سی طلب نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ حکومت کو اس پر کسی فیصلے پرزور دے رہا ہے۔

اسی طرح بی سی سی آئی بھی اس معاملے پر اپنی حکومت کی رائے جاننا چاہتا ہے، بورڈ کا مزید یہ بھی کہناتھا کہ مجوزہ سیریز کے منافع کی تقسیم کے حوالے سے ہمیں بھارتی بورڈ کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے، واضح رہے کہ گذشتہ دنوں اس حوالے سے میڈیامیں خبریں زیرگردش تھیں، تاہم پی سی بی معاملے کی نزاکت کے پیش نظر اسے میڈیا میں لانا نہیں چاہتا۔اس معاملے پر ہونے والی پیشرفت سے جائلز کلارک ہی میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

مقبول خبریں